ہر آدمی کی ایک انا ہوتی ہے- کوئی آدمی اُسی وقت تک معتدل (normal) رہتا ہے جب تک اس کی انا سوئی ہوئی ہو- جیسے ہی آپ اس کی انا کو چھیڑیں، اس کا اعتدال ختم ہوجائے گا- اِسی حقیقت کا اظہار ایک انگریزی مثل میں اس طرح کیاگیا ہے— ہر گز کسی کو فارگرانٹیڈ نہ لو:
Never take someone for granted.
ہر عورت اور مرد پیدائشی طور پر انا کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں- انا (ego) ہر انسان کی شخصیت کا لازمی حصہ ہے، حتى کہ ایسے افراد جو بظاہر متواضع (modest) دکھائی دیتے ہوں، وہ بھی اتنا ہی زیادہ انا کی نفسیات لیےہوئے ہوتے ہیں جتنا کہ بظاہر غیر متواضع انسان- دونوں کے درمیان فرق صرف یہ ہے کہ پہلا شخص اُس وقت انانیت (egoism) کا کیس بنتا ہے جب کہ اس کی انا پر ضرب لگادی جائے، جب کہ دوسری قسم کا انسان ہر وقت کبر (arrogance) کی تصویر بنا رہتا ہے-
ایسی حالت میں سماج کےاندر عافیت کی زندگی گزارنے کا ایک ہی طریقہ ہے، وہ یہ کہ آپ لوگوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں بے حد محتاط رہیں اور کبھی کوئی ایسی بات اپنی زبان سے نہ نکالیں جس سے دوسرے کی انا پر ضرب پڑتی ہو-
یہ ایک عملی حقیقت ہے کہ آدمی سماج کے اندر سب سے لڑ کر نہیں رہ سکتا- ایسی حالت میں سماج کے اندر باعافیت زندگی گزارنے کی ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے — دوسروں کے جذبات کی رعایت کرتے ہوئے اس سے معاملہ کرنا-
اِس معاملے میں آدمی کے پاس صرف دو میں سے ایک کا اختیار (choice) ہے، یا تو دوسروں سے لڑکراپنی زندگی کو غیر ضروری طورپر مشکل بنا لینا، یا اپنے کو بے مسئلہ انسان (no-problem person) بنا کر دوسروں کے شر سے اپنے آپ کو بچالینا- جو آدمی اپنے آپ کو بے مسئلہ بنالے، وہ اِس سے بچ جاتاہے کہ دوسرے انسان اس کے لیے مسئلہ (problem) بنیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔