Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala may 2015
Al-Risala may 2015

مسلسل فکری ارتقا

Urdu · 2 min read

قرآن میں فطرت کے ایک قانون کو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: فَأَثَابَکُمْ غَمًّا بِغَمٍّ لِکَیْلَا تَحْزَنُوا عَلَى مَا فَاتَکُمْ وَلَا مَا أَصَابَکُمْ (3:153)۔ یعنی پھر اللہ نے تم کو غم پر غم دیا تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس چیز پر جو تم سے کھوئی گئی ہے، اور نہ اس مصیبت پر جو تم پر پڑے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک غم کے بعد دوسرے غم میں مبتلا کرنے کی حکمت کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ جب ایک غم پر کچھ مدت گزرجاتی ہے تو آدمی اس کا خوگر (used to) ہوجاتاہے۔اس طرح وہ غم اس کے لیےفکری مہمیز کی حیثیت سے باقی نہیں رہتا۔ اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ انسان کے اوپر ایک صدمہ کے بعد دوسرا صدمہ ڈالا جائے تاکہ اس کی فکر مسلسل طور پر زندہ (alive)رہے۔ اس کے اندر فکری ارتقا (intellectual development) کا عمل نان اسٹاپ طور پر جاری رہے۔

انسان لامحدود پوٹنشل (potential) کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ اس پوٹنشل کو ان فولڈ (unfold)کرنے کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اس پر صدمہ (shock)کے تجربات گزریں۔ یہ صدمہ بار بار پیش آنا چاہئے، ورنہ انسانی فطرت کے مطابق اس کی تاثیر خبط ہو جائے گی۔صدمہ خود کوئی فکری واقعہ نہیں۔ صدمہ کا رول صرف یہ ہے کہ وہ آدمی کو شاک (shock)پہنچائے۔ اس صدمہ کے اثر سے اپنے آپ یہ ہوتا ہے کہ اس کے پوٹنشل، خود فطرت کے قانون کے تحت اَن فولڈ ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ویسا ہی واقعہ ہے جیسے سیب کے اوپر دباؤ ڈالنے سے اس کا رس نکلنے لگتا ہے، اور اس وقت تک جاری رہتا ہےجب تک دباؤ کا عمل جاری رہے۔ دباؤ کا عمل ختم ہوجائے تو سیب سے رس کا نکلنا بھی بند ہو جائےگا۔

کسی انسان کے لیے سب سے بڑی ضرورت شخصیت کا ارتقا (personality development) ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق شخصیت کا ارتقا ہمیشہ دباؤ (problems and challenges)) کے حالات میں ہوتا ہے، یہ انسان کی ایک فطری ضرورت ہے کہ وہ ہمیشہ دباؤ کے حالات میں رہے تاکہ اس کی شخصیت کا ارتقا غیر منقطع (non-stop)طور پر جاری رہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content