لمبے تاریخی عمل (historical process)کے نتیجے میںدنیا کے اندر ایک نیا دور آیا ہے۔ بیسویں صدی میں یہ دور اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے، اور اب اکیسویں صدی میں اس کا سفر جاری ہے۔ اس دور کا ایک انقلابی نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اس نے تاریخ میں پہلی بار مساوات (equation) کو بدل دیا ہے۔ پچھلے ہزاروں سال سے دنیا میں جو مساوات قائم تھی ، وہ پرو مذہب اور اینٹی مذہب کی مساوات تھی۔اب دنیا میں ایک نئی مساوات قائم ہوئی ہے، جو پرو مذہب اور موافقِ مذہب کے اصول پر قائم ہے۔
مساوات (equation)کی یہ تبدیلی ایک عالمی اصول (universal norm)کا نتیجہ ہے۔ وہ یہ کہ نئے زمانہ نے قوموں کے اتفاق رائےسے یہ کیا کہ پرامن اختلاف رائے(peaceful dissent)کو انسان کا مطلق حق (absolute right) قرار دے دیا ۔اس عالمی اصول کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی کو مطلق طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی رائے کو یا اپنے نقطۂ نظر کو دنیا میں کہیں بھی بلا روک ٹوک پیش کرے۔دنیا میں کوئی بھی اس کو اس عمل سے روکنے والانہیں۔وہ ہر اجتماعی ادارہ کو اپنے نظریہ کی تبلیغ کے لیے استعمال کرے، مثلا کانفرنس ، سیمینار، ورک شاپ، ایگزبیشن، ایر پورٹ، لائبریری، پارک،وغیرہ- جہاں کہیں بھی چند انسان ہیں، وہاں اس کو ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہےکہ وہ جس بات کو سچ سمجھتا ہے، اس کو وہ لوگوں کے سامنے پیش کرے۔
اظہارِ رائے کے اس مطلق حق کی صرف ایک ہی شرط ہے، اور وہ یہ ہے کہ آدمی کبھی دوسروں کے لیے جارح (aggressor) نہ بنے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حق کی پرامن دعوت اسی طرح ہر انسان کا حق ہے، جس طرح ہوا میں سانس لینا، یا سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھانا۔ یہ ایک انوکھی نعمت ہے جو موجودہ زمانے میں حق کے داعیوں کو حاصل ہوئی ہے۔موجودہ زمانے میں جولوگ اسلام کے نام پر تشدد کلچر چلارہے ہیں، وہ صرف اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ وہ دور جدید کے اس پہلوسے کامل طور پر بے خبر ہیں۔ اگر وہ دورِ جدید کو جانتے تو وہ یہ کہتے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم گن سمندروں میں ڈال دیں، اوربم کے بجائے قرآن اور اسلامی کتابوں کو لے کر ساری دنیا میں پھیل جائیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔