Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2020
Al-Risala May 2020

حسرت کا دن

Urdu · 2 min read

آخرت کا دن تمام انسانوں کے لیے ، بالفاظِ دیگر پوری انسانی تاریخ کے لیے فیصلے کا دن ہوگا۔ اس دن موقع گنوانے والے کے ساتھ کیا پیش آئے گا، اس کا ذکر قرآن کئی مقام پر آیا ہے۔ ان میں سےایک آیت یہ ہے:کَذَلِکَ یُرِیہِمُ اللَّہُ أَعْمَالَہُمْ حَسَرَاتٍ عَلَیْہِمْ وَمَا ہُمْ بِخَارِجِینَ مِنَ النَّارِ (2:167)۔یعنی اس طرح اللہ ان کے اعمال کو انھیں حسرت بنا کر دکھائے گا اور وہ آگ سے نکل نہ سکیں گے۔ دوسری آیت یہ ہے: وَأَنْذِرْہُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِیَ الْأَمْرُ وَہُمْ فِی غَفْلَةٍ وَہُمْ لَا یُؤْمِنُونَ (19:39)۔ یعنی اور ان لوگوں کو اس حسرت کے دن سے ڈرا دو جب معاملے کا فیصلہ کردیا جائے گا، اور وہ غفلت میں ہیں۔ اور وہ ایمان نہیں لا رہے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یومِ حسرت سے مراد ہےday of regret۔ آخرت کے دن انسان اس بات پر بے پناہ حسرت کرے گا کہ آہ، اس کو خالق نے کیسا اعلیٰ موقع دیا تھا، لیکن اس نے اس موقع کو اویل (avail) نہیں کیا۔ آخرت میں یہ حسرت انسان کے لیے حسرت کی آگ بن جائے گی۔ وہ محرومی کے شدید احساس کے ساتھ سوچے گا کہ کیسا عجیب موقع تھا، جو اس سے کھویا گیا۔ آدمی اپنی گزری ہوئی زندگی کو حسرت کے ساتھ دیکھے گا ،اور کچھ نہ کرسکے گا۔

آدمی دنیا میں ناکامی سے دو چار ہوتا ہے تو اس کو موقع ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ نئی زندگی شروع کرسکے۔ اس کے پاس ساتھی اور مددگار ہوتے ہیں جو اس کو سنبھالنے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں، مگر آخرت کی ناکامی ایسی ناکامی ہے، جس کے بعد دوبارہ سنبھلنے کا کوئی امکان نہیں۔ کیسا عجیب حسرت کا لمحہ ہوگا جب آدمی یہ جانے گا کہ وہ سب کچھ کرسکتا تھا۔ مگر اس نے نہیں کیا۔ یہاں تک کہ کرنے کا وقت ہی ختم ہوگیا۔حسرت (regret) بھی ایک آگ کی مانند ہے۔ جس طرح معروف آگ مادی آگ ہے۔اسی طرح حسرت نفسیاتی آگ ہے۔ حسرت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو شدید احساس ہو کہ آہ کیسا قیمتی موقع تھا، جو اس سے کھویا گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content