Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Al-Risala November 2014
Al-Risala November 2014

صحبت ِ رسول

Urdu · 3 min read

ایک عالم نے کہا ہے : مَن کان فی بیتہ مجموعۃٌ من الأحادیث، فکأنما فیہ نبیٌّ یتکلّم (جس آدمی کے گھر میںحدیثِ رسول کا ایک مجموعہ موجود ہو تو گویا کہ اُس گھر میں کلام کرتا ہوا ایک پیغمبر موجود ہے)۔

other sourceWords of another person or source

اِس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص سچے جذبے کے ساتھ حدیث کی کتاب کو کھولے گا، اور اُس میں موجود اقوالِ رسول کو پڑھے گا تو اُس کو محسوس ہوگا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے ہم کلام ہو کر اُس کو براہِ راست نصیحت کررہے ہیں۔

یہی معاملہ صحبت ِ رسول کا بھی ہے۔ اگر آدمی کے اندر سچی اسپرٹ زندہ ہو، اور اُس کے اندر صحیح معنوں میں اتّباعِ رسول کا جذبہ موجود ہو تو آج بھی وہ صحبت ِ رسول کا تجربہ کرسکتا ہے۔

مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ آپ اپنے دشمن سے نفرت نہیںکرتے تھے، بلکہ آپ اُس کے ساتھ اعلیٰ انسانی سلوک کرتے تھے، اور اُس کی ہدایت کے لیے خدا سے دعا کرتے تھے۔ اب اگر آپ کا کوئی دشمن ہو، مگر آپ اُس کے ساتھ جوابی دشمنی نہ کریں، بلکہ یہ سوچیں کہ رسول اللہ نے اپنے دشمن کے ساتھ جو سلوک کیا تھا، وہی سلوک مجھ کو بھی اپنے دشمن کے ساتھ کرنا چاہیے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس طرح سوچ کر جب آپ اپنے دشمن کے ساتھ پیغمبر والا برتاؤ کریں تو اُس وقت آپ کو رسول اللہ کے ساتھ ایک خاص نسبت حاصل ہوجائے گی۔ آپ اپنی سوچ اور جذبات کے اعتبار سے، رسول اللہ کے ساتھ خصوصی مناسبت محسوس کرنے لگیں گے۔ یہاںتک کہ یہ جذبہ اتنا ترقی کرے گا کہ آپ کو محسوس ہوگا کہ زمانی دوری ختم ہوگئی ہے اور آپ گویا کہ رسول اللہ کی صحبت میں پہنچ گئے ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک فطری حقیقت ہے، اور کوئی بھی شخص کسی بھی مقام پر اس کا تجربہ کرسکتا ہے۔

اسی طرح رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے مخالفین کی طرف سے نہایت نازیبا سلوک کیا گیا ۔ مثلاً آپ کو مجنوں کہا گیا ۔ آپ کو مذَمَّم کہاگیا ۔ آپ کو ساحر اور کذّاب کہا گیا، وغیرہ، لیکن آپ نے کبھی ایسے لوگوں کو منفی جواب نہیں دیا۔ آپ نے اس کے خلاف نہ شکایت کی، نہ احتجاج، بلکہ آپ ایسے لوگوں کے لیے خدا سے دعا کرتے رہے۔ اب اگر کسی کو اِس قسم کا منفی تجربہ ہو،مگر وہ دل کی پوری آمادگی کے ساتھ رسول اللہ کے طریقے کو اختیار کرلے تو ایسے موقع پر اُس کے اندرمخصوص جذبات ابھریں گے۔ وہ اپنے اندر رسول اللہ کے ساتھ ایک خاص تعلق محسوس کرے گا۔ وہ صحبت ِ رسول کا تجربہ کرنے لگے گا۔

صحبت ِ رسول کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ، جسمانی صحبت(physical companionship) اور دوسری ہے روحانی یا نفسیاتی صحبت (psychological companionship)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم عصر اہلِ ایمان کو آپ کے ساتھ جسمانی صحبت حاصل ہوئی، لیکن بعد کے زمانے کے اہلِ ایمان کو بھی آپ کی روحانی یا نفسیاتی صحبت حاصل ہوسکتی ہے، بشرطیکہ وہ اُس کی شرط کو پورا کریں، اور وہ ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گہری مزاجی مناسبت۔

صحبت صرف ساتھ بیٹھنے کانام نہیں ہے ، بلکہ اس کا مدار تمام تر مزاجی مناسبت پر ہے- دورِ اول میں بھی اِس کی واضح مثالیں ملتی ہیں- اُس وقت اسلام قبول کرنے والوں میں جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مزاجی مناسبت رکھتے تھے، ان کو آپ کی صحبت کا فائدہ ملا- اور جو لوگ آپ سے مزاجی مناسبت نہیں رکھتے تھے، وہ بظاہر آپ سے قریب ہونے کے باوجود صحبت کے فائدےسے محروم رہے- سچے صحابہ اور منافقین کے درمیان جو فرق ہے، وہ اِسی بنا پر ہے- سچے صحابہ کے اندر رسول اللہ سے مزاجی مناسبت تھی، اِس لیے ان کو صحبت ِ رسول کا پورا فائدہ ملا، اور منافقین کے اندر یہ مزاجی مناسبت موجود نہ تھی، اِس لیے وہ رسول اللہ سے قریب رہتے ہوئے بھی صحبت ِ رسول کے حقیقی فائدے سے محروم رہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content