← Al-Risala November 2014Al-Risala November 2014
دورِ جدید کا مسئلہ
Urdu · 4 min read
دورِ جدید (modern age) کا ظہور اچانک نہیں ہوا- دورِ جدید دراصل ایک لمبے تاریخی عمل (historical process) کا نقطۂ انتہا (culmination) تھا- یہ تاریخی عمل ساتویں صدی عیسوی میںاسلامی انقلاب کے بعد شروع ہوا اور بیسویں صدی عیسوی میں وہ اپنی تکمیل تک پہنچا- جدید دور ہی کو دوسرے الفاظ میں، جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے- اِس اعتبار سے جدید تہذیب ایک موافقِ اسلام تہذیب تھی، نہ کہ مخالف ِ اسلام تہذیب-
جدید تہذیب کے موافقِ اسلام ہونے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس کے تمام اجزا اپنی تمام تفصیل کے ساتھ عین اسلامی تعلیمات کے مطابق ہیں- حقیقت یہ ہے کہ اِس دنیا میں جب بھی کوئی انقلاب آتا ہے تو وہ اِس طرح نہیں آتا کہ انسانی آزادی(human freedom) کو مکمل طورپر حذف کردیا جائے- حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انقلاب معیاری انقلاب نہیں ہوتا- انقلاب کی قدروقیمت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اِس حقیقت کو سامنے رکھا جائے کہ اس کے کچھ اجزا حقیقی ہوتے ہیں اور کچھ اجزا وہ ہوتے ہیں جو انسانی آزادی کی بنا پر اس کے اندر شامل ہوجاتے ہیں-
اِس معاملے میںاسلامی انقلاب کا بھی کوئی استثناء (exception) نہیں- ساتویں اور آٹھویں صدی میں جو اسلامی انقلاب آیا، اس نے تاریخ انسانی کو بہت سے قیمتی تحفے دئے- مثلاً شرک کے دور کو ختم کرکے توحید کے دور کو دنیا میں لانا- تاہم اسلامی انقلاب میں بھی زمانی اسباب کے تحت ایسے اجزا شامل ہوگئے جو معیارِ مطلوب کے مطابق نہ تھے- مثلاً شُورائی خلافت کی جگہ خاندانی حکمرانی (dynasty) کا قائم ہوجانا- اسلام کے نام پر باہمی لڑائیاں، وغیرہ- اسلام کا ظہور بلاشبہہ تاریخِ بشری کے لیے ایک نعمت کا ظہور تھا- لیکن اِس نعمت کو حقیقی طورپر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی تاریخ کواُن اجزا سے الگ کرکے دیکھا جائے جو خداداد انسانی آزادی کی بنا پر اس کے اندر شامل ہوگئے-
ٹھیک یہی معاملہ جدید مغربی تہذیب کا بھی ہے- جدید مغربی تہذیب نے انسانی تاریخ کو بہت بڑی بڑی چیزیں عطا کیں، جو اِس سے پہلے کبھی انسان کو حاصل نہ تھیں- مثلاً فطرت میں چھپے ہوئے قوانین (natural laws) کو دریافت کرنا، سیاسی زندگی میں بادشاہت کے بجائے جمہوریت کو رواج دینا، انسانی زندگی سے مذہبی جبر کو ختم کرنا، علمی مطالعے کے لیے سائنسی طریقہ (scientific method) کو رواج دینا، عالمی مسائل کے لیے اقوامِ متحدہ کی صورت میں ایک انٹرنیشنل فورم کا قیام، ایسے نئے علوم کا رواج جو اسلام کے لیے بے حد مفید تھے- مثلاً حفریات (excavation)، وغیرہ-
لیکن مغربی تہذیب جب دنیا میں آئی تو وہ اِس طرح نہیں آئی کہ انسانی آزادی حذف ہوگئی- اس کے ساتھ فطری طورپر مطلوب اجزا کے ساتھ ایسے غیر مطلوب اجزا بھی شامل تھے، جو اصلاً خود تہذیب کا حصہ نہ تھے، مگر انسانی آزادی کی بنا پر بظاہر وہ اس کا حصہ بن گئے- مثلاً سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے لیے لڑائیاں، انسان کے مادہ پرستانہ مزاج کی بنا پر پیدا ہونے والے مفاسد، استغلال (exploitation)، شخصی اور قومی مفاد (interest) سے پیدا ہونے والی برائیاں، وغیر ہ- مغربی تہذیب کے اندازہ (evaluation) کے لیے ضروری ہے کہ اِس پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے مغربی تہذیب کا مطالعہ کیا جائے، ورنہ مطالعہ کرنے والا منصفانہ مطالعہ کرنے سے قاصر رہے گا-
مغربی تہذیب کے ظہور کے بعد جو حالات پیداہوئے، اُن کو اگر خالص معیار (ideal) کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کے کچھ اجزا یقیناً مطلوب اجزا نظر آئیں گے اور کچھ اجزا غیر مطلوب- مگر اِن تمام اجزا کو ایک فہرست میں شامل کرکے اگریہ کہا جائے کہ یہ مغرب کا ایجنڈا ہے تو یہ ایک غیرفطری تجزیہ ہوگا- اگر ایجنڈے کے نظریے کو اصولی طور پر درست مان لیاجائے تو عین یہی تبصرہ اسلام کی تاریخ پر صادق آجائے گا- ایک مبصر یہ کہہ سکتا ہے کہ اسلام اگرچہ توحید کاعلم بردارتھا، لیکن اس کے ایجنڈے میں یہ بھی شامل تھا کہ خلافت کے نام پر خاندانی حکمرانی قائم کی جائے، اسلام کی مختلف تعبیرات کرکے لوگ آپس میں لڑائیاں کریں، دار الاسلام اور در الکفر کا نظریہ وضع کر کے غیرمسلم اقوام کے خلاف نفرت کلچر پیدا کیا جائے، وغیرہ-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
ایک عالم کا مشہور قول ہے: خذ ما صفا ودع ماکدر- اس قول میں روایتی الفاظ میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا، یعنی انسانی زندگی یا انسانی انقلاب میں ہمیشہ ایسا ہوگا کہ اس کے کچھ اجزا مطلوب اجزا ہوں گے اور کچھ اجزا غیر مطلوب اجزا- مطلوب اجزا وہ ہوں گے جو معیار سے مطابقت رکھتے ہوں، اور غیر مطلوب اجزا وہ ہوں گے جو انسانی آزادی کی بنا پر اس میں شامل ہوجائیں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اصل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اِس دنیا میں انسان کو آزادانہ اختیار (free choice) کا حق دیا ہے- انسان کا یہ حق قیامت تک منسوخ ہونے والا نہیں- اِس آزادی کو قرآن میں امانت (33:72) کہاگیا ہے- انسان کو اختیار ہے کہ وہ اِس خداداد آزادی کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرے، خواہ دوسروں کی نظر میں وہ صحیح ہو یا غلط- انسانی زندگی کے تمام واقعات میں انسانی آزادی کے یہ اجزا ہمیشہ شامل رہتے ہیں، حتی کہ اسلام کے ظہور کے بعد امتِ مسلمہ کی تاریخ میں بھی- تاریخ انسانی کے مطالعے کے معاملےمیں اِس نکتے کی بے حد اہمیت ہے- جو لوگ اِس نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے انسانی تاریخ کا تجزیہ کریں، وہ صحیح نتائج تک پہنچیں گے، اور جو لوگ اِس نکتے کو ملحوظ رکھے بغیر انسانی تاریخ کا تجزیہ کریں، وہ کبھی انسانی تاریخ کے معاملے میں صحیح نتائج تک نہیں پہنچ سکتے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it