Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala November 2013
Al-Risala November 2013

مس ورلڈ

Urdu · 2 min read

نونیت کور (Navneet Kaur Dhillon) چندی گڑھ میں 1992 میں پیدا ہوئی- بیوٹی کے ایک مقابلے میں وہ کامیاب ہوئی اور مس انڈیا کا ٹائٹل حاصل کیا- اب وہ مس ورلڈ (Miss World)کے مقابلے کے لیے تیاری کر رہی ہے- اس نے اپنے آپ کو پوری طرح اِس تیاری کے کام میں لگا دیا ہے- ایک انٹرویو کے دوران اس نے کہا کہ — میں مس ورلڈ کے تصور میں جیتی ہوں، مس ورلڈ کے تصور میں سانس لیتی ہوں، اب صرف یہ باقی ہے کہ مجھے مس ورلڈ کا تاج پہنایا جائے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

I am living, breathing Miss World; only the crowning is left.

ٹائمس آف انڈیا (2 ستمبر 2013) میں اِس خبر کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ کیا وجہ ہے کہ بہت سے لوگ مس ورلڈ اور مسٹر ورلڈ کا ٹائٹل حاصل کرنے کے لیے ہیرو، بلکہ سپر ہیرو بن جاتے ہیں، مگر یہی بے تابانہ شوق لوگوں کے اندر جنت (paradise) کے لیے نہیں ہوتا- دنیا میں بے شمار لوگ ہیں، لیکن اُن میں سے کوئی مس پیراڈائز اور مسٹر پیراڈائز کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ہیرو بننے پر تیار نہیں-

میں نے غور کیا تو خود مذکورہ رپورٹ میں اِس کا جواب موجود تھا- نونیت کور جو رات دن اپنی تیاری میں لگی ہوئی ہے، اُس نے اِس مقصد کے لیے اپنی بے پناہ محنت کی توجیہ کرتے ہوئے کہا — یہ ایک ایسا موقع ہے جو پوری زندگی میں صرف ایک بار آئے گا اور مجھے بہر حال اس کو حاصل کرنا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

This is a once-in-a lifetime chance. I have to do it.

مس ورلڈ بننے کا چانس اُس کے لیے صرف ایک بار ہے — یہی وہ چیز ہے جو مذکورہ خاتون کو ہیرو بنائے ہوئے ہے- جب اُس نے دیکھا کہ اِس کا چانس میرے لیے دوبارہ آنے والا نہیں ہے تو اس کے دل میں یہ جذبہ ابھرا کہ وہ اس کی تیاری میں اپنی ساری طاقت لگا دے- یہی دریافت اگر کسی عورت یا مرد کو جنت کے بارے میں ہوجائے تو وہ بھی اِسی طرح مس پیراڈائز یا مسٹر پیراڈائز بن جائے گا-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content