قرآن میں زندگی کی ایک حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَنْ نُعَمِّرْہُ نُنَکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ أَفَلَا یَعْقِلُونَ (36:68)یعنی اور ہم جس کو زیادہ عمر دیتے ہیں ، اس کو اس کی خلقت میں پیچھے لوٹا دیتے ہیں ، تو کیا وہ سمجھتے نہیں ۔تنکیس کا لفظی مطلب ہے پیچھے لوٹانا (to invert)۔
عضویاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان کو پیدائشی طور پر جو جسم دیا گیا ہے، وہ ایک انوکھے قسم کا جسم ہے۔ انسانی جسم کے اندر 78 آرگن (organs)ہوتے ہیں۔یہ آرگن مسلسل طور پر بے حد کوآرڈینیشن (coordination)کے ساتھ عمل کرتے ہیں۔ یہ عمل جسم کے اندر خودکار نظام (automatic system) کے تحت ہوتا ہے۔اسی فطری نظام کی بنا پر یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی کاجسم مسلسل طور پر کام کرتا رہے۔
مگر ہر آدمی پیدا ہونے کے بعد بچپن اور جوانی کے مراحل سے گزرتے ہوئے آخرکار بڑھاپے کی عمر تک پہنچتا ہے۔بڑھاپے کی عمر میں یہ آرگن رفتہ رفتہ انسان کا ساتھ چھوڑنے لگتے ہیں، کوئی جزئی طور پر، کوئی کلی طور پر۔یہی وہ واپسی کا عمل ہے جو انسان کو بوڑھا اور آخرکار ناکارہ بنادیتا ہے۔
اس عمل کو قرآن میں تنکیس کہا گیا ہے۔ یعنی دیے ہوئے اعضا کو واپس لینا۔واپسی کا یہ عمل یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک طاقت ور خالق ہے، وہ پہلےیہ اعضا انسان کو دیتا ہے، اور پھر اپنی مرضی کے مطابق ان کو واپس لے لیتا ہے۔یہ ایک حتمی عمل ہے، جس کو کوئی روکنے والا نہیں۔
انسانی جسم کے اندرہونے والایہ واقعہ اپنے اندر ایک عظیم سبق رکھتا ہے۔آدمی اگر اس عمل پر غور کرے تو وہ بیک وقت دو حقیقتوں کو دریافت کرے گا۔ایک طرف یہ حقیقت کہ یہاں ایک قادرِ مطلق (All Powerful) خدا ہے، اور دوسری طرف یہ حقیقت کہ وہ خود ایک عاجز مطلق (all powerless) مخلوق ہے۔ دینے والا دے تو اس کو ملے گا، اگر دینے والا نہ دےتو اس کو کچھ ملنے والا نہیں۔ یہی وہ دریافت ہے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔یہ دریافت انسان کو انسان بناتی ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔