استانبول (ترکی) کے مشہور توپ کاپی پیلیس (Topkapi Palace)میوزیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کئی چیزیں موجود ہیں- مثلاً دو تلواریں، جبّہ، مقوقس کے نام آپ کا مکتوب، وغیرہ- سلطان سلیم نے اِن چیزوں کے لیے یہاں ایک مخصوص کمرہ بنوایاتھا- اِس کمرے میں وہ خود اپنے ہاتھ سے جھاڑو دیتے تھے- اِس کے علاوہ، انھوں نے اِس کمرے میں مختلف حفاظِ قرآن کو مقرر کیا تھا جو چوبیس گھنٹے یہاں قرآن کی تلاوت کرتے تھے- حفاظ کی ڈیوٹیاں مقرر تھیں- چناں چہ وہ باری باری یہاں آکر قرآن کی تلاوت کرتے رہتے تھے-
اِس قسم کی تلاوتِ قرآن صرف بعد کے زمانے کی پیداوار ہے- رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں اِس قسم کی تلاوتِ قرآن کا کوئی وجود نہ تھا- رسول اور اصحاب رسول، قرآن کو کتاب دعوت کے طور پر استعمال کرتےتھے، نہ کہ صرف کتاب تلاوت کے طورپر- حقیقت یہ ہے کہ قرآن رہنمائی کے لیے اترا ہے- وہ اس لیے نہیں اتارا گیا کہ اس کو ’’برکت‘‘ کے طورپر صبح وشام پڑھا جاتا رہے-
قرآن کے سلسلے میں اصل کرنے کا کام یہ ہے کہ اُس پر ایمان رکھنے والے اُس سے اپنی زندگی کے لیے رہنمائی حاصل کریں اور پھر دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ تیار کرکے اس کو تمام انسانوں تک پہنچائیں- اِن کے سوا قرآن کا کوئی بھی دوسرا استعمال کرنے سے اس کا حق ادا نہیں ہوسکتا- قرآن کا احترام کرنا یا قرآن کو خوب صورت کپڑے میں لپیٹ کر رکھنا، یا شب وروز قرآن کی تلاوت کرنا، اِس قسم کا کوئی بھی عمل قرآن کا حق ادا کرنے کے لیے کافی نہیں-
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ امت بعد کے زمانے میں قرآن کو کتابِ مہجور (25:30) بنادے گی- اِس کا مطلب یہی ہے-قرآن جب نہ کتاب ہدایت رہے اور نہ کتابِ دعوت، تو یہی وہ حالت ہے جس کو ’’کتاب مہجور‘‘ بنا دینا کہاگیا ہے — قرآن ;کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ اپنے لیے کتابِ ہدایت ہے اور دوسروں کے لیے کتابِ دعوت-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔