Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala may 2015
Al-Risala may 2015

شکر اور ناشکری

Urdu · 2 min read

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک غزوہ پیش آیا جس کو غزوۂ حنین کہا جاتا ہے- اس غزوہ میں کافی بھیڑ بکری غنیمت کی صورت میں حاصل ہوئیں- رسول اللہ نے غنیمت کا سامان مہاجرین میں تقسیم کردیا اور انصار کو کچھ نہیں دیا(ولم یعط الانصار شیئا)۔ اس واقعہ کو لے کر کچھ انصار کے درمیان شکایت پیداہوئی- اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےانصار کے لوگوں کو جمع کرکے ایک تقریر کی- آپ نے فرمایا کہ اے انصار، کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ بھیڑ بکری لے جائیں اور تم اللہ کے رسول کو اپنے گھروں کو لے جاؤ ( أترضون أن یذہب الناس بالشاة والبعیر، وتذہبون بالنبی إلى رحالکم)صحیح البخاری: 4330 -

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس کا مطلب دوسرے لفظوں میں یہ تھا کہ دوسروں کو اگر میں نے بھیڑ بکری دی ہے تو تم کو تو میں نے خود اپنے آپ کو دے دیا ہے-

یہ انسان کی عام کمزوری ہے کہ وہ اپنے ملے ہوئے کو نہیں دیکھ پاتا اور دوسرے کو جو کچھ ملے وہ اس کو بہت زیادہ نظر آتا ہے- فطرت کے قانون کے مطابق ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ملی ہوئی چیز بظاہر زیادہ ہوتی ہے، اور نہ ملی ہوئی چیز بظاہر کم- ایسی حالت میں مذکورہ قسم کا مزاج بے حد خطرناک ہے- اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی کے اندر سے شکر کا جذبہ نکل جائے گا، وہ ناشکری میں جینے لگے گا- اور یہ نقصان بلاشبہہ تمام نقصانات سے زیادہ ہے- جو چیز آدمی کے اندر ناشکری پیدا کرے اس کے غلط ہونے میں کوئی شک نہیں-

دین میں سب سے زیادہ اہمیت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا شکر گزار بندہ بنے۔ اس کے صبح و شام شکر کی نفسیات میں بسر ہوتے ہوں۔ لیکن ضروری ہے کہ آدمی اس معاملے میں اپنے شکر کی حفاظت کرے۔ شکر کی حفاظت کرنے سے شکر باقی رہے گا، اور حفاظت نہ کرنے سے شکر کا احساس آدمی کے اندر سے رخصت ہوجائے گا۔ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے ، جب کہ آدمی ہر لمحہ اپنا نگراں بنا رہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content