امریکا میں بیماری اور اس پر کنٹرول کے لیے ایک ادارہ قائم ہے- اِس ادارے کا نام یہ ہے:
US Centre for Disease Control and Prevention
اِس ادارے کے تحت جو اعداد وشمار جمع کیے گئے ہیں، اس کے مطابق، امریکا میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے- مثلاً 2010 میں روڈ حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 33,687 تھی- اِس کے مقابلے میں، اِسی سال امریکا میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد 38,364 تھی- (ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی، 4 مئی 2013، صفحہ 21)
یہ معاملہ صرف امریکا کا نہیں ہے، بلکہ تمام ترقی یافتہ ملکوں کا ہے- جرمنی، فرانس، اسپین، جاپان اور چین ہر جگہ خود کشی کرنے والے انسانوں کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے- اعداد وشمار کے مطابق، خود کشی کرنے و الوں کی تعداد ترقی یافتہ ملکوں میں زیادہ ہے-
ایسا کیوں ہے- اِس کا سبب یہ ہےکہ موجودہ زمانے میں جب مادی ترقی کا دور آیا تو انسان نے یہ سمجھا کہ اب وہ دنیا ہی میں اپنی جنت بنا سکتا ہے- وہ اپنی تمام خواہشوں (desires) کو آخری حد تک پورا کرسکتا ہے، مگر عملاً ایسا نہیں ہوا، بظاہر مادی ترقیوں کے باوجود انسان کو فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل نہ ہوسکا-
جب انسان بقدر ضرورت (need)کی سطح پر جی رہا تھا، تو اس کو فل فل مینٹ حاصل نہ تھا- اُس وقت اس نے سمجھا کہ جب آرام (comfort) کی سطح پر جینا نصیب ہوگا تو اس کو فل فل مینٹ حاصل ہوجائے گا، مگر ایسا نہ ہوسکا- پھر لگژری (luxury) کا دور آیا، مگر انسان اب بھی فل فل مینٹ (fulfilment) سے محروم تھا- اب انسان مایوسی کی حالت میں جی رہا ہے اور اِسی مایوسی کا ایک ظاہرہ خود کشی کی بڑھتی ہوئی رفتار ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔