← Al-Risala November 2013Al-Risala November 2013
اسلام کا انقلابی رول
Urdu · 10 min read
مورخ ابنِ کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایة والنہایة میں ابنِ اسحاق کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے- اِس روایت میں ایک واقعے کا ذکر ہے جو نبوت کے دسویں سال مکہ میں پیش آیا - وہ واقعہ یہ ہے کہ : ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب اپنی آخر عمر میں جب بیمارہوئے اور اُن کا مرض بڑھ گیا تو قبیلہ قریش کے لوگوں نے آپس میں کہا کہ حمزہ اور عمر نے اسلام قبول کرلیا اور محمد کا امر (دین) پورے قبیلہ قریش میں پھیل گیا- آؤ ہم ابو طالب کے پاس چلیں- وہ ہم سے عہد لے لیں اپنے بھتیجے کے بارے میں اور بھتیجے سے عہد لے لیں ہمارے بارے میں- کیوں کہ خدا کی قسم، ہم اِس سے مامون نہیں ہیں کہ وہ ہمارے امر(دین) پر غالب آجائے- چناں چہ قریش کے سردار ابو طالب کے پاس آئے اور اُن سے بات کی- یہ تھے— عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، امیہ بن خلف، ابو سفیان بن حرب، وغیرہ- انھوں نے کہا کہ اے ابو طالب، آپ کا ہمارے نزدیک جو درجہ ہے، وہ آپ کو معلوم ہے- آپ پر جو وقت آچکا ہے، وہ آپ خود دیکھ رہے ہیں- آپ کے بارے میں ہمیں تشویش ہے-ہمارے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان جو معاملہ ہے، اُس سے آپ باخبر ہیں- آپ ان کو بلائیے- اُن سے ہمارے بارے میں عہد لے لیجئے اور ہم سے ان کے بارے میں عہد لے لیجئے، تاکہ وہ ہم سے باز رہیں اور ہم اُن سے باز رہیں، تاکہ وہ ہمارے دین سے تعرض نہ کریں اور ہم ان کے دین سے تعرض نہ کریں- پھر ابو طالب نے رسول اللہ کو بلایا اور آپ ان کے پاس آئے- ابو طالب نے آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے، یہ تمھاری قوم کے بڑے لوگ ہیں- یہ تمھارے پاس جمع ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہوجائے- اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ’’یاعمّ، کلمة واحدة تعطونہا تملکون بہا العرب وتدین لکم بہا العجم (البدایةوالنہایة 3/123) یعنی اے میرے چچا، میں اُن سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کو اگر وہ دے دیںتو وہ عرب کے مالک بن جائیں گے اور عجم تمھارے تابع ہو جائیں گے-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
اس کے بعد آپ نے بتایاکہ وہ کلمہ یہ ہے کہ تم کہو کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور تم چھوڑ دو اُن چیزوں کو جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتےہو(تقولون لا إلہ إلا اللہ وتخلعون ما تعبدون من دونہ) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس قول میں ایک تاریخی بات کو مخاطبین کی مانوس زبان میں کہاگیا ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مشن کوئی محدود مشن نہیں ہے- یہ خالق کی ایک عظیم منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے- یہ ایک د ور کو ختم کرکے دوسرے دور کو لانے کا منصوبہ ہے- اگر تم اُس کا ساتھ دو تو یہ تمھارے لیے سرفرازی کا باعث ہوگا- اِس مشن کا ساتھ دے کر تم ایک نئے دورِ تاریخ کے نقیب (harbinger) بن سکتے ہو-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
توحید کے مشن کے ذریعے بعد کی تاریخ میں یہ انقلابی دور آیا- اُس نے انسانی تاریخ کے رخ کو بدل دیا- مگر عجیب بات ہے کہ مسلم علما اور مورخین نے اِس واقعے کو صرف امتِ مسلمہ کے ایک سیاسی فخر (political glory) کے طور پر لیا- وہ اِس انقلاب کے وسیع تر پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر رہے- لیکن سیکولر مورخین نے اِس پہلو کو دریافت کیا اور کھلے طورپر اس کا اعتراف کیا- انھیں میں سے ایک فرانس کا مورخ ہنری پرین (وفات: 1935) ہے- ہنری پرین نے اِس حقیقت کا اظہار اِن الفاظ میں کیا ہے— اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا- تاریخ کا روایتی ڈھانچہ توڑ دیا گیا:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Islam changed the face of the globe. The traditional order of history was overthrown.
اِس تاریخی واقعے کی اصل اہمیت اِس اعتبار سے نہیں تھی کہ اس کے نتیجے میں ایک مسلم ایمپائر وجود میں آئے- اِس واقعے کی اصل اہمیت یہ تھی کہ اُس نے انسانی تاریخ کے سفر کو صحیح رخ کی طرف موڑ دیا، اس نے انسانی تاریخ کو خدائی منصوبے کے ساتھ ہم آہنگ کردیا-
اللہ تعالی نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو زمین پر بسایا اور اس کو ہر طرح کی آزادی دی- اِس تخلیق کا مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان موجودہ دنیا میں آئڈیل حکومت بنائے یا آئڈیل سماج قائم کرے- انسان کی آزادی کی بنا پر دنیا میں وہی ہونا تھا جس کو فرشتوں نے فساد (2:30) سے تعبیر کیا تھا- تخلیق کے اعتبار سے، فساد کا لفظ کوئی منفی لفظ نہیں- اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں مختلف قسم کے ناموافق حالات پیدا ہوں، تاکہ انسان کے لیے مسلسل طورپر چیلنج کی صورت حال باقی رہے- چیلنج کی یہ صورتِ حال عین مقصودِ تخلیق ہے، کیوں کہ اِسی صورتِ حال کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ افراد کے لیےامتحان کا ماحول جاری رہے اور مطلوب افرادکا انتخاب ممکن ہوسکے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن کی سورہ الانعام میں انسان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: وَلَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰی ى(6:94)-قرآن کے اِن الفاظ کا لفظی ترجمہ شاہ عبد القادر دہلوی نے اِس طرح کیا ہے— اور آئے تم ہمارے پاس ایک ایک- شاہ عبد القادر دہلوی کا یہ ترجمہ قرآن کی مذکورہ آیت کا نہایت صحیح ترجمہ ہے- ’فرادى‘ کا لفظ ’فرد‘ کی جمع ہے، یعنی افراد- قرآن کی یہ آیت خدا کے تخلیقی منصوبے کے ایک اہم پہلو کی طرف اشارہ کرتی ہے- اللہ نے انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کو زمین پر بسایا- اِس آبادکاری کا مقصد یہ نہیں تھا کہ انسان دنیا میں بہتر سماجی نظام بنائے- بہتر سماجی نظام کی جگہ صرف جنت ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا اقامتِ نظام کے لیے نہیں ہے، بلکہ انتخابِ افراد کے لیے ہے- حقیقت یہ ہے کہ انسان کی آزادی کی بنا پر اِس دنیا میں کسی معیاری نظام کا بننا ممکن ہی نہیں- پوری تاریخ میں تقریباً تمام ذہن، مسلم اور غیر مسلم دونوں، ایک ہی مشترک غلطی میں مبتلا رہے ہیں- انھوں نے بہتر سماجی نظام قائم کرنے کو اپنی جدوجہد کا نشانہ بنایا- مگر بلا استثنا سب کے سب اِس مقصد میں ناکام رہے- اس کا سبب یہ تھا کہ اِس قسم کا نشانہ عملی طورپر ممکن ہی نہ تھا، کیوں کہ وہ منصوبہ خداوندی کے خلاف تھا-
خالق نے اپنے منصوبے کے مطابق، دنیا کو اِس طرح بنایا ہے کہ وہ ہمیشہ ’دار الکبد‘ بنی رہے- اِس طرح یہ ممکن ہوتا ہے کہ دنیا میں ہر قسم کے حالات پیدا ہوں- لوگوں کو بار بار نقصان (2:155) کا تجربہ ہو- طرح طرح کے حادثات پیش آئیں- انسان اور شیطان کی طرف سے آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر لوگوں کے درمیان کشمکش جاری رہے- یہ ناموافق حالات عین مطلوب ہیں- کیوں کہ اِسی صورتِ حال کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ ہر انسان کے بارے میں یہ دیکھا جائے کہ مختلف حالات کے درمیان اس نے کیسا رسپانس دیا- اُس نے حالات کو اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے استعمال کیا یا منفی رد عمل میں اپنا وقت ضائع کردیا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
امتحانی صورتِ حال کے اِس نتیجے کا تعلق افراد سے ہے- ہر فرد الگ الگ حالتِ امتحان میں ہے- ہر فرد الگ الگ اپنا ریکارڈ تیار کررہا ہے- ہر فرد الگ الگ یہ بتا رہا ہے کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہے یا نہیں-
اسلامی انقلاب کا مقصد
رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے جو انقلاب آیا اور آخر کار اس کے نتیجے میں دنیا کا نقشہ بدل گیا، وہ اِسی لیے تھا کہ مذکورہ قسم کی حالت دنیا میں غیر منقطع طورپر جاری رہے- اسلامی انقلاب کا مقصد نہ کوئی ایمپائر قائم کرنا تھا اور نہ کوئی بہتر سیاسی یا سماجی نظام- اِس انقلاب کا واحد مقصد یہ تھا کہ فرد کے لیے اپنی شخصیت کی تعمیر کے مواقع لامحدود طور پر کھل جائیں- جو فرد یہ چاہے کہ اس کو حقیقتِ اعلی کو دریافت کرنا ہے، اُس کو اپنی شخصیت کو جنتی شخصیت کے طورپر ڈیولپ کرنا ہے، اِسی کے ساتھ اُس کو دعوت الی الخیر (3:104) کے مشن کو اپنی زندگی کا مشن بنانا ہے، جو فرد یا افراد ایسا چاہیں، اُن کے لیے ہر قسم کے مواقع پوری طرح کھلے رہیں-
اسلامی انقلاب کا مقصد اصلاً یہی تھا- اسلامی انقلاب کا مقصد یہ تھا کہ زمین پر عالمی مواقع کی ایک دنیا (world of universal opportunities) وجود میں آئے- اِس قسم کی ایک دنیا صرف لمبے عمل کے ذریعے بن سکتی تھی- چناں چہ ایسا ہی ہوا- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے بعد تاریخ میں جو پراسس جاری ہوا تھا، وہ تقریباً ہزار سال تک اپنا کام کرتا رہا، یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا-
عجیب بات ہے کہ اسلامی انقلاب کی اِس نوعیت کو نہ مسلم مفکرین نے سمجھا اور نہ غیر مسلم مفکرین نے- دونوں کے لیے اس کا مشترک سبب یہ تھا کہ وہ تاریخ کا مطالعہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کی روشنی میں نہ کرسکے- وہ خود اپنے خود ساختہ ذہن کے تحت تاریخ کا مطالعہ کرتے رہے- اِس بنا پر دونوں گروہوں کا حال یہ ہوا کہ وہ اُس خدائی حکمت (divine wisdom) سے بے خبر رہے جو انسانی تاریخ کے درمیان مسلسل طورپر اور موثر طورپر جاری رہی-
دورِ آزادی
اسلام کا ظہور تاریخ میں ایک انقلاب کا ظہور تھا- رسول اور اصحابِ رسول کی کوششوں کے ذریعے تاریخ انسانی میں پہلی بار آزادی کا دور آیا- اِس سے پہلے ہزاروں سال سے دنیا میں شخصی سلطنت کا مستبدانہ نظام (despotism) قائم تھا- اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہوچکی تھیں کہ بظاہر اُن کو ختم کرنا ناممکن ہوگیا تھا- رسول اور اصحاب رسول کی قربانیوں سے تاریخ میں ایک ایسا طاقت ور پراسس جاری ہوا جس نے شخصی مطلق العنانی کے نظامِ حکومت کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا-قرآن میں اِس انقلابی واقعے کی طرف اِن الفاظ میںاشارہ کیا گیا ہے: وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا(24:55) یعنی ایسا لازماً ہونا ہے کہ دنیا سے دورِ خوف کا خاتمہ ہو اور دورِ امن ابدی طورپر دنیا میں آجائے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حضرت عمر فاروق نے ایک عظیم سلطنت کے حکمراں کی حیثیت سے اپنے عہد خلافت میں اِسی حقیقت کا اظہار کیا تھا، جب کہ انھوں نے ایک واقعے کے بعد مصر کے مسلم گورنر کو خطاب کرتےہوئے کہا: یا عمرو، متى استعبدتم الناس وقد ولدتہم أمہاتہم أحرارا(سیرة عمر بن الخطاب، علی محمد الصلاّبی: 1/306) یعنی اے عمرو، تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنالیا، جب کہ ان کی ماؤں نے اُن کو آزاد پیدا کیا تھا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ انقلابی عمل تاریخ میں جاری رہا، یہاں تک کہ وہ سفر کرتے ہوئے یورپ تک پہنچ گیا- گیارہ سو سال کے بعدفرانس کے جمہوری مفکر روسو(Rousseau) نے اپنی کتاب' سوشل کنٹریکٹ''میں لکھا کہ — انسان آزاد پیدا ہوا تھا، لیکن میں اس کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھتا ہوں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Man was born free, but I see him in chains.
اِسی انقلابی عمل (revolutionary process)کے بعد کے مرحلے میں 1789 میں فرانسیسی انقلاب (French Revolution) کا واقعہ ہوا- اِس انقلابی عمل کی تکمیل 1948 میں ہوئی جب کہ دنیا کی تمام قوموں کے اتفاق سے اقوامِ متحدہ (UNO) کی عالمی تنظیم وجود میں آئی-
انسانی تاریخ میں آزادی کے دور کا آنا کوئی سادہ بات نہ تھی- یہ گویا کہ تاریخ میں ایک شاہ ضرب (master stroke) کا معاملہ تھا جس کے نتیجے میں اُن تمام امکانیات کی انفولڈنگ (unfolding) شروع ہوگئی جس کو خالق نے انسان کے لیے مقدر کیا تھا-
اِس دورِ آزادی کا پہلا فائدہ یہ تھا کہ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق، انسانی زندگی میں آزادی کا وہ دور شروع ہوا جب کہ کھلے ماحول میں ہر عورت اور مرد کا امتحان (test) ممکن ہوسکے- اِسی کے نتیجے میں دنیا کی سیاست میں سیکولرازم اور جمہوریت کا زمانہ آیا جس نے تاریخ میں پہلی بارمذہبی جبر کا مکمل خاتمہ کردیا- اِسی کے بعد یہ ممکن ہوا کہ انسان ہر قسم کے توہمات (superstitions) سے آزاد ہو کر فطرت کا مطالعہ کرے- اِسی مطالعے کا نتیجہ سائنسی علوم کا ظہور تھا جس نے پہلی بار انسان کے لیے اعلی معرفت (higher realization) کا دروازہ کھول دیا- اِسی کے نتیجے میں پرنٹنگ پریس اور جدید مواصلات کی دریافت ہوئی جس نے تاریخ میں پہلی بار عالمی دعوت کو ممکن بنا دیا، وغیرہ-
موجودہ زمانے میں آزادی کو خیر اعلی کہاجاتا ہے- یہ بات بالکل درست ہے-لیکن موجودہ دنیا میں آزادی کے ساتھ آزادی کے غلط استعمال (misuse of freedom)کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے- اِس بنا پر آزادی کی قدر وقیمت کو صرف اُس وقت سمجھا جاسکتا ہے، جب کہ لوگوں کی طرف سے آزادی کے غلط استعمال کے پہلو کو الگ کرکے اس کا مطالعہ کیا جائے- ( 2013)