امت مسلمہ کو خیر امت کہا گیا ہے۔ یہ خیر باعتبار واقعہ نہیں ہے، بلکہ باعتبارِ امکان ہے۔ اقراری مومن ہونے کی بنا پر مسلمانوں کے اندر خیرکا ایک امکان چھپا ہوا ہے۔ اس امکان کو استعمال کرکے امت کو حقیقی معنوں میں خیر امت بنایا جاسکتا ہے۔
وہ امکان یہ ہے کہ داعی اور امت کے درمیان ایک متفقہ بنیاد (accepted common ground) موجود ہے۔ وہ یہ کہ امت اپنے عقیدہ کے اعتبار سے قرآن کو مستند کلام (authentic word) سمجھتی ہے۔ جو بات قرآن کے حوالے سے کہی جائے، امت اپنے عقیدہ کے اعتبار سے اپنے کو مجبور پائے گی کہ وہ اس کو بطور حقیقت تسلیم کرے اور اس کا اتباع کرے۔
مثال کے طور پر اگر آپ امت کے افراد سے یہ کہیں کہ تم قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہو، اس کی پہلی آیت ہے: الحمد للہ رب العالمین (1:1) ۔ اس آیت کو تم روزانہ بار بار اپنی نمازوں میں دہراتے ہو۔ اس کا تقاضا ہے کہ تم حمد اسپرٹ کو اپنی زندگی میں شامل کرو۔ اگر تم حمد اسپرٹ کو اپنی زندگی میں شامل نہ کرو اور اس کو صرف زبان سے دہراؤ تو قرآن کی تعلیمات کے مطابق یہ اندیشہ ہے کہ تم کو اللہ کی عدالت میں منافق قرار دیا جائے۔
قرآن کی آیت دراصل ایک حقیقت کا اعلان ہے۔ وہ یہ کہ اس عالم کے رب نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ آدمی ہر وقت اس پر شکر کا رسپانس (response) دیتا رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اپنی سوچ کی اس طرح تربیت کرو کہ تمھاری زندگی کا ہر تجربہ اور تمھارے آس پاس کا ہر واقعہ تمھارے ذہن میں شکر کا آئٹم بن جائے- تم تھرلنگ (thrilling) شکر میں جینے والے بن جاؤ۔ حمداسپرٹ میں جینا مسلم کی نسبت سے بھی مطلوب ہے، اور غیر مسلم کی نسبت سے بھی۔اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ: جو شخص انسان کا شکر نہ کرے وہ اللہ کا شکر نہیں کرے گا ( من لم یشکر الناس، لم یشکر اللہ عز وجل) مسند احمد: 7504
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔