بالی وڈ کی ایک ایکٹرس جِیا خان نے 3 جون 2013 کوممبئی میں خود کشی کرلی- اس وقت اس کی عمر 25 سال تھی- وہ جوہو کے ایک فلیٹ میں رہتی تھی- وہاں کوئی سوسائڈ نوٹ (suicide note)نہیں پایا گیا- فلم ڈائرکٹر رام گوپال ورما نے بتایا کہ ضیا خان کو تین سال سے کوئی کام نہیں ملا تھا- اس نے رام گوپال ورما سے ایک ملاقات میں کہا تھاکہ اس کے قریب کا ہر آدمی اس کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ ناکام ہے:
The last time I met her, Jiah told me that everyone around her makes her feel like a failure.
ضیا خان نے جو کہا، وہ خود کشی کے لیے کوئی عذر (excuse) نہیں ہے- انسان کو چاہئے کہ وہ خود اپنے آپ کو دریافت کرے، نہ یہ کہ وہ اپنے آپ کو ویسا سمجھے جیسا کہ دوسرے لوگ اس کو بتارہے ہیں- حقیقت یہ ہے کہ دنیا غیر ہمدرد (unsympathetic) لوگوں سے بھری ہوئی ہے- اس دنیا میںحقیقی معنوںمیں کوئی شخص دوسرے کا خیر خواہ(well-wisher) نہیں ہوتا، حقیقی معنوں میں کوئی شخص کسی کا اعتراف (acknowledgement)نہیں کرتا- یہ کام آدمی کو خود کرنا ہے کہ وہ اپنے بے لاگ جائزہ سے اپنی قدروقیمت کو متعین کرے- وہ اپنے ذاتی یقین پر کھڑا ہو، نہ کہ دوسروں کے ماننے یا نہ ماننے پر-
عقل مند آدمی وہ ہے جو دوسروں کی تعریف سے خوش نہ ہو اور دوسروں کی تنقید اُس کو غمگین نہ کرے- دوسروں کی تعریف پر خوش ہونے والا آدمی اپنے بارے میں زیادہ اندازہ (overestimation) میں مبتلا ہوجاتا ہے- اِسی طرح دوسروں کی تنقید پر غمگین ہونے والا آدمی اپنے بارے میں کم تر اندازہ (underestimation) کا شکار ہوجاتا ہے- اور دونوں قسم کا مزاج بلا شبہہ آدمی کے لیے یکساں طورپر مہلک ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔