قرآن کی سورہ النحل میں قرآن کی ایک خصوصیت اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّہُدًى وَّرَحْمَةً وَّبُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ (16:89) یعنی ہم نے تم پر الکتاب اتاری ہے جس میں ہر چیز کا کھلا بیان ہے- اور ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے فرماں برداروں کے لیے-
’تبیانًا لکل شیء‘ کا مطلب کیا ہے- اس کا مطلب ہے —مقصدِ قرآن کی نسبت سے ہر چیز کا بیان- اِس سے مراد عام انسانی فہرست نہیں ہے، بلکہ اِس سے اُس دین کی فہرست ہے جو اللہ کو مطلوب ہے- مشہور عربی لغت لسان العرب میں اِس کی توضیح اِن الفاظ میں کی گئی ہے: بُین لک فیہ کلُّ ما تحتاج إلیہ أنت وأمتک من أمر الدین (68/13) یعنی قرآن میں اُن تمام چیزوں کو بیان کردیا گیا ہے جو امرِ دین کی نسبت سے تمھارے لیے اور تمھاری امت کے لیے ضروری ہیں-
جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن میں تمام سائنسی مضامین اور تمام عمرانی علوم (social sciences) موجود ہیں، وہ اس سے بے خبر ہیں کہ قرآن کا مقصد نزول کیا ہے-قرآن اِس لیے نہیں اتارا گیاہے کہ وہ انسان کو تمام دنیوی علوم سے واقف کرائے- حدیث میں واضح طورپر اس کی تردید موجود ہے- تابیرِ نخل کے واقعے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس معاملے کو ایک جامع اصول کے طورپر اِن الفاظ میں بیان کیا ہے: أنتم أعلم بأمر دنیاکم (صحیح مسلم، رقم الحدیث:6277 )
اصل یہ ہے کہ قرآن اِس لیے اتارا گیا ہے کہ وہ انسان کو اس کی ابدی فلاح کے معاملے میں رہنمائی دے- اِس ابدی فلاح کا تعلق آخرت کی فلاح سے ہے- قرآن میں اُن رہنما اصولوں کو بتایا گیا ہے جن کی پیروی کرکے انسان آخرت کی ابدی زندگی کو کامیاب بنا سکتا ہے- جہاں تک دنیوی معاملات کا تعلق ہے، اس کے بارے میں انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی تحقیق اور تجربے کے ذریعے اُن کو معلوم کرے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔