Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala may 2015
Al-Risala may 2015

دولت پرستی

Urdu · 2 min read

کلچر کے اعتبار سے دنیا میں بہت سے مذہب پائے جاتے ہیں۔ لیکن نظریاتی حقیقت کے اعتبار سے آج کی دنیا کا مذہب صرف ایک ہے، اور وہ دولت پرستی (money worship)ہے۔ آج تقریبا ہر انسان کا مقصد حیات یہ بن گیا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرے۔ آج ہر عورت اور مرد کا واحد کنسرن (sole concern) دولت کا حصول ہے۔اس معاملے میں بظاہر مذہبی انسان اور غیرمذہبی انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔

موجودہ زمانے میںسائنسی تحقیقات کے بعد دنیا میں ترقی (development) کا ایک نیا دور آیا ۔مادی ضرورت کی بے شمار نئی چیزیںایجاد ہوئیں۔ اس بعد اس کا کمرشلائزیشن ہوا۔بے شمار نئے نئے آئٹم بازار میں فروخت ہونے لگے۔یہ دیکھ کر ہر آدمی یہ محسوس کرنے لگا کہ اگر میرے پاس پیسہ ہو تو میںہر چیز کو خرید سکتا ہوں، خواہ وہ سوئی اور پنسل ہو یا کار اور ہوائی جہاز۔موجودہ زمانے میں ٹی وی اور اشتہارات نے اس کلچر میں بہت زیادہ اضافہ کردیا ہے۔

یہی کمرشل کلچر ہے، جس کے نتیجے میں ساری دنیا میں منی کلچر (money culture) آگیا۔ ہر آدمی زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کا حریص بن گیا۔ یوپی کا ایک کامیاب وکیل دہلی آیا، وہ دہلی کی ایک پوش کالونی میں ایک گھر لینا چاہتا تھا۔ کسی نے اس سے کہا کہ تم اتنی زیادہ مہنگی کالونی میں کیوں گھر لینا چاہتے ہو۔ اس نے جواب دیا:

I don't want my Mercedes to be parked next to a Santro car.

یعنی میں نہیں چاہتا کہ میری قیمتی کار کسی سستی کار کے پاس کھڑی ہو۔ مذکورہ آدمی کا یہ جملہ آج کے انسان کے مزاج کو بتاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ مزاج ہر عورت اور مرد کے اندر پایا جاتا ہے- کسی کے اندر کم اور کسی کے اندر زیادہ، کوئی اپنی زبان سے اس کا اظہار کردیتا ہے اور کوئی اپنی زبان سے اس کا اظہار نہیں کرتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.