علماء نے یہ نظریہ وضع کیا ہے کہ مسلمانوں کے لیے، انسانوں کے ساتھ تعلق کی صرف دو بنیادیں ہیں — وِلاء اور بَراء- وِلاء کا مطلب ہے، دوستی رکھنا، اور براء کا مطلب ہے جدائی رکھنا- اِن حضرات کا کہنا ہے کہ مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ وِلاء (دوستی) کا تعلق صرف ان لوگوں سے رکھیں، جو مسلمان ہیں- اور جو لوگ اسلام کے دائرے سے باہر ہیں، ان کو وہ اپنا غیر سمجھیں، اور اُن سے جدائی کا تعلق قائم کریں- یہ ایک قومی نظریہ ہے نہ کہ اسلامی نظریہ-
اِن حضرات نے یہ نظریہ سورہ الممتحنہ کی آیت نمبر ایک اور آیت نمبر چار سے أخذ کیا ہے- مگر یہ نظریہ، ایک بے بنیاد نظریہ ہے- اُس کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں- شانِ نزول کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ الممتحنہ، فتح مکہ سے کچھ پہلے اُس وقت نازل ہوئی، جب کہ حاطب بن ابی بلتعہ کا مشہور واقعہ پیش آیا تھا- چنانچہ سورہ الممتحنہ میں وِلاء اور بَراء کی بات جو کہی گئی ہے، وہ کوئی عمومی بات نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق ان خصوصی حالات سے ہے، جو کہ حاطب ابن ابی بلتعہ کے واقعے کے زمانے میں عرب میں موجود تھے-
حقیقت یہ ہے کہ سورہ الممتحنہ میں جو بات کہی گئی ہے، وہ اُس وقت کے لیے ہے، جب کہ جنگ کے حالات ہوں اور اہلِ اسلام اور غیر اہلِ اسلام عملاً ایک دوسرے کے خلاف برسرِ جنگ (at war) ہوں- اِن آیات کا تعلق اُس صورت حال سے نہیں ہے، جب کہ حالتِ جنگ کا خاتمہ ہوجائے اور دونوں گروہوں کے درمیان امن کی حالت قائم ہوجائے-
موجودہ زمانہ میں جو مسلمان ہیں، ان کا تعلق دوسری قوموں سے قوانینِ امن کی بنیاد پر قائم ہوگا، نہ کہ قوانینِ جنگ کی بنیاد پر- مذکورہ بے بنیاد نظریے کا یہ نتیجہ ہوا ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، غیر ضروری طورپر دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے ہیں- وہ اُن سے نفرت کرتے ہیں- حتی کہ وہ اُن کے خلاف تشدد پر اتر آتے ہیں- یہ سب بلاشبہہ، وہ باتیں ہیں، جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔