← Al-Risala November 2013Al-Risala November 2013
قانونِ شریعت کا نفاذ
Urdu · 6 min read
موجودہ زمانے میں مختلف مسلم ملکوں میں قانونِ شریعت کے نفاذ کی تحریکیں چلائی گئیں۔ مثلاً افغانستان، ایران، سوڈان اور پاکستان وغیرہ۔ ہر جگہ تقریباً ایک ہی قسم کی صورتِ حال نظر آتی ہے۔ ہرجگہ کے مسلمان دو گروہوں میں بٹ گئے— حاکم اور محکوم۔ اِن دونوں گروہوں کے درمیان ٹکراؤ شروع ہوگیا۔ اِس کے نتیجے میں زبردست نقصان پیش آیا۔ اِن ملکوں میں شریعت کا قانون تو نافذ نہ ہوسکا، البتہ نفرت اور جبر اور تشدد کا ماحول ہر جگہ قائم ہوگیا۔
اسلامی قانون کے نفاذ کی تحریک اِس طرح الٹا نتیجہ پیدا کرنے کا سبب (counter productive) کیوں بن گئی۔ اِس کا راز یہ ہے کہ ہر جگہ نفاذِ شریعت کا نعرہ تو دیاگیا، لیکن نفاذِ شریعت کے لیے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی نہیں کی گئی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، پیغمبر کی حیثیت سے دنیا میں 23 سال رہے۔ آپ کے مشن کا ایک پہلو یہ تھا کہ آپ عرب میں اسلامی شریعت کو نافذ کریں اور بالفعل آپ نے کامیابی کے ساتھ ایسا کیا۔ لیکن اُس زمانے کے عرب سماج میں ہم یہ نہیں دیکھتے کہ مسلمان، نفاذِ شریعت کے نام پر دوگروہ بن کر آپس میں لڑ رہے ہوں، جیسا کہ موجودہ زمانے میں مسلم ملکوں میں پیش آیا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس سوال کا جواب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ قرآن میں پہلے وہ سورتیں اُتریں جن کو مفصّل کہاجاتا ہے، یعنی وہ سورتیں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے، یہاں تک کہ جب لوگ رجوع ہو کر اسلام پر آگئے، اُس وقت حلال اور حرام والے احکام اترے (حتّی إذا ثاب الناس إلی الإسلام، نزل الحلال والحرام) اگر شروع میں یہ اترتا کہ شراب نہ پیو، تو وہ ضرور یہ کہتے کہ ہم توشراب کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ اور اگر شروع میں یہ اترتا کہ زنا نہ کرو، تو وہ ضرور یہ کہتے کہ ہم تو کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے (صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن، باب تالیف القرآن)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِس روایت میں ثاب کا لفظ آیا ہے۔ ثاب یثوب کے معنی ہیں: حالتِ اصلی کی طرف لوٹنا۔ مشہور عالمِ لغت راغب الاصفہانی (وفات: 1108ء) نے اِس لفظ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: رجوع الشیٔ إلی حالتہ الأولی التی کان علیہا( المفردات، صفحہ 83 ) یعنی کسی چیز کا اپنی اُس سابقہ حالت کی طرف لوٹنا جس پر وہ پہلے قائم تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اِسی بات کو اگر لفظ بدل کر بیان کیا جائے، تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اِ س کا مطلب ہے— حالت فطری کی طرف واپسی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے، ہر انسان صحیح فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پھر ماحول کے اثر سے وہ دھیرے دھیرے اپنی اصل فطرت سے ہٹ جاتا ہے۔ اِسی کا نام بگاڑ ہے۔ صحیح معاشرہ قائم کرنے کا عمل، اِسی بگاڑ کو درست کرنے سے شروع ہوتا ہے، یعنی فطرت سے انحراف کی حالت کو ختم کرنا اور دوبارہ لوگوں کو ان کی حالتِ فطری پر قائم کرنا۔ ایک لفظ میں اِس عمل کو ڈی کنڈیشننگ (de-conditioning) کہاجاسکتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ— انسان کی ڈی کنڈیشننگ کرکے اُس کو حالتِ فطری کی طرف واپس لاؤ۔ جب ایسا ہوگا تو اس کے بعد انسان کے اندر احکام کو قبول کرنے کی استعداد پیدا ہوجائے گی، اور نفاذِ شریعت کا کام بہ سہولت انجام پاسکے گا۔ گویا کہ پیغمبر اسلام کے طریقے کے مطابق، کسی سوسائٹی میں نفاذِ شریعت کے عمل کا آغاز، فکری تطہیر سے ہوتا ہے، نہ کہ قانون کے عملی نفاذ سے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
موجودہ زمانے میں 57 مسلم ملک ہیں۔ ہر مسلم ملک میں مسلم رہنماؤں نے شریعت کے نفاذ کی تحریک چلائی، مگر لمبی جدوجہد کے باوجود کسی بھی ملک میں یہ تحریکیں اپنے مطلوب مقصد میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ ہر ملک میں اِن تحریکوں نے صرف تشدد اور جبر کی روایتیں قائم کیں۔
اِس اعتبار سے مسلم ملکوںکو دو گروپ میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک قسم کے ملک وہ ہیں، جہاں حکم راں اور عوام کے درمیان پُرتشدد مقابلہ جاری ہے۔ دوسری قسم کے مسلم ملک وہ ہیں جہاں جبر کا نظام قائم ہوگیا ہے۔ یہ وہ ملک ہیں جہاں حکم راں طبقے نے نفاذِ شریعت کی تحریکوں کو مقہور کرلیا اور جبر کے زور پر اپنی حکم رانی قائم کرلی۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دونوں حالتیں، اسلامی نقطۂ نظر سے غیر مطلوب حالتیں ہیں۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ سنت کے مطابق، مسلم ملکوں میں کام کرنے کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ مسلم رہنما اپنے کام کا آغاز غیر سیاسی میدان میں کرتے ۔ وہ پُرامن تعلیم وتربیت کے ذریعے لوگوں کے ذہن اور ان کے کردار کو بدلتے۔
اِس تعمیری عمل کے دوران وہ ملک کے سیاسی نظام کے معاملے میں اسٹیٹس کوازم (statusquoism) کا طریقہ اختیار کرتے ۔وہ یہ پالیسی اختیار کرتے کہ سیاست اور حکومت کے معاملے کو جمہوری عمل (democratic process) کے حوالے کردیتے۔ سیاست کے معاملے میں وہ لوگوں کو موقع دیتے کہ پُرامن الیکشن کے ذریعے وہ جس کو چاہیں منتخب کریں اور پھر یہ منتخب لوگ ملک کا سیاسی نظام چلائیں۔مسلم رہنما اگر اس دو طرفہ حکمت کو اختیار کرتے، تو یقینی طورپر ایسا ہوتا کہ بتدریج ملک کے حالات بدل جاتے ۔ اِن ملکوںمیں پہلے ذہن اور کردار کے اعتبارسے انقلاب آتا، اور پھر دھیرے دھیرے سیاست اور حکومت کے میدان میں بھی انقلاب آجاتا۔ مگر حکمتِ نبوی کو اختیار نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلم رہ نما جو کچھ حاصل کرنا چاہتے تھے، اُس کو تو وہ حاصل نہ کر سکے، البتہ انھوںنے مسلم سماج کے اندر بہت سے نئے نقصانات کا اضافہ کردیا۔
حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں آ ئی ہیں جن میں مسلمانوں کو شدت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ حکم رانوں میں بگاڑ کے وقت اُن کا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اِن روایتوں میں شدت کے ساتھ یہ حکم دیا گیا ہے کہ اپنے حکم رانوں میں تم خواہ کتنا ہی بگاڑ دیکھو، تم ہر گز اُن سے ٹکراؤ کا طریقہ اختیار مت کرو۔ اگر تم ضروری سمجھو، تو صرف تنہائی میں نصیحت پر اکتفا کرو، عملی ٹکراؤ یا حکم رانوں کو بدلنے کی تحریکیں ہر گز نہ چلاؤ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
عدم ٹکراؤ کی اِس پالیسی کا مطلب سرینڈر کرنا نہیں ہے۔ یہ دراصل یہ بتانے کے لیے ہے کہ سیاسی بگاڑ کے حالات میں تمھارے عمل کا نقطۂ آغاز کیا ہونا چاہیے۔ ایسے حالات میں تمھارے عمل کا نقطۂ آغاز یہ ہونا چاہیے کہ تم انتہائی حد تک پُرامن رہتے ہوئے، غیر سیاسی دائرہ کار میں لوگوں کو ایجوکیٹ(educate) کرنے کی کوشش کرتے رہو۔ یہ کوشش مسلسل جاری رکھو، یہاں تک کہ حالات اِس حد تک بدل جائیں کہ پُرامن طورپر تبدیلی ممکن ہوجائے۔
اسلام کی پالیسی ہر معاملے میں نتیجہ خیز عمل (result oriented action) کے اصول پر ہوتی ہے۔ عمل کا مثبت نتیجہ نکلے تو عمل کرو، اور اگر مثبت نتیجہ نکلنے والا نہ ہو، تو سیاست سے مکمل طورپر الگ رہتے ہوئے پُرامن اصلاح کا طریقہ اختیار کرو، اِس طریقے کو اختیار کرنے سے ہمیشہ امن قائم ہوتا ہے، اور اِس طریقے کے خلاف عمل کا نتیجہ ہمیشہ تشدد کی صورت میں نکلتا ہے۔(2009)