Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala November 2013
Al-Risala November 2013

دورِ جدید میں سیرت نگاری

Urdu · 2 min read

موجودہ زمانے میں مسلم اہلِ قلم کے درمیان ایک موضوع بہت مقبو ل ہوا ہے- اِس موضوع کو عام طورپر ’’دورِ جدید میں سیرت نگاری‘‘ کہاجاتا ہے- مگر اِس موضوع پر جو کتابیں چھپی ہیں، اُن کو دیکھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کے مصنفین اِس بات سے بے خبر ہیں کہ دورِ جدید میں سیرت نگار ی کا مطلب کیا ہے-حقیقت یہ ہے کہ اصل موضوع سے اِن کتابوں کا کوئی تعلق نہیں-

اِس موضوع پر شائع شدہ کتابوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اُن کے لکھنے والوں نے کچھ مغربی مصنفین کو اسلام کا دشمن فرض کرلیا اور یہ سمجھا کہ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو ’’مسخ‘‘ کرنے کی کوشش کررہے ہیں- اِس مفروضے کے تحت انھوں نے بطور خود اِن ’’اسلام دشمنوں‘‘ کا جواب دینے کی کوشش کی ہے-اِسی جوابی سیرت نگاری کو وہ بطور خود ’’دورِ جدید میں سیرت نگاری‘‘ سمجھتے ہیں-

اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ایک بالکل نیا زمانہ ہے- پچھلے دور کو اگر روایتی دور کہاجائے تو موجودہ دور کو سائنسی دور کہا جائے گا- اب سیرتِ رسول کے اعتبار سے، یہ ضرورت ہے کہ سیرت کو اِس طرح لکھا جائے کہ وہ دورِ جدید سے پوری طرح متعلق (relevant) نظر آئے- موجودہ زمانے کی اصل ضرورت سیرتِ رسول کا یہی ریلونس (relevance)ثابت کرنا ہے، نہ کہ مفروضہ مخالفینِ اسلام کا جواب دینا-

دورِ جدید میں سیرت نگاری ایک اجتہادی موضوع ہے، وہ کوئی روایتی یا تقلیدی موضوع نہیں- اس کام کے لیے ضروری ہے کہ ایک طرف، جدید ذہن کا مطالعہ خالص غیر جانب دارانہ انداز میں کیا جائے اور دوسری طرف، پیغمبر اسلام کی سیرت کو گہرے مطالعے کے ذریعے دوبارہ سمجھنے کی کوشش کی جائے- راقم الحروف کے مطالعے کے مطابق، مغربی مصنفین، اسلام یا پیغمبر اسلام کے مخالف نہیں ہیں، بلکہ اُن کا طریقِ مطالعہ (method of study) مختلف ہے- مسلمان اگر سیرت کا مطالعہ خوش عقیدگی کے ذہن کے تحت کرتے ہیں تو مغربی مصنفین اس کا مطالعہ موضوعی (objective) انداز میں کرتے ہیں- اِسی فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مسلمان اِس معاملے میں غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.