22-24 دسمبر 2013 کو نئی دہلی کی ایک یونی ورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے نصاب کے موضوع پر ایک سہ روزہ ورک شاپ منعقد ہوئی- اِس میں ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے مسلم دانشور شریک ہوئے- ایک مشہور مسلم اسکالر نے اِس موقع پر اپنا کلیدی خطبہ (keynote address) پیش کیا- اِس تحریری خطبے میں یہ الفاظ درج تھے: ’’اب مشرق ومغرب دونوں طرف اسلامک اسٹڈیز اپنے منفرد تشخص کے ساتھ جانی پہچانی جاتی ہے اور خاص طورپر انڈر گریجویٹ سطح پر، کم ازکم امریکا میں، ایک مقبولِ عام مضمون ہے- طلبا کا اس طرف رجحان اِس لیے بڑھا ہے کہ حالیہ واقعات کی روشنی میں وہ اسلام اور مسلمانوں کو مستقبل کی تشکیل وتوجیہہ میں ایک فیصلہ کن عنصر تسلیم کرتے ہیں‘‘-
یہ اقتباس بتاتا ہے کہ موجودہ زمانے کے اسکالر حضرات کی تحریروں اور تقریروں سےکوئی ذہن کیوں نہیں بنتا- یہ لوگ اپنی بات کو اِس طرح دو طرفہ انداز میں بیان کرتے ہیں جس سے یہ امر واضح نہیں ہوتا کہ محرر یا مقرر کا مقصود کیا ہے- اسکالر حضرات کے اِسی مزاج کی بنا پر اُن کے کلام میں وضوح (clarity)نہیں ہوتی، اور جب کلام میں وضوح نہ ہو تو وہ کسی کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرے گا-
یہ سمجھنا کہ ’’اسلام مستقبل کی تشکیل میں فیصلہ کن عنصر‘‘ بننے والا ہے، اس لیے مغربی دنیا میں اسلام کے مطالعے کا رجحان پیدا ہوا ہے، یہ درست نہیں- یہ اصل صورتِ حال کو خود ساختہ مسلم ذہن کے تحت دیکھنا ہے، نہ کہ اصل مغربی ذہن کے تحت- مغربی نوجوانوں کے ایک طبقے میں اسلام (صحیح تر الفاظ میں مسلم) کو جاننے کا ذوق اِس مفروضے کی بنیاد پر نہیں پیدا ہوا ہے کہ اسلام اُن کو مستقبل کا معمار دکھائی دیتا ہے- اِس رجحان کا سبب تمام تر منفی ہے- اِس کا واحد سبب یہ ہے کہ نائن الیون کے بعد اہلِ مغرب مسلمانوں کو (نہ کہ اسلام کو) ایک خطرہ (danger) کے روپ میں دیکھنے لگے ہیں- خود اہلِ مغرب کی طرف سے یہ کوئی مثبت رجحان نہیں، البتہ اِس صورتِ حال نے ہمارے لیے ایک موقع کھول دیا ہے، وہ یہ کہ ہم اُن کے سامنے اسلام کا صحیح تعارف پیش کرکے اُن کے حق میں اپنی دعوتی ذمے داری کو ادا کرسکیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔