← Al-Risala November 2014Al-Risala November 2014
مغرب کا ایجنڈا
Urdu · 3 min read
موجودہ زمانے کے علماء اور مسلم دانشور عام طورپر یہ سمجھتے ہیں کہ دنیائے اسلام کے بارے میں مغرب کا ایک ایجنڈا ہے اور اِس ایجنڈے کو وہ پوری طاقت کے ساتھ نافذ کررہا ہے- اِس سلسلے میں بطور مثال یہاں ایک حوالہ نقل کیاجاتا ہے- یہ حوالہ موجودہ مسلم دنیا کے مشہور دانشور ڈاکٹر محمود احمد غازی (وفات: 2010) کا ہے- انھوں نے الشریعہ اکیڈمی، گوجرانوالہ، پاکستان کے تحت ایک محاضرے میں بتایا کہ 2003 میں وہ جرمنی کی ایک کانفرنس میں شریک ہوئے- اِس کا عنوان یہ تھا:
Is Islam a Threat to the West and Europe?
اِس کانفرنس میں ڈاکٹر محمود احمد غازی نے کہا کہ مسلم مفکرین کی بڑی تعداد کا نقطہ نظر مغرب کے بارے میں یہ ہے کہ اس کے مثبت پہلوؤں سے مسلمانوں کو استفادہ کرنا چاہئے اور اس کے منفی پہلوؤں کو قبول نہیں کرنا چاہئے- انھوں نے بتایا کہ اس کے جواب میں کانفرنس میں موجود مغربی نمائندوں نے کہا کہ مغرب اِن شرائط پر اپنی ٹکنالوجی اور اپنی تہذیب وتمدن سے آپ کو استفادہ کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں ہوگا- یہ ایک پورا پیکیج ہے جس کو آپ کو جوں کا توں قبول کرنا پڑے گا- اِس میں مغرب آپ کو اخذ وانتخاب (pick and choose)کی اجازت نہیں دے گا (ماہ نامہ الشریعہ، مارچ 2005، صفحہ: 10-12 )
other sourceWords of another person or source
یہ پورا بیان عصر حاضر سے بے خبری کی پیداوار ہے- اِس معاملے میں عصر حاضر کا ذہن وہی ہے جو امریکا کے بارے کہاگہا ہے، یعنی:
The business of America is business
اصل پہلو یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کمرشلائزیشن (commercialization) کا زمانہ ہے- موجودہ زمانے کی تشکیل اصلاً جدید صنعت (modern industrialization) نے کی ہے- اِس جدیددور میں ہر چیز ایک قابلِ فروخت آئٹم (purchasable item) بن چکی ہے- اگر آپ پرائس دے سکتے ہوں تو آپ سوئی سے لے کرہوائی جہاز تک ہر چیز خرید سکتے ہیں، اور اگر آپ پر ائس دینے کی پوزیشن میں نہ ہوں تو موجودہ زمانے میں آپ کو کوئی چیز ملنے والی نہیں- اِس معاملے میں مغرب کا اپنا کوئی ایجنڈا نہیں- ایجنڈا کا تصور مسلم ذہن کی پیداوار ہے- جہاں تک مغرب کا تعلق ہے، اُس کا کنسرن صرف یہ ہے کہ وہ دنیا سے تیل اورخام اشیاء حاصل کرے اور پھر اپنا پروڈکٹ تیار کرکے اس کو ساری دنیا میں مہنگے داموں میں فروخت کرے-
’’ایجنڈا‘‘ کا تصور تمام تر مسلم ذہن کی پیداوار ہے جو کہ اپنے تعصبات کی بناپر مغرب سے کامل طورپر بے خبر ہیں- اِس بے خبری کے نتیجے میں مسلمانوں کو صرف ایک چیز ملی ہے، اور وہ ہے مغرب سے بے بنیاد نفرت، اِس کے سوا جدید دور سے کوئی بھی مثبت چیز مسلمان حاصل نہ کرسکے- اِس صورتِ حال کو بیان کرنے کے لیے میرے پاس صرف ایک لفظ ہے اور وہ ہے — فکری دیوالیہ پن (intellectual bankruptcy)-
مسلم علما اور دانش وروں کایہ فکری دیوالیہ پن بہت قدیم ہے- اِس سے پہلے جب نوآبادیات کا دور آیا تو تمام علما اور مسلم دانش وروں نے اُس کو اِسی منفی معنی میں لیا اور غیر ضروری طورپر وہ اس کے خلاف نفرت کلچر اور تشدد کلچر میں مبتلا ہوگئے- حالاں کہ نوآبادیاتی قومیں جو اپنے علاقے سے نکل کر ایشیا اور افریقہ میں داخل ہوئی تھیں، اُن کا مقصد اصلاً اپنی صنعتی پیداوار کے لیے بازار (market)حاصل کرنا تھا- دوسری چیزیں جو اُن کے ساتھ آئیں، وہ نوآبادیاتی نظام کا اضافی حصہ تھیں، نہ کہ حقیقی حصہ-
اِس سنگین بے خبری کا نہایت مہلک انجام ہوا-اولاً یہ کہ اپنے منفی ذہن کی بنا پر مسلمان مغربی تہذیب سے کچھ سیکھنے سے محروم رہے- دوسرا شدید تر نقصان یہ تھا کہ مغربی قوموں کو انھوں نے دشمن کے خانے میں ڈال دیا، وہ ان کو مدعو سمجھنے سے قاصر رہے- اس بنا پر وہ مغربی قوموں کے اوپر اپنی داعیانہ ذمے داری کو ادا نہ کرسکے-