Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Al-Risala may 2015
Al-Risala may 2015

تقدیر اور تدبیر

Urdu · 4 min read

Destiny and Free Will

انسان آزاد ہے یا مجبور۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ففٹی ففٹی کا معاملہ ہے۔ انسان ایک اعتبار سے آزاد ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ مجبور ہے۔ اپنی روز مرہ کی زندگی میں ہر عورت اور مرد آزادانہ طور پر اپنا کام کرتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ وہ بار بار محسوس کرتے ہیں کہ ان کی ذات کے باہر بھی کچھ طاقتیں ہیں جن کو نظر انداز کر کے وہ اس دنیا میں اپنا کام نہیں کر سکتے۔

یہ دو طرفہ تقاضے کیا ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ایک ہے خود انسان کی شخصیت، اور دوسری چیز ہے وہ حالات جن کے درمیان کسی آدمی کو اپنا کام کرنا پڑتا ہے۔ اِن حالات کو فطرت کا قائم کیا ہوا انفراسٹرکچر (infrastructure) کہا جاسکتا ہے۔ جہاں تک انسان کی ذات کا تعلق ہے وہ پوری طرح آزاد ہے۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ جس طرح چاہے سوچے، وہ جو بات چاہے بولے، جس رخ پر چاہے اپنی زندگی کا سفر شروع کرے۔ اس اعتبار سے انسان مکمل طور پر آزاد ہے۔

دوسری چیز وہ ہے جس کو انفراسٹرکچر کہا جاسکتا ہے۔ یہ انفراسٹرکچر مکمل طور پر فطرت کا قائم کیا ہوا ہے۔ یہ انفراسٹرکچر دنیا میں اپنے آپ قائم ہے۔ انسان کو یہ طاقت حاصل نہیں کہ وہ اس انفراسٹرکچر کو بدل ڈالے یا اس کو نظر انداز کر کے اپنے عمل کی منصوبہ بندی کرے۔

مثال کے طور پر ایک انسان زمین پر چلتا ہے۔ یہ چلنا انسان کی اپنی آزادی کا معاملہ ہے۔ لیکن اس چلنے کے لئے ضرورت ہے کہ آدمی کے قدموں کے نیچے ایک زمین ہو ۔ اس زمین کے اندر قوتِ کشش ہو، اور پھر انسان کے اوپر ہوا کا دباؤ ہو، وغیرہ۔ یہ چیزیں خارجی انفراسٹرکچر کی حیثیت رکھتی ہیں، اور اس خارجی انفراسٹرکچر کے بغیر چلنے کا عمل ممکن نہیں، نہ کسی عورت کے لئے اور نہ کسی مرد کے لئے۔ یہی معاملہ دوسری ان تمام چیزوں کا ہے جن کے درمیان انسان اپنا عمل کرتا ہے۔

اسی طرح انسان سانس لیتا ہے۔ سانس لینا یا نہ لینا انسان کے اپنے اختیار کی بات ہے۔ لیکن درست طور پر سانس لینے کے لئے ضروری ہے کہ باہر کی دنیا میں آکسیجن کی سپلائی کا نظام موجود ہو۔ آکسیجن کی مسلسل سپلائی کے بغیر کوئی آدمی سانس نہیں لے سکتا۔ جب کہ سانس کے بغیر انسان کے لئے اس دنیا میں زندہ رہنا ممکن نہیں۔

یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان دو طرفہ تقاضوں کے درمیان ہے۔ ایک اعتبار سے وہ آزاد ہے، اور دوسرے اعتبار سے وہ مجبور ہے۔ اپنے ارادے کے استعمال کے اعتبار سے وہ پوری طرح آزاد ہے۔ لیکن اس اعتبار سے وہ مجبور ہے کہ اپنے ارادے کا آزادانہ استعمال وہ خالق کے مقرر کیے ہوئے انفراسٹرکچر کے بغیر نہیں کر سکتا۔جبر و اختیار کی اس درمیانی صورتِ حال کو علم العقائد میں وَسَطِیّہ کہا جاتا ہے۔ یہی وسطیہ کا نظریہ اس معاملے میں صحیح نظریہ ہے۔

تقدیر اور تدبیر کی بحث بہت پرانی ہے۔ قدیم فلاسفہ نے اس پر بہت کچھ لکھا ہے، اور بعد کے زمانے میں بھی اس پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مگر اس موضوع پر لوگوں نے جوکچھ لکھا ہے اس کو پڑھ کر قاری کو کنفیوزن کے سوا کچھ اور نہیں ملتا۔ آدمی اس مسئلے کا واضح جواب چاہتا ہے۔ لیکن اس کو موجودہ لٹریچر میں اس کا واضح جواب نہیں ملتا۔

اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ عام طور پر کسی ایک پہلو کی طرف جھک جاتے ہیں۔ وہ سارے معاملے کو بھلا کر تقدیر کا مسئلہ سمجھ لیتے ہیں یا تدبیر کا۔ مگر اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ یک طرفہ سوچ درست نہیں۔ یہ لوگ جب اس معاملے کو تقدیر کا مسئلہ بتا کر اس کی وضاحت کرتے ہیں تو قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ تدبیر کا پہلو اس میں نظر انداز ہوگیا ہے۔ اسی طرح جو لوگ تدبیر کو اصل قرار دے کر اس پر بحث کرتے ہیں تو قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں تقدیر کے پہلو کی رعایت موجود نہیں۔ یہی چیز ہے جو قاری کے لیے کنفیوزن کا سبب بن جاتی ہے۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، یہ مسئلہ تقدیر اور تدبیر دونوں کے درمیان کا مسئلہ ہے۔ اگر آپ دونوں پہلوؤں کو لے کر غور کریں تو کنفیوزن ختم ہوجائے گا۔ اور آپ اس مسئلے کے بارے میں یقینی جواب تک پہنچ جائیں گے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.