قرآن میں انسان کے ایک مزاج کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّ ہَؤُلَاءِ یُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ (76:27) یعنی یہ لوگ جلدی ملنے والی چیز کو چاہتے ہیں:
Those people aspire for immediate gains.
حب عاجلہ کا مزاج پہلے بھی انسان کے اندر تھا، مگر اب وہ اتنا زیادہ عام ہوچکا ہے کہ شاید اس میںکوئی استثنا باقی نہیں رہا۔ اعلان یا اعلان کے بغیر ہر ایک کا نشانہ یہ ہے کہ ابھی اور اسی وقت (right here, right now) ۔ اس نظریہ کے ماننے والوں کا کہنا یہ ہے کہ اگر اب نہیں تو کب:
If not now, when?
جولوگ ایسا کہتے ہیں، وہ یقینا سوچے بغیر ایسا کہہ رہے ہیں۔ کیوں کہ حقیقت کے اعتبار سے اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آج حاصل کر لو، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آج بھی کیوں ہمارا مطلوب حاصل نہیں ہوتا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر پیدا ہونے والے انسان نے یہ چاہا کہ وہ اس دنیا میں اپنی خواہش (desire) کو پورا کرے، مگر عملا صرف یہ ہوا کہ ہر آدمی اپنی خواہش کوپورا کئے بغیر اس دنیا سے چلا گیا۔
پوری تاریخ میںکوئی بھی انسان ایسا نہیں جو اس معاملے میں استثناء (exception) کی حیثیت رکھتا ہو۔ ایسی حالت میں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ جو کچھ ہم چاہتے ہیں، اس کو آج ہم حاصل کر لیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ ہم چاہتے ہیں، وہ آج کی زندگی میں کیوں حاصل نہیں ہوتا۔اس سوال پر غور کیا جائے تو آدمی اس نتیجے تک پہنچے گا کہ خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan ) کے مطابق ہمارا مطلوب آج کی دنیا میں حاصل ہونے والا نہیں۔
انسان تمام مخلوقات میں استثنائی طور پر کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ یہ فطرت کی زبان میں انسان کے سوال کا جواب ہے۔ فطرت کا یہ تقاضا بتاتا ہے کہ انسان کا مطلوب کَل کے دورِ حیات میں ملنے والا ہے، آج کے دورِ حیات میں اس کا ملنا فطرت کے قانون کے مطابق مقدر ہی نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔