Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala November 2014
Al-Risala November 2014

جہاد وقتال

Urdu · 2 min read

جہاد ایک عربی لفظ ہے- اس کے معنی وہی ہیں جس کو پُرامن جدوجہد (peaceful struggle) کہا جاتا ہے- اس پُر امن جدوجہد سے مراد اصلاً دعوتی جدوجہد ہے، جیسا کہ قرآن کی سورہ الفرقان میںارشاد ہوا ہے: وجاہدہم بہ جہاداً کبیرا (25:52)یعنی پُرامن جدوجہد کے ذریعے لوگوں تک قرآن کا پیغام پہنچانا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دعوت اصلاً ایک نظریاتی جدوجہد (ideological struggle) ہے- یہ ایک بے حد وسیع کام ہے- اس کے مختلف تقاضے ہیں- دعوت کے کام کو جب اس کے تمام مطلوب تقاضوں کے ساتھ انجام دینے کی کوشش کی جائے تو وہ ایک عظیم جدوجہد بن جاتا ہے- اسی لیے اس دعوتی عمل کو جہاد کہاگیا ہے-

اصلاً جہاد کا مطلب یہی ہے- تاہم بعض اوقات اس کے توسیعی مفہوم کے اعتبار سے، جہاد کے لفظ کو قتال (جنگ) کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن یہ اُس کا صرف توسیعی مفہوم ہے- جہاں تک احکام اورآداب کا تعلق ہے، جہاد اور قتال دونوں کے احکام اور آداب ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں- جہادِ دعوت کا اصل نشانہ فریقِ ثانی کی سوچ کو بدلنا ہوتا ہے، جب کہ قتال کا نشانہ برعکس طورپر فریقِ ثانی کا استیصال کرنا ہے-

جہاد اور قتال کے درمیان ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ جہاد بمعنی دعوت ایک عمومی حکم ہے- دعوتی جہاد ہمیشہ اور ہر حال میں کرنا ہے- جہادِ دعوت کا نشانہ اللہ کے پیغام کو اُس کے بندوں تک پہنچانا ہے- دعوتِ انسانی خیر خواہی پر مبنی ایک مثبت کام ہے جو ہر زمانے میں اور ہر نسل میں جاری رہتا ہے- اِس کے برعکس، جہاد بہ معنی قتال ایک وقتی عمل ہے جو صرف اُس وقت کیا جاتا ہے جب کہ کوئی بیرونی ملک کسی مسلم ملک پر مسلح حملہ کردے- اِس حملے کا مقابلہ کرنے کی ذمے داری افراد پر نہیں ہے، اس کی ذمے داری صرف منظّم حکومت پر ہے جو حسب ضرورت اس کا انتظام کرتی ہے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content