ہر آدمی ایک مسافر ہے۔ ہر آدمی پیدائش سے موت کی طرف سفر کررہا ہے۔ طبعی عمر پورا کرنے کے بعد ہر آدمی ایک ایسی حد پر پہنچے گا، جہاں وہ محسوس کرے گاکہ اب اس کے لیے پوائنٹ آف نورِٹرن (point of no return) آگیا ہے۔ جہاں وہ صرف آگے جاسکتا ہے، پیچھے کی طرف لوٹنا، اب اس کے لیے ممکن نہیں ۔ انسان پر جب یہ لمحہ آئے گاتو اس کا عجیب حال ہوگا۔ وہ سوچے گا، مگر وہ سوچ نہیں پائے گا۔ وہ چلنے کی کوشش کرے گا، مگر وہ چل نہیں پائے گا۔ وہ پکارے گا، مگر کوئی سننے والا نہ ہوگا۔ وہ لوٹنا چاہے گا، مگر لوٹنے کے لیے کوئی راستہ نہیںملےگا۔ وہ اپنی زندگی کی ری پلاننگ کرنا چاہے گا، مگر اس کو بتانے والا بتائے گا کہ اب تمھارے لیے اپنی زندگی کی ری پلاننگ کا وقت ختم ہوچکا۔ یہ مایوسی کا وہ لمحہ ہوگا، جو اپنے آپ میں ایک ناقابلِ برداشت عذاب ہوگا۔ پوائنٹ آف نورِٹرن کا یہ لمحہ انسان کے لیے زندگی کے تمام کٹھن تجربات سے کٹھن تجربہ ہوگا۔
اگر آپ کو یہ احساس ہوجائے کہ آپ پر کسی بھی وقت وہ لمحہ آسکتا ہے، جو آپ کے لیے ہمیشہ کے لیے پوائنٹ آف نو رِٹرن کے ہم معنی ہوگاتو آپ آخری حد تک الرٹ ہوجائیں گے۔ آپ کو اگر یہ عادت ہے کہ آپ آدھا کام کر کےچھوڑ دیتے ہیںتو آپ چاہیں گے کہ آپ اپنی اس عادت کو ایک لمحے میں ترک کر دیں۔ اگر آپ آخرت فراموشی کی زندگی گزاررہے ہیںتو آپ فوراً آخرت کو یاد کرنے والے بن جائیں گے۔ اگر آپ کا یہ حال ہے کہ آپ اپنی غلطیوں کو بھولے ہوئے ہیں، اور آپ صرف دوسروں کی غلطیاں بتانے کے ماہر ہیںتو آپ فورا اس عادت کو چھوڑ دیں گے۔
آخرت میں ہر ایک کا معاملہ اس بنیاد پر ہوگا کہ اس نے اپنی خداداد صلاحیت (God-given quality) کو صحیح طورپر استعمال کیا یا نہیں۔جوانسان اِس زمین پر پیدا ہوتا ہے، اُس کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دریافت کرے۔ وہ اِس دنیا میں اپنے رول کو سمجھے، اور اللہ کی ہدایت کے مطابق، اپنے اِس رول (کر دار) کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ادا کرے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.