Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala November 2014
Al-Risala November 2014

سبیل ُ اللہ سے انحراف

Urdu · 4 min read

ایک روایت حدیث کے مختلف کتابوں میں آئی ہے- مسند احمد (رقم الحدیث: 4142) کے الفاظ یہ ہیں: عن عبد اللہ بن مسعود قال: خطّ لنا رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم یوماً خطًّا، قم قال: ہذا سبیل اللہ، ثم خطّ خطوطاً عن یمینہ وعن شمالہ ثم قال: ہذہ سُبُل متفرقة على کلّ سبیل منہا شیطان یدعوا إلیہ- ثم قرأ ہذہ الایة: ’’وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِـیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ ۚ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبِیْلِہٖ‘‘ (6:153)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ہمارے سامنے زمین پر ایک سیدھی لکیر کھینچی، پھر آپ نے فرمایا کہ یہ اللہ کا رستہ ہے- پھر آپ نے اِس سیدھی لکیر کے دائیں اور بائیں کچھ لکیریں کھینچیں، پھر آپ نے فرمایا کہ یہ متفرق راستے ہیں- اِن متفرق رساتوں میں سے ہر راستے پر ایک شیطان ہے جو اپنی طرف بلا رہا ہے- پھر آپ نے قرآن کی یہ آیت پڑھی: ’’یہ ہے میرا سیدھا راستہ، تم اس کی پیروی کرو- اور تم متفرق راستوں کی پیروی نہ کرو، ورنہ تم بھٹک جاؤگے‘‘-

quoted sourceQuoted from another author or source

اِس حدیث رسول کی وضاحت قرآن کی اِس آیت سے ہوتی ہے: قل ہذا سبیلی ادعوا إلی اللہ علی بصیرة أنا ومَن اتبعنی (12:108) یعنی کہو، یہ میرا راستہ ہے- میں اللہ کی طرف بلارہا ہوں پوری بصیرت کے ساتھ، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنھوں نے میری پیروی کی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مذکورہ حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ ایمان کی سرگرمیوں کا اصل نشانہ دعوت الی اللہ ہے- ان کو اِسی صراطِ مستقیم پر تاحیات چلتے رہنا ہے- اُن کی ذمے داری ہے کہ جس طرح پیغمبر نے دعوت الی اللہ کو اپنا مرکزی نشانہ بنایا اور اپنی ساری توانائی اِسی پر صرف کردی، اسی طرح اہلِ ایمان کو چاہیے کہ پیغمبر اسلام کے بعد وہ دعوت الی اللہ کو اپنا مرکزی نشانہ بنائیں اور نسل درنسل اِسی نشانہ پرقائم رہیں-

مگر انسان کی زندگی موجودہ دنیا میں مسائل سے بھری ہوئی ہے-بار بار ایسے خلافِ مزاج واقعات پیش آتے ہیں جو آدمی کو مشتعل کردیں، اور اس کی توجہ کو اصل نشانے سے بھٹکا کر دوسری طرف پھیر دیں-یہی وہ صورتِ حال ہے جو شیطان کو بار بار یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اہلِ ایمان کو بھڑکا کر انھیں انحرافی نشانوں کی طرف پھیر دے-وہ دعوت الی اللہ کے راستے سے ہٹ کر لوگوں کی طرف سے پیدا کردہ مسائل میں الجھ جائیں- اہلِ ایمان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہیں- جب بھی وہ دیکھیں کہ کوئی پیش آمدہ صورت حال انھیں دعوت الی اللہ کے راستے سے ہٹا رہی ہے تو وہ اس کو شیطان کا بہکاوا سمجھیں، اور شیطان سے پناہ مانگتے ہوئے دوبارہ وہ دعوت الی اللہ کے راستے پر قائم ہوجائیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں دعوت الی اللہ کے راستے سے یہ انحراف بہت بڑے پیمانے پر پیش آیا ہے- موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو دوسری قوموں سے کچھ مادی اور سیاسی شکایتیں پیدا ہوئیں- مسلمان ان شکایتوں پر بھڑک اٹھے اور وہ دوسری قوموں سے لڑنے لگے- موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان اِس انحراف کا شکار ہوگئے- کچھ مسلمان دوسری قوموی کے خلاف منفی بولی بولنے لگے، اور کچھ مسلمان اُن سے باقاعدہ مسلّح ٹکراؤ کرنے لگے- انھوں نے نہ صرف دعوت الی اللہ کے کام کو چھوڑ دیا، بلکہ انھوں نے مزید یہ کیا کہ اپنے مدعو کو اپنا حریف اور دشمن قرار دے دیا- اس طرح اُن کا انحراف اپنی آخری حد پر پہنچ گیا-

یہ معاملہ جو موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا، وہ بلاشبہہ’سبیل اللہ‘ سے کھلا ہوا انحراف تھا، وہ خدا کی مرضی کے مطابق نہ تھا- اس کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام مسلم رہنماؤں کی طویل قربانی کے باوجود اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا، بلکہ برعکس طورپر وہ مسلمانوں کی ذلت اور ناکامی میں اضافے کا سبب بن گیا-

موجودہ زمانے کے تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان اس پسپائی کا ذمے دار دوسری قوموں کو بتا کر اُن کے خلاف منفی پروپیگنڈے کی مہم چلائے ہوئے ہیں- یہ سرتاسر ایک بے نتیجہ کام ہے- مسلمانوں کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی ان تحریکیوں کو انحراف کی تحریکیں قرار دے کر اُنھیں ترک کردیں- وہ دوبارہ دعوت الی اللہ کے مقرر راستے پر قائم ہوجائیں- مسلمانوں کے لیے اصلاً یہ اصلاحِ خویش کا ایک معاملہ ہے، نہ کہ دوسروں کو سازشی قرار دے کر ان کے خلاف منفی مہم چلانے کا معاملہ-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content