زندگی ہر انسان کے لیے ایک سفر ہے، اور موت وہ لمحہ جب کہ اس سفر پر آخری فل اسٹاپ (full stop)لگ جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں بار بار مختلف قسم کے وقفے آتے ہیں۔ مگر یہ وقفے صرف کاما (،) ہوتے ہیں۔ مثلاً آپ اپنے وطن سے سفر کرکے کسی دوسرے مقام پر جاتے ہیں، اور پھر اپنے مقام پر دوبارہ واپس آجاتے ہیں تو یہ کاما (،) کا ایک واقعہ ہوتا ہے، نہ کہ فل اسٹاپ کا ایک واقعہ۔ مگر موت ہمیشہ پوائنٹ آف نو رِٹرن پر آتی ہے۔ موت ہر آدمی کے لیے ایک فل اسٹاپ ہے۔ اس معاملے میں آدمی کے لیے سوچنے کا موقع صرف اس وقت تک ہے، جب کہ اس کی موت نہ آئی ہو۔ موت کے آتے ہی دفعۃً سوچنے کا موقع ختم ہوجاتا ہے۔ موت سے پہلے آدمی کے لیے کرنے کا موقع ہوتا ہے، اور موت کے بعد آدمی کے لیے اپنے کیے ہوئے کو بھگتنے کا موقع۔
موت کا سب سے زیادہ سنگین پہلو یہ ہے کہ وہ اعلان کرکے نہیں آتی، بلکہ اچانک آتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ موت کا فرشتہ پیشگی طور پر آکر آدمی کو بتادے کہ فلاں وقت پر موت آنے والی ہے، تم کو جو تیاری کرنا ہے، وہ کرلو۔ اس کے برعکس، جو ہوتا ہے ، وہ یہ کہ موت بالکل اچانک آجاتی ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان جو واقعہ پیش آتا ہے،و ہ صرف اس حادثے کا نام ہے، جس کو انسانی زبان میں غرغر ہ کہاجاتا ہے۔اس سلسلے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:إِنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ لَیَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِ، مَا لَمْ یُغَرْغِرْ(سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 4253)۔ یعنی اللہ عز وجل بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے، جب تک اس پر غرغرہ نہ طاری ہوجائے:
Allah accepts the repentance of man so long as the death rattle has not yet reached his throat.
موت کسی آدمی کے لیے موجودہ دنیا سے انقطاعِ کلی (total detachment) کا نام ہے۔ آدمی جب تک موجودہ دنیا میں ہے، وہ اپنے آپ کو دنیا کا ایک اٹوٹ حصہ سمجھتا ہے۔ وہ اس نفسیات میں جیتا ہے کہ یہ میرا گھر ہے، یہ میری فیملی ہے، یہ میرا مال ہے،یہ میرے لوگ ہیں، یہ میری بنائی ہوئی دنیا ہے، وغیرہ۔ مگر موت آتے ہی اس کی ڈکشنری سے یہ تمام الفاظ اچانک ڈیلیٹ ہوجاتے ہیں۔ اب وہ اپنے آپ کو کامل معنوں میں اکیلا پاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے تو اس کو نہ اپنے آگے کوئی دکھائی دیتا ہے، اور نہ اپنے پیچھے، اس کو نہ اپنے دائیں طرف کوئی دیکھائی دیتا ہے، اور نہ اپنے بائیں طرف۔ حتی کہ اس کے قدموں کے نیچے کی زمین بھی جہاں وہ کھڑا ہوا ہے، اس کی اپنی زمین نہیں ہوتی۔ یہ اس کے لیے آخری حد تک ایک تنہائی اور بے بسی کا لمحہ ہوتا ہے۔
موت کا واقعہ آدمی کے لیے موت کے بعد کامل بے بسی کا واقعہ ہوگا۔ لیکن اگر آدمی موت کے واقعے کو موت سے پہلے سوچ لے تو موت کا واقعہ اس کے لیے سب سے بڑے انقلاب کے ہم معنی بن جائے گا۔ وہ انسان کو ایک اور انسان بنا دے گا۔ اس سوچ سے پہلے آدمی اگر جہنم کے کنارے پر کھڑا ہوا تھا تو اب وہ اچانک اپنے آپ کو جنت کے کنارے کھڑا ہوا پائے گا۔ موت بلاشبہ کسی آدمی کی زندگی کا سب سے بڑا واقعہ ہے، اس سے بڑا واقعہ اور کوئی نہیں۔ موت بظاہر ایک تین حرفی لفظ ہے۔ لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے وہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ ڈکشنری کے تمام الفاظ بھی اس کی سنگینی کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔
موت کے بارے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے:أکْثِرُوا ذِکْرَ ہَادِمِ اللَّذَّاتِ، یَعْنِی الْمَوْتَ(سنن ابن ماجہ، حدیث 4258)۔یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، جو لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ ایک شخص جب مرتا ہے، اور اس کو تکفین کے بعد قبر میں لٹایا جاتا ہےتو وہ ایک طوفان خیز منظر ہوتا ہے۔ آدمی کے اندر اگر بیدار ذہن موجود ہو تو تدفین کے منظر کو دیکھ کر اس کو حقیقی طور پر موت کی معرفت حاصل ہوجائے۔ اس تجربے کے بعد وہ یقینی طور پر ایک نیا انسان بن جائے گا۔ اس تجربے کے بعد وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا جو ہر اعتبار سے ایک نیا انسان ہوگا، وہ ایسا محسوس کرے گا، جیسے کہ پہلے اگر وہ دنیا میں جینے والا بنا ہوا تھا تو اب وہ پورے معنوں میں آخرت میں جینے والا بن گیا ہے۔ آخرت کی دنیا میں داخل ہونے سے پہلے وہ آخرت کی دنیا میںداخل ہوگیا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔