نونیت کور (Navneet Kaur Dhillon) چندی گڑھ میں 1992 میں پیدا ہوئی- بیوٹی کے ایک مقابلے میں وہ کامیاب ہوئی اور مس انڈیا کا ٹائٹل حاصل کیا- اب وہ مس ورلڈ (Miss World)کے مقابلے کے لیے تیاری کر رہی ہے- اس نے اپنے آپ کو پوری طرح اِس تیاری کے کام میں لگا دیا ہے- ایک انٹرویو کے دوران اس نے کہا کہ — میں مس ورلڈ کے تصور میں جیتی ہوں، مس ورلڈ کے تصور میں سانس لیتی ہوں، اب صرف یہ باقی ہے کہ مجھے مس ورلڈ کا تاج پہنایا جائے:
I am living, breathing Miss World; only the crowning is left.
ٹائمس آف انڈیا (2 ستمبر 2013) میں اِس خبر کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ کیا وجہ ہے کہ بہت سے لوگ مس ورلڈ اور مسٹر ورلڈ کا ٹائٹل حاصل کرنے کے لیے ہیرو، بلکہ سپر ہیرو بن جاتے ہیں، مگر یہی بے تابانہ شوق لوگوں کے اندر جنت (paradise) کے لیے نہیں ہوتا- دنیا میں بے شمار لوگ ہیں، لیکن اُن میں سے کوئی مس پیراڈائز اور مسٹر پیراڈائز کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ہیرو بننے پر تیار نہیں-
میں نے غور کیا تو خود مذکورہ رپورٹ میں اِس کا جواب موجود تھا- نونیت کور جو رات دن اپنی تیاری میں لگی ہوئی ہے، اُس نے اِس مقصد کے لیے اپنی بے پناہ محنت کی توجیہ کرتے ہوئے کہا — یہ ایک ایسا موقع ہے جو پوری زندگی میں صرف ایک بار آئے گا اور مجھے بہر حال اس کو حاصل کرنا ہے:
This is a once-in-a lifetime chance. I have to do it.
مس ورلڈ بننے کا چانس اُس کے لیے صرف ایک بار ہے — یہی وہ چیز ہے جو مذکورہ خاتون کو ہیرو بنائے ہوئے ہے- جب اُس نے دیکھا کہ اِس کا چانس میرے لیے دوبارہ آنے والا نہیں ہے تو اس کے دل میں یہ جذبہ ابھرا کہ وہ اس کی تیاری میں اپنی ساری طاقت لگا دے- یہی دریافت اگر کسی عورت یا مرد کو جنت کے بارے میں ہوجائے تو وہ بھی اِسی طرح مس پیراڈائز یا مسٹر پیراڈائز بن جائے گا-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔