← Al-Risala may 2015Al-Risala may 2015
مغربی تہذیب، مؤید تہذیب
Urdu · 4 min read
بیسویں صدی کے نصف اول میں کمیونزم کا عروج ہوا۔ اس زمانے میں کمیونسٹ لوگوں نے یہ نظریہ بنایا: جو ہمارا ساتھی نہیں، وہ ہمارا دشمن ہے۔مگر یہ ثنویت (dichotomy) غلط تھی۔ فطرت کے قانون کے مطابق صحیح بات یہ ہے کہ جو ہمارا ساتھی نہیں، وہ ہمارا امکانی موید (potential supporter) ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلم علما اور مسلم رہنما بھی اسی غیرفطری سوچ کا شکار ہو گئے۔ حدیث کے مطابق وہ بصیر زمانہ (صحیح ابن حبان: 361) ثابت نہ ہو سکے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس بے خبری کی بنا پر انھوں نے یہ رائے قائم کرلی کہ مغربی تہذیب ، اسلام دشمن تہذیب ہے۔ حالاںکہ البخاری کی ایک روایت (3062) کے مطابق وہ اسلام مؤید تہذیب (supporting civilization) تھی۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
دوسری عالمی جنگ کے زمانے میں مولانا شبلی نعمانی نے ایک نظم لکھی، جس کا ایک شعر یہ تھا:
کہاں تک لوگے ہم سے انتقامِ فتح ایوبی دکھاؤگے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کب تک
آسٹریا کے نومسلم لیوپولڈ اسد نے اپنی کتاب Islam at the Crossroads میں لکھا ہے کہ مسیحی یورپ کے لیے اسلام کے خلاف تعصب ان کا پشتینی روگ بن چکا ہے۔
other sourceWords of another person or source
Their prejudice against Islam is simply an atavistic instinct
شامی عالم الشیخ عبد الرحمٰن حسن حبنکہ المیدانی نے عربی زبان میں سلسلۃ اعداء الاسلام کے تحت کئی کتابیں لکھی ہیں، ان میں سے ایک کتاب یہ ہے: اجنحۃ المکرالثلاثۃ و خوافیھا (التبشیر، الاستشراق، الاستعمار)۔ اس کتاب میں انھوں نے عالمی سطح پرکام کرنے والی تین مسلم مخالف سازشوں کا ذکر کیا ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کو تباہ کردینا چاہتی ہیں۔ وہ تین سازشیں یہ ہیں، تبشیر (Christian Mission) استشراق (Orientalism)، استعمار (Colonialism)۔
other sourceWords of another person or source
یہ باتیں بلاشبہ اندھے پن کی حد تک بے خبری کی باتیں ہیں۔ اصل حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں اللہ تعالی نے حالات میں ایسی انقلابی تبدیلیاں کی ہیں ، جس کے نتیجہ میں پورا دور عملاً اسلام کی تائید (support)کا دور بن گیا ہے۔ قدیم زمانے میں جو مساوات (equation) تھی ، وہ حامیانِ حق اور مخالفین حق کے درمیان تھی۔ اب جدید تبدیلیوں کے بعد ایک نئی مساوات (equation) قائم ہوئی ہے، اور وہ ہے حامیان حق اور مؤیدین حق کی مساوات۔
موجودہ زمانے میں جو نئے ظاہرے پیدا ہوئے ہیں، وہ سب کے سب مؤیدین اسلام (supporters of Islam) ہیں ، نہ کہ مخالفِین اسلام— مغربی تہذیب، جمہوریت، کھلاپن (openness)، فکری آزادی، مذہبی ناطرف داری، اقوام متحدہ، سائنسی دریافتیں، صنعتی انقلاب، جدید سیاحت (modern tourism)، کانفرنس کلچر، لائبریری کا ادارہ، وغیرہ۔ سب کے سب اسلام کے لیے عظیم تائیدی مواقع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بشرطیکہ اہل ایمان ان مواقع کو سمجھیں، اور ان کو پرامن منصوبہ (peaceful planning) کے تحت استعمال کریں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
موجودہ زمانے کے مسلمان ان حقیقتوں سے کیوں بے خبر ہوگئے۔ اس کا سبب ایک بدعت ہے، اور وہ ہے شخصیتوں کو بڑے بڑے لقب (title)دینا۔ جب آپ کسی شخصیت کو بڑا لقب دے دیں تو اس کے بعد سوچنے کا عمل (thinking process) رک جاتا ہے۔ القاب کلچر سے پہلے آدمی کے مائنڈ میں ہمیشہ کاما ہوتا ہے، القاب کلچر کے بعد اس میں فل اسٹاپ لگ جا تا ہے۔
ایک حدیث میں کہا گیا ہے کہ کسی کو ملک الاملاک نہ کہو، یعنی شہنشاہ (emperor) کا لقب نہ دو (صحیح البخاری:6202 )۔ شہنشاہ (emperor) صرف سیاسی لقب کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ لقب کلچر کے معنی میں ہے، یعنی لوگوں کو بڑے بڑے القاب نہ دو۔ افرادکو بڑے بڑے لقب (title) دینا، فکری اعتبار سے ایک ہلاکت خیز طریقہ ہے۔ کسی کو بڑا لقب دینے کے بعد شعوری یا غیر شعوری طور یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس شخص کی بات کو حرف آخر (final word) سمجھ لیتے ہیں۔ یہ ذہن لوگوں کے اندر تخلیقی سوچ (creative thinking) کا خاتمہ کردیتا ہے- اس کے بعد فکری ارتقا کا دروازہ مکمل طور پر بند ہوجاتا ہے۔ یہی بعد کے زمانے میں امت مسلمہ کا حال ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثلا امت میں بعد کے زمانےمیں یہ ہوا کہ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کا لقب دے دیا گیا، فقہائے اربعہ کو مجتہد ِمطلق کہا جانے لگا- اسی طرح موجودہ زمانے میں حسن البنا کو امام کا لقب دینا، شاہ ولی اللہ کو قائم الزمان قرار دینا، اقبال کو دانائے راز سمجھنا، وغیرہ ۔ لقب دینے کا یہ طریقہ یقینی طور پر ایک بدعت تھا، اور حدیث کے مطابق بدعت سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ اس لقب کلچر کا یہ نتیجہ ہوا کہ امت سے تخلیقی فکر (creative thinking) کا خاتمہ ہوگیا۔ اس فکری حادثہ کا سب سے برا ظاہرہ یہ تھا کہ موجودہ زمانے میں مغربی تہذیب اسلام کے لیے عظیم تائید (great support) بن کر ابھری تھی، مگر اپنی ذہنی جمود (intellectual stagnation)کی بنا پر مسلمان اس سے کامل طور پر بے خبر رہے۔ جس مغربی تہذیب کو محسن سمجھ کر اس کا استقبال کرنا تھا، اور اس کے پیدا کردہ مواقع (opportunities)کو اسلام کے حق میں استعمال کرنا تھا، اس کو اپنا دشمن سمجھ کر اس سے غیرضروری طور پر لڑنے لگے۔ اس کے نتیجے میں مزید تباہی کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہوا۔