Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Al-Risala November 2013
Al-Risala November 2013

اسلام اور جنگ

Urdu · 8 min read

ایک حدیثِ رسول میں، قرآن کی بابت بتایا گیا ہے کہ: لکلّ آیة منہا ظَہر وبطن (صحیح ابن حبان، رقم الحدیث: 75) یعنی قرآن کی ہر آیت کا ایک مفہوم وہ ہے جو سطور (lines) میں ہے اور دوسرا وہ ہے جو اس کے بین السطور میں پایا جاتا ہے- یہ حدیث اگر چہ قرآن کے بارے میں ہے، لیکن توسیعی مفہوم کے اعتبار سے حدیثِ رسول بھی اس میں شامل ہے- یہ ایک حقیقت ہےکہ قرآن اور حدیث کے متن میں تفسیری اور تشریحی اضافہ کرنا پڑتا ہے- اِس اضافے کے بغیر، قرآن وحدیث کی معنویت واضح نہیں ہوتی-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مثال کے طورپر قرآن کی ایک آیت یہ ہے: ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ (30:41)- قرآن کی اِس آیت کا لفظی ترجمہ یہ ہے: ’’خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے‘‘- مگر اِس لفظی ترجمے سے آیت کا اصل مفہوم واضح نہیں ہوتا- آیت کے اصل مفہوم کو جاننے کے لیے اس میں یہ تشریحی اضافہ کرنا پڑے گا کہ — خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، اس لیے کہ لوگوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِسی طرح ایک حدیثِ رسول اِن الفاظ میں آئی ہے: مَن قال لا إلہ إلا اللہ، دخل الجنة- اس حدیث کا لفظی ترجمہ یہ ہے کہ جس شخص نے کہا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل ہوگا- حدیث کا یہ ترجمہ حدیث کے اصل مفہوم کو واضح نہیں کرتا- حدیث کے اصل مفہوم کو واضح کرنے کے لیے اس میں یہ اضافہ کرنا پڑے گا کہ —جس شخص نے اِ س حقیقت کا اقرار کیا کہ اللہ کے سواکوئی معبود نہیں اور اس کے مطابق اس نے عمل کیا، وہ جنت میں داخل ہوگا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جنگ کا مسئلہ

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو آگاہ کرتے ہوئےفرمایا تھا: إذا وضع السیفُ فی أمتی، لم یُرفع عنہم إلى یوم القیامة(مسند احمد، جلد 5، صفحہ 278) - اِس حدیث کا لفظی ترجمہ یہ ہے— جب میری امت کے اندر تلوار داخل ہوجائے تو قیامت تک وہ اُس سے اٹھائی نہیں جائے گی- مذکورہ حدیثِ رسول کا یہ ترجمہ لفظی طورپر ایک صحیح ترجمہ ہے- لیکن صرف یہ ترجمہ، حدیث کی اصل معنویت کو ظاہر نہیں کرتا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بظاہر اس حدیث میں امت کے اندر تلوار کے اُس داخلے کا ذکر ہے جو عہد رسالت کے بعد پیش آئے گا- لیکن تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو امت کےاندر تلوار کا داخلہ خود زمانہ رسول میں پیش آچکا تھا- جیسا کہ معلوم ہے، غزوۂ بدر، غزوۂ حنین، غزوۂ خیبر کے مواقع پر امتِ محمدی نے تلوار اٹھائی، جب کہ اِن چاروں مواقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم باحیات تھے- اس کے علاوہ، قرآن کی متعدد آیتوں میں خود زمانہ رسول میں قتال کا ذکر ہے- بظاہر یہ ایک تضاد کی صورت حال ہے- اِس لیے ہمیں کوئی ایسا اصول دریافت کرنا پڑے گا جو اِس ظاہری تضاد کو رفع کرنے والاہو -

جنگ کی دو قسمیں

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو جنگ پیش آئی، اس کی نوعیت کیا تھی، وہ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) یعنی تم اُن سے قتال کرو، یہاںتک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب، اللہ کے لیے ہوجائے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے- قدیم زمانے میں اُس وقت کے سیاسی فلسفہ (political philosophy) کی بنا پر، ساری دنیا میں مذہبی جبر کا کلچر قائم تھا- اِس کلچر نے قدیم زمانے میں پُرامن دعوت (peaceful Dawah) کو عملاً ناممکن بنا دیا تھا- یہ تصور، خدا کے تخلیقی پلان کےخلاف تھا، کیوں کہ خدا نے اپنے تخلیقی پلان کے تحت، ہر انسان کو فکر اور اظہارِ خیال کی کامل آزادی عطا کی ہے-

مذہبی جبر پر مبنی مذکورہ سیاسی فلسفہ خدا کی دی ہوئی آزادی کو منسوخ کرنے کے ہم معنی تھا- خدا کو مطلوب تھاکہ مذہبی جبر کا یہ مصنوعی نظام ختم ہو اور مذہبی آزادی کا فطری نظام قائم ہوجائے- اِس لیے اللہ تعالی نے رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا کہ ہر قیمت پر اِس مصنوعی نظام کو ختم کرو، خواہ اس کے لیے تم کو جنگ کرنا پڑے- رسول اور اصحابِ رسول نے اِس حکمِ خداوندی کی تعمیل کی، یہاں تک کہ اِس جبری نظام کا خاتمہ ہوگیا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس معاملے کو سمجھنے کے لیے عبد اللہ بن عمر کی ایک روایت کا مطالعہ مفید ہوگا- عبد اللہ بن عمر (وفات: 73 ہجری) کے زمانے میں وہ جنگ پیش آئی جس کے قائد ایک طرف، عبد اللہ بن زبیر تھے اور دوسری طرف،اموی حاکم حجاج بن یوسف الثقفی- یہ واقعہ تاریخ میں ’’فتنۂ عبد اللہ بن زبیر‘‘ کے نام سے مشہور ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عبد اللہ بن عمر اِس جنگ میں شریک نہیں ہوئے تھے- دو مسلمان اُن کے پاس آئے اور اُن کو عار دلاتے ہوئے کہا کہ آپ اِس جنگ میں شریک نہیں ہیں، حالاں کہ اللہ تعالی نے قرآن میں حکم دیا ہے کہ: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتَّی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ(8:29)- عبد اللہ بن عمر نے کہا: قاتلنا حتى لم تکن فتنة، وکان الدین للہ- وأنتم تریدون أن تقاتلوا حتى تکون فتنة، ویکون الدین لغیر اللہ (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 4513) یعنی ہم نے جنگ کی یہاں تک کہ فتنہ ختم ہوگیا، اور دین اللہ کے لیے ہوگیا- اور تم چاہتے ہوکہ جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ دوبارہ واپس آجائے اور دین غیراللہ کے لیے ہوجائے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

عبد اللہ بن عمر کے اِس قول کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں ’فتنہ‘ سے مراد مذہبی جبر تھا- ہم نے لڑ کر اس مذہبی جبر کو ختم کردیا- اب فطرت کے نظام کے مطابق، مذہب کے معاملے میں انسان کو آزادی حاصل ہوگئی، جب کہ تم لوگ اپنے سیاسی مفاد کے لیے جنگ کررہے ہو اور اِس طرح دوبارہ ایک نئے قسم کا فتنہ برپا کررہے ہو-

ایک دورکا خاتمہ، دوسرے دورکا آغاز

اللہ نے انسان کو اِس دنیا میں امتحان (test) کے لیے رکھا ہے- امتحان کی اِس مصلحت کی بنا پر اللہ نے انسان کو کامل آزادی دی ہے- اس کو اِس دنیا میں فریڈم آف چوائس (freedom of choice) حاصل ہے- یہ آزادی اگر باقی نہ رہے تو اللہ کا تخلیقی پلان درہم برہم ہوجائے گا- اِسی مصنوعی صورت ِ حال کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے، اور فتنہ کی اِسی صورتِ حال کو ختم کرنے کے لیے رسول اور اصحابِ رسول کو جنگ کا حکم دیاگیا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مذہب پر مبنی قومیت (nationality based on religion) کا اصول رائج تھا- اِس اصول کی بنا پر مذہب، اسٹیٹ کا معاملہ قرار پاگیا تھا- اسٹیٹ کا مذہب، اسٹیٹ سے وفاداری کی علامت بن گیا تھا- یہی وجہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں اسٹیٹ سے مختلف عقیدہ رکھنا، اسٹیٹ سے بغاوت کے ہم معنی بن گیاتھا- یہی وہ صورتِ حال ہے جس نے قدیم زمانے میں مذہبی جبر (religious persecution) کا نظام قائم کررکھا تھا-

ساتویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں جو انقلاب آیا، اُس نے اسٹیٹ کے تحت قائم شدہ مذہبی جبر کا خاتمہ کردیا- مذہبی جبر کے خاتمے کے بعد تاریخ میں ایک نئے سیاسی نظریے کا آغاز ہوا- اِس کے بعد جو پراسس شروع ہوا، اس کی تکمیل انیسویں صدی میں یورپ میں ہوئی- اب مبنی برمذہب قومیت آخری طورپر متروک قرار پائی- اِس کے بعد قومیت کا وہ نظام بنا جس کو وطن پر مبنی قومیت (nationality based on homeland) کہاجاتاہے-

یہ ایک فطری حقیقت ہے کہ انسان کے اندر اپنے وطن سے محبت کا جذبہ پایا جاتا ہے- یہ ایک عملی معاملہ ہے، نہ کہ کوئی اعتقادی معاملہ- قدیم زمانے میں مبنی برمذہب قومیت نے اِس معاملے کو مذہبی عقیدے کا درجہ دے رکھا تھا- اِس لحاظ سے، مبنی برمذہب قومیت کا نظریہ ایک فطری تصور تھا- ایسی حالت میں ضرورت تھی کہ اِس تعلق کو فطری بنیاد پر قائم کیا جائے- موجودہ زمانے میں مبنی بروطن قومیت کے نظریے نے یہی کام انجام دیا ہے- اب تمام دنیا میں اِس اصول کو مان لیا گیا ہے کہ قومیت کا تعلق وطن سے ہے، نہ کہ مذہبی عقیدے سے- یہی نظام، فطرت کے مطابق ہے، اور اسلام دینِ فطرت ہونے کی حیثیت سے اِسی نظریے کی تائید کرتا ہے-

قومیت ایک سیاسی نظریہ ہے، اور مذہب ایک غیر سیاسی عقیدہ- قدیم ریاستی نظریے کے تحت مذہبی جبر کا تصور پیداہوا- اِس تصور نے دینِ توحید اور اس کی دعوت کے لیے غیر ضروری مسئلہ پیدا کردیا تھا- موجودہ زمانے میں وطن پر مبنی قومیت کے نظریے نے یہ ایک درست کام انجام دیا ہے کہ اس نے قومیت کی بنیاد مذہب کے بجائے وطن پر قائم کردی ہے- یہ تبدیلی عین اسلام کے مطابق ہے- اس نے موجودہ زمانے میں پُرامن دعوتی عمل کے لیے لامحدود دروازے کھول دئے ہیں-

قدیم زمانے میں اسلام اور اُس وقت کی حکومتوں کے درمیان جو جنگ پیش آئی، وہ ایک ناگزیر ضرورت کے تحت پیش آئی- کیوں کہ اہلِ اسلام جب توحید کی دعوت دیتے تھے تو اُس زمانے کے مبنی بر مذہب قومیت نظریے کی بنا پر اہلِ اقتدار یہ سمجھتے تھے کہ توحید کی دعوت، ریاست سے بغاوت کے ہم معنی ہے- اِس بنا پر وہ داعیانِ توحید کو اپنا حریف (rival) سمجھ لیتے تھے، جس کا نتیجہ جنگ ہوتا تھا- یہ جنگ قدیم نظام کی طرف سے جارحانہ طور پر ہوتی تھی اور اہلِ توحید کی طرف سے اس کی حیثیت ناگزیر دفاع کے ہم معنی تھی-

موجودہ زمانے میں وطن پر مبنی سیاسی تصور نے مذہب اور سیاست کے درمیان ٹکراؤ کا خاتمہ کردیا ہے- یہی وجہ ہے کہ اب مذہبی جبر (religious persecution)کا قدیم نظام باقی نہیں رہا اور داعیانِ توحید کو یہ موقع مل گیا کہ وہ ریاست سے ٹکراؤ کا خطرہ مول لئے بغیر اپنے پُرامن دعوتی عمل کو بلا رکاوٹ جاری رکھ سکیں- (2012)

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content