Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala November 2014
Al-Risala November 2014

پیغمبرانہ ماڈل، تاریخی ماڈل

Urdu · 2 min read

موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ اپنے دورِ زوال میں ہے- آج کی یہ ایک اہم ضرورت ہے کہ امت کا احیا (revival) کیا جائے، لیکن اِس احیا کی لازمی شرط یہ ہے کہ یہ کام صحیح ماڈل کے مطابق کیا جائے- غلط ماڈل اختیارکرنے سے کبھی امت کا احیا نہیں ہوگا، خواہ ہزاروں سال تک اس کی کوشش کی جاتی رہے-

احیاءِ امت کا صحیح ماڈل صرف ایک ہے، اور وہ پیغمبرانہ ماڈل ہے- یہ ماڈل سنت کی صورت میں پوری طرح محفوظ ہے- ہم کو چاہیے کہ سنت ِ رسول کے اِس محفوظ ماڈل کو مطالعۂ کتب کے ذریعے دریافت کریں اور پھر اس کی روشنی میں امت کے احیا کا کام انجام دیں-

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں ہوئی- اس کے بعد امت ِ مسلمہ کی ایک تاریخ بنی- یہ تاریخ ہزار سال سے زیادہ مدت پر پھیلی ہوئی ہے- بدقسمتی سے ایسا ہوا کہ ہر مسلم اہلِ علم نے اِس تاریخ کو نہایت مبالغہ آمیز انداز میں دہرایا- بعد کے زمانے میں لکھی جانے والی کتابیں سب کی سب تاریخ امت کی مبالغہ آمیز تصویر کشی کرتی رہیں- اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شعوری یا غیر شعوری طورپر امت کے ذہن سے پیغمبرانہ ماڈل پسِ پشت چلا گیا اور تاریخی ماڈل ایک شان دار یاد کے طورپر ہرمسلمان کے دل میں نقش ہوگیا-

اِسی صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ آج جو شخص احیائِ امت کے لیے اٹھتا ہے، وہ بظاہر اگرچہ اسلام کا نام لیتا ہے، لیکن عملاً مسلم تاریخ کا احیا اس کا نشانہ بن جاتا ہے-

موجودہ زمانے میں احیاءِ امت کی تمام تحریکوں کا یہی انجام ہوا ہے- اِن میں سے کوئی مسلم دورِ حکومت کے احیا کی بات کرتا ہے اور کوئی مسلم تہذیب کے احیا کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے، کوئی شرعی قانون کے نفاذ میں مسلم احیا کا راز بتاتا ہے، کوئی جہاد کے نام پر تشدد کلچر پھیلائے ہوئے ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کا احیا کررہاہے، وغیرہ-

اِس قسم کی تحریکیں موجودہ زمانے میں بہت بڑے پیمانے پر اٹھیں، مگر ہنگامہ خیز جدوجہد کے باوجود وہ عملاً ناکام ثابت ہوئیں- اِس ناکامی کا سبب صرف ایک تھا، وہ یہ کہ اِن تحریکوں کو اللہ کی نصرت حاصل نہیں ہوئی- نصرتِ خداوندی سے محرومی کا سبب مشترک طورپر یہ تھا کہ یہ سب کی سب تحریکیں تاریخی ماڈل کو لے کر کھڑی ہوئیں- اُن میں سے کوئی بھی تحریک حقیقی طورپر پیغمبرانہ ماڈل کو لے کر نہیں اٹھی-

پیغمبرانہ ماڈل اور تاریخی ماڈل کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ پیغمبرانہ ماڈل مبنی بردعوت ماڈل ہوتا ہے- اِس کے برعکس، تاریخی ماڈل مبنی بر سیاست، مبنی برتہذیب، مبنی بر قومیت ہوتاہے- اِس دنیا میں کوئی تحریک اللہ کی نصرت سے کامیاب ہوتی ہے اور اللہ کی نصرت صرف پیغمبرانہ ماڈل پر آتی ہے، کسی اور ماڈل پر اللہ کی نصرت کبھی آنے والی نہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.