Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Al-Risala November 2014
Al-Risala November 2014

فقدانِ شخصیت، فقدانِ معرفت

Urdu · 5 min read

قوموں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کی مبالغہ آمیز تصویر بناتے ہیں، یہاںتک کہ ان کی شخصیتیں افسانوی شخصیت (legendary figure) کی حیثیت اختیار کرلیتی ہیں- یہی معاملہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر ہوا ہے- موجودہ زمانے کے مسلمانوں نے اپنی ماضی کی شخصیتوں کی مبالغہ آمیز تصویر بنا رکھی ہے- اِس کے نتیجے میں دو بڑا نقصان مسلمانوں کے حصے میں آیا ہے — ماضی کا ضرورت سے زیادہ اندازہ (overestimation) اور حال کا ضرورت سے کم اندازہ (underestimation) -

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے عام طورپر ایسا کرتے ہیں کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کو یاد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے موجودہ حالات کو بدلنے کی ایک ہی شکل ہے، وہ یہ کہ مسلمانوں کے اندر قدیم شخصیتیں دوبارہ پیدا ہوں، مگر اِس قسم کی باتیں خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں-

مثلاً مشہور عرب مورخ خیر الدین الزرکلی (وفات: 1976) نے ماضی کی مشہور مسلم شخصیتوں پر کئی جلدوں میں ایک کتاب تیار کی ہے، اس کا نام ہے: الأعلام- وہ مسلمانوں کے احیاءِ نو کا راز اِس میں سمجھتے تھے کہ ماضی جیسی مسلم شخصیتیں دوبارہ پیدا ہوں- چنانچہ انھوں نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ — صلاح الدین ایوبی کو ہمارے درمیان دوبارہ لے آؤ، حطین یا حطین جیسے معرکے دوبارہ گرم کرو:

unverifiedAttribution could not be verified automatically

ہاتِ صلاح الدین ثانیة فینا جدّدی حطّین أو شبہ حطّینا

خیر الدین الزرکلی کا یہ شعر صرف صاحبِ کلام کی زمانے سے کامل بے خبری کی ایک مثال ہے- آج کا زمانہ اور آج کے حالات ہر اعتبار سے بدل چکے ہیں- موجودہ زمانے میں کوئی کام کرنے کے لیے پہلی شرط بصیرتِ زمانہ ہے، نہ کہ صلاح الدین کا دوبارہ پیداہونا- حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں صلاح الدین ایوبی جیسی شخصیت کے لوگ پیدا ہوئے، مگر عملاً وہ کوئی نتیجہ خیز کام نہ کرسکے، کیوں کہ وہ بصیرتِ زمانہ سے بالکل بے خبر تھے- اس کی ایک مثال فلسطینی لیڈر یاسر عرفات (وفات: 2004) کی ہے- فطری صلاحیت کے اعتبار سے وہ گویا صلاح الدین ثانی تھے، مگر ساری قربانیوں کے باوجود وہ مکمل طورپر ناکام رہے-

اِسی طرح کی ایک مثال ڈاکٹر محمد اقبال کی ہے- انھوں نے شیخ احمد سرہندی کے بارے میں نہایت مبالغہ آمیز تصور قائم کر رکھا تھا- چناں چہ انھوں نے لکھا ہے کہ — مسلم ہندستان نے سب سے بڑا جو مذہبی عبقری پیدا کیا، شیخ احمد سرہندی تھے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The greatest religious genius produced by Muslim India was Shaikh Ahmad Sarhindi.

شیخ احمد سرہندی جیسی شخصیت تخلیق کے کارخانے میں بار بار پیدا ہوتی ہے- ایسا نہیں ہے کہ یہ مولڈ تخلیق کے کارخانے میں ختم ہوچکا ہے- مثال کے طورپر فطری صلاحیت کے اعتبار سے مولانا ابوالکلام آزاد اُسی درجے کی شخصیت تھے جس درجے کی شخصیت شیخ احمد سرہندی کی تھی- لیکن مولانا آزاد کوئی نتیجہ خیز کام نہ کرسکے- اِس کا سبب دونوں کے درمیان زمانی حالات کا فرق تھا-

مشہور مسلم دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازی (وفات: 2010) نے اپنے ایک مقالہ میں عہد ماضی کی مسلم شخصیتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: ’’اِس نظامِ تعلیم میں نواب سعد اللہ خاں بھی تیار ہوا جو مجدد الف ثانی کا کلاس فیلو تھا اور جو سلطنتِ مغلیہ کا وزیر اعظم بنا- وہ سلطنت ِ مغلیہ جو موجودہ افغانستان، پاکستان، ہندستان، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، سکّم، برما، اِن سب ریاستوں پر مشتمل تھی- اس کے نظام کو سعداللہ خان نے شاہ جہاں کے زمانے میں کامیابی کے ساتھ چلایا تھا‘‘- (ماہ نامہ الشریعہ، پاکستان، مارچ 2005، صفحہ: 14)

unverifiedAttribution could not be verified automatically

سعد اللہ خاں کوئی منفرد شخصیت نہیں تھے- اِس طرح کی شخصیتیں قدرت کے کارخانے میں بار بار پیدا ہوتی ہیں- مثلاً سید جمال الدین افغانی اپنی فطری صلاحیت کے اعتبار سے کسی بھی درجے میں کم نہ تھے- لیکن غیر معمولی سرگرمیوں کے باوجود وہ کوئی نتیجہ خیز کام نہ کرسکے- حقیقت یہ ہے کہ کارنامے کے معاملے میں کسی شخصیت کا حصہ ہمیشہ پچاس فی صد سے کم ہوتا ہے اور حالات کا حصہ ہمیشہ پچاس فی صد سے زیادہ-

موجودہ زمانے کے مسلم مقررین اور محررین کی یہ عام غلطی ہے کہ وہ اپنی ماضی کی شخصیتوں کا تصور ان کے حقیقی قد سے زیادہ (larger than life size) قائم کیے ہوئے ہیں- اِس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ شخصیتیں دوبارہ پیدا ہوجائیں تو موجودہ زمانے میں بھی وہ بڑے بڑے کارنامے انجام دے سکتی ہیں- مگر اِس قسم کا تصور مبالغہ آمیز خوش فہمی کے سوا اور کچھ نہیں-

اصل یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے دو دور ہیں — قدیم روایتی دور(ancient traditional age)، اور جدید سائنسی دور (modern scientific age)- دونوں دوروں میں ہر اعتبار سے نوعی فرق پایا جاتا ہے- یہ فرق اتنا زیادہ ہے کہ قدیم زمانے کا کوئی بڑے سے بڑا شخص اگر آج پیدا ہوتو وہ کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتا- ایسا آدمی آج کے حالات میں صرف بے جوڑ (misfit) ہو کر رہ جائے گا، اِس کے سوا اور کچھ نہیں-

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں کام کرنے کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ کام کرنے والے لوگ جدید دور کا گہرا مطالعہ کریں- وہ اپنے آپ کو جدید حالات کے اعتبار سے تیار کریں- وہ کامل معنوں میں بصیرِ زمانہ (بصیراً بزمانہ) بنیں- اِس کے بعد ہی وہ آج کے دور میں کوئی حقیقی کام انجام دے سکتے ہیں، خواہ تعلیم وتدریس کا معاملہ ہو یا تصنیف وتالیف کا معاملہ، خواہ ایک ادارہ چلانے کا معاملہ ہو یا حکومت چلانے کا معاملہ، امت کی اصلاح کا معاملہ ہو یا زمانے کی قیادت کا معاملہ، کسی سیمنار کو خطاب کرنے کا معاملہ ہو یا کسی انٹرنیشنل تنظیم کو خطاب کرنےکا معاملہ- غرض زندگی کا جو معاملہ بھی ہو، اس میں رہنمائی کرنے کے لیے دورِ جدید سے کامل واقفیت لازمی طورپر ضروری ہے- جو لوگ یہ واقفیت نہ رکھتے ہوں، وہ اگر جدید دور میں رہنمائی کا منصب سنبھالیں تو اُن کا انجام وہی ہوگا جس کو ایک شاعر نے اپنے اِس شعر میں بیان کیا ہے:

unverifiedAttribution could not be verified automatically

إذا کان الغراب رئیس قوم سیہدیہم إلى دار البوار

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content