← Al-Risala October 2012Al-Risala October 2012
ضمیر کی آزادی
Urdu · 7 min read
خدا کی تخلیقی اسکیم میں انسانی آزادی کے تصور کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ انسان کو اِس دنیا میں امتحان کے لیے رکھا گیاہے، اور آزادی کے بغیر امتحان ممکن نہیں۔ انسان کا مستقبل تمام تر اِس پر منحصر ہے کہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتاہے، یا وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتاہے۔ اگر انسان کی آزاد فکری پر روک لگادی جائے تو اس کے بعد امتحان کا تصور بے معنی ہو جاتاہے۔
قرآن میں واضح لفظوں میں ارشاد ہوا ہے: لا إکراہ فی الدین، قد تبین الرشد من الغیّ، فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقیٰ، لاانفصام لہا۔ واللہ سمیع علیم(256: 2) یعنی دین کے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں۔ ہدایت، گمراہی سے الگ ہوچکی ہے۔ پس جو شخص شیطان کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے، اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا جو ٹوٹنے والا نہیں۔ اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی طرح قرآن میں پیغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: فذکّر إنما أنت مذکّر۔ لستَ علیہم بمصیطر۔ إلا من تولی وکفر۔ فیعذبہ اللہ العذاب الأکبر۔ إن إلینا إیابہم۔ ثم إن علینا حسابہم(21-26: 88)یعنی (اے پیغمبر) تم بس یاد دہانی کرو، تم بس یاد دہانی کرنے والے ہو۔ تم اُن پر داروغہ نہیں۔ مگر جس شخص نے روگردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ اس کو بڑا عذاب دے گا۔ ہماری ہی طرف ہے ان کی واپسی، پھر ہمارے ہی ذمے ہے اُن کا حساب لینا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس طرح کی قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسان کو اِس بات کی کامل آزادی دی گئی ہے کہ وہ جس طرح چاہے، سوچے او ر جس طرح چاہے، بولے اور لکھے۔یہ آزادی انسان کو اُس وقت تک حاصل رہتی ہے جب تک کہ وہ دوسرے انسانوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ اسلام میں سماجی جرم (social crime) کا تصور ہے، مگر اسلام میں فکر ی جرم (thought crime) کا کوئی تصور نہیں۔
لندن سے 406 صفحات پر مشتمل ایک کتاب چھپی ہے۔ کتاب کا نام اور مصنف کانام یہ ہے:
Richard Dawkins, The God Delusion (2006)
کتاب کے مصنف نے افغانستان کے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے، جب کہ ایک افغانی شخص (عبد الرحمن) نے اپنا مذہب بدل دیا۔ اُس نے اسلام کو چھوڑ کر مسیحی مذہب اختیار کر لیا۔ اِس پر افغانستان کی عدالت میں اس کے لیے موت کی سزا سنائی گئی۔ اِس واقعے کا ذکر کرتے ہوئے مصنف نے لکھا ہے:
It is still an article of constitution of 'liberated' Afghanistan that the penalty for apostasy is death. Apostasy, remember, doesn't mean actual harm to persons or property. It is pure thought crime, to use George Orwell's 1984 terminology, and the official punishment for it under Islamic law is death. (p. 287)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یعنی اب بھی آزاد افغانستان کے قانون کا ایک حصہ یہ ہے کہ ارتداد کی سزا قتل ہے۔ یاد رکھئے کہ ارتداد کا مطلب کسی انسان کو یا کسی کی پراپرٹی کو حقیقی نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ 1984 میں انگلش آتھر جارج آرویل کی وضع کردہ اصطلاح کو لیتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک خالص ’فکری جرم‘ ہے، اور اسلام کے قانون کے مطابق، اِس جرم کی مسلّمہ سزا قتل ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ صرف غلط فہمی کا ایک معاملہ ہے۔ مصنف نے افغانستان میں ہونے والے ایک واقعے کا ذکر کیا ہے اور اُس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام میں ارتداد کی سزا قتل ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ اِس قانون کا کوئی تعلق اسلام سے نہیں۔ یہ بعد کے کچھ فقہا کا مسلک ہے، نہ کہ قرآن اور سنت کا مسلک۔ اسلام کے قانون کا مستند ماخذ صرف قرآن وسنت ہے، کوئی بھی دوسری چیز اسلام میں قانون کا ماخذ نہیں۔
جدید مغربی فکر میں آزادی کو خیر اعلیٰ (summum bonum) سمجھا جاتاہے۔ مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ آزادیٔ فکر کے بغیر کوئی ترقی نہیں ہوسکتی۔ اِس کے برعکس، وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں صرف محدود آزادی کا تصور ہے، اِس لیے اسلام دورِ جدید کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ یہ بات صرف غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں آزادی کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کہ مغربی تہذیب میں۔ اور یہ بالکل فطری بات ہے، کیوں کہ اسلام کے مطابق، انسان کو موجودہ دنیا میں امتحان (test) کے لیے رکھا گیاہے۔ امتحان کے لیے آزادی لازمی طورپر ضروری ہے۔ آزادی کے بغیر امتحان ممکن نہیں، اِس لیے آزادی خود خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کا ایک لازمی حصہ ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام میں آزادی ہر انسان کا مطلق حق ہے، لیکن وہ ایک شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ یہ شرط وہی ہے جو خود مغربی تہذیب کا مسلّمہ ہے، یعنی انسان کو آزادی صرف اپنے ذاتی دائرے میں حاصل ہے۔ آدمی کی آزادی اُس وقت ختم ہوجاتی ہے، جب کہ وہ دوسرے کے لیے ضرر رساں (harmful) بن جائے۔
اِس کے علاوہ، اسلام میں آزادی ایک اور لحاظ سے بھی ہے۔ خالق نے اِس دنیا میں ہر چیز کو امکان (potential)کے طور پر پیدا کیا۔ اِس امکان کو واقعہ بنانے کا کام انسان کو خود کرنا ہے۔ مثلاً خالق نے خام لوہا (ore) بنایا۔ خام لوہے کو مشین کی صورت دینا، یہ انسان کا اپنا کام ہے۔ یہ تمام تر ترقیاں صرف اُس وقت حاصل ہوسکتی ہیں جب کہ انسان کے اندر آزادانہ طورپر ذہنی سرگرمیاں جاری ہوں۔ اِس مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ انسان کو اِس دنیا میں کامل آزادی حاصل ہو۔
تاہم اسلام میں جرم کی دو قسمیں ہیں— جرم بہ مقابلہ انسان (crime vis-à-vis man) اور جرم بہ مقابلہ خدا (crime vis-à-vis God) ۔ دونوں کا معاملہ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جہاں تک انسان کا معاملہ ہے، ہر انسان کو دوسرے انسان کے مقابلے میں مکمل طورپر فکری آزادی حاصل ہے۔ اُس کا معاملہ صرف اُس وقت قابلِ مواخذہ یا قابلِ سزا (punishable) بنے گا، جب کہ وہ دوسرے انسان کے لیے عملی طورپر جارح بن جائے۔
مگر خدا کا معاملہ اِس سے مختلف ہے۔ کوئی شخص خدا کو عملی جراحت نہیں پہنچا سکتا۔ خداکے معاملے میں جرم یہ ہے کہ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف رویہ اختیار کرے، وہ خدا کی بتائی ہوئی صراطِ مستقیم کا اتباع نہ کرے۔ اِس میں یہ بھی شامل ہے کہ انسان خدا کے معاملے میں غلط عقیدہ بنائے۔ مثلاً خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانا، انسان کو خدا کا بیٹا قرار دینا، خدا کے پیغمبر کا انکار کرنا، وغیرہ۔ یہ سب چیزیں اگر چہ تھاٹ کرائم (thought crime) کی حیثیت رکھتی ہیں، لیکن وہ خدا کے نزدیک، قابلِ سزا کرائم (punishable crime) ہیں۔ ایسے لوگ اگر اِسی حال میں مریں تو بلاشبہہ وہ خداکی سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔لیکن جرم بہ مقابلۂ خدا کے معاملے میں، سزا کا اختیار صرف خدا کو ہے، جو کہ آخرت میں کسی انسان کو دی جائے گی۔ جرم بہ مقابلہ انسان کے بارے میں فیصلہ کرنا، انسانی عدالت کا کام ہے۔ لیکن جرم بہ مقابلہ خدا کا تعلق انسانی عدالت سے نہیں۔ ایسے معاملے میں انسان کو صرف پرامن دعوت وتبلیغ کاحق ہے، نہ کہ عملی سزا کا حق۔
اسلام میں آزادیٔ ضمیر (freedom of conscience)کی اہمیت اتنی ہی زیادہ ہے جتنی کہ کسی دوسرے نظامِ فکر میں۔ البتہ اسلامی نظامِ فکر اور سیکولر نظامِ فکر میں اِس اعتبار سے ایک فرق پایا جاتا ہے۔سیکولر نظامِ فکر میں آزادیٔ ضمیر کو مطلق (absolute) حیثیت حاصل ہے، یعنی سیکولر نظامِ فکر کے مطابق، ایک شخص کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز کو مطلق معنوں میں صداقت سمجھے، مگر اسلامی نظام فکر میں ایسا نہیں۔ اسلامی نظامِ فکر کے مطابق، صداقت (truth) کا معیار کسی کے ضمیر کی آواز نہیں ہے، بلکہ اس کا معیاروحی الٰہی ہے۔ جو تصور وحی الٰہی کے مطابق ہو، وہی درست تصور ہے۔ اور جو تصور وحی الٰہی سے مطابقت نہ رکھتا ہو، وہ انسان کا ذاتی واہمہ (obsession) یا کنڈیشننگ کا نتیجہ ہے، نہ کہ مطلق معنوں میں صداقت۔
آزادی ضمیر سے وابستہ یہ سوال بھی ہے کہ اظہارِ خیال کی آزادی کا حکم کیا ہے۔ اِس معاملے میں اسلام کا اصول یہ ہے کہ انسان کو اظہارِ خیال کی آزادی کا کلی حق حاصل ہے۔ آدمی جب تک دوسرے انسان کے لیے جارح نہ بنے، اس کو کامل معنوں میںاظہار خیال کی آزادی حاصل رہے گی۔مگر اسلام کے مطابق، انسانی زندگی کے دومرحلے ہیں— موت سے پہلے، اور موت کے بعد۔ اظہارِ خیال کی کامل آزادی کا حق صرف موت سے قبل کی دنیا کے لیے ہے۔ موت کے بعد کی دنیا میں خدا یہ فیصلہ کرے گا کہ کس نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا اور کس نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا۔ پھر اس کے بعد ہر ایک کے لیے اس کے دنیوی ریکارڈ کے مطابق، انعام یا سزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔