قرآن کے بارے میں ایک روایت اِن الفاظ میں آئی ہے: عن أبی موسى عن النبی صلى اللہ علیہ وسلم قال: تعاہدوا القرآن، فوالذی نفسی بیدہ لہو أشد تفصیًا من الإبل فی عقلہا (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 5033) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قرآن کی حفاظت کرو، کیوں کہ قرآن اُس سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ نکل جانے والا ہے جس طرح اونٹ اپنی رسی سے چھوٹ کر نکل جاتا ہے-
اِس حدیث میں قرآن کی حفاظت (تعاہد)سے مراد اس کی لفظی حفاظت نہیں ہے، بلکہ اس کی معنوی حفاظت ہے- ’’تعاہد‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ تم قرآن کو مسلسل طو رپر اپنی سوچ کا مرکز بنائے رہو، تمھارے اندر قرآن رخی تفکیر (Quran-oriented thinking) پیدا ہوجائے، تم ہمیشہ قرآن میں نئے نئے معانی تلاش کرتے رہو، تم قرآن کو مسلسل طور پر اپنے ذہن کا حصہ (intellectual part) بنا لو- قرآن کے معانی، بہ الفاظِ دیگر، قرآنی طرزِ فکر، ایک ایسی چیز ہے جو صرف اُس وقت آدمی کے ذہن کا حصہ بنتا ہے جب کہ آدمی اس پر مسلسل طورپر سوچے، جب کہ وہ اس کے تفکیری عمل (thinking process) کا مستقل جز بنا ہوا ہو- اگر ایسا نہ ہوتو قرآن بہت جلد فراموشی کے خانے میں چلا جائے گا- وہ آدمی کے زندہ حافظہ (living memory) میں باقی نہ رہے گا-
اِس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ زندگی میں آدمی ہر لمحہ مسائلِ دنیا سے دوچار رہتا ہے- طرح طرح کے دنیوی تقاضے ہر لمحہ آدمی کو اپنی طرف کھینچتے رہتے ہیں- قرآن مکمل طورپر ایک کتاب آخرت ہے، جب کہ انسان مکمل طورپر ایک دنیوی مخلوق ہے- یہی وہ فرق ہے جس کی طرف مذکورہ حدیث رسول میں اشارہ کیاگیا ہے-اِس صورتِ حال میں کسی مومن کے لیے صاحبِ قرآن بننے کی شرط صرف ایک ہے، وہ یہ کہ وہ اپنے اندر تجریدی فکر (detached thinking) کی صلاحیت پیدا کرے- وہ ایک غیر قرآنی دنیا میں قرآنی ذہن کے ساتھ رہ سکے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔