قرآن کی سورہ البقرۃ میں تخلیقِ انسانی کا ذکر کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ کُلَّہَا (2:32)یعنی اللہ نے آدم کو تمام اسماء سکھادیے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں علم اسماء سے مراد علم معرفت ہے۔اللہ کے تعلیم کردہ اسماء کو معلوم واقعہ بناناانسان کا اصل امتیاز ہے، اور اسی کا دوسرا نام معرفت ہے۔
انسان کی تخلیق کا ایک خصوصی پہلو یہ ہے کہ انسان کو فطری طور پرلامحدود پوٹنشل (potential) کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔ یہ انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ اپنے اس پوٹنشل کو ایکچول (actual) بنائے۔یہ صفت نہ ستاروں اور سیاروں میں ہے، اور نہ درختوں اور حیوانات میں۔ یہ انسان کی ایک نادر خصوصیت ہے، جو ساری کائنات میں صرف انسان کو حاصل ہے۔یہ صرف انسان ہے جو اپنے آپ کو سیلف میڈ مین (self-made man) بناتاہے۔
اپنے فطری امکانات کو واقعہ بنانے کے بعد کسی انسان کے اندر جو شخصیت بنتی ہے، اسی کو قرآن میں مزکیٰ شخصیت (91:9)کہا گیا ہے۔شخصیت کی تعمیر کبھی معتدل حالات میں نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے ساتھ مختلف قسم کے ناخوشگوار حالات پیش آئیں۔ اسی بنا پر انسان کو ضعیف پیدا کیا گیا ہے (4:28)۔ ضعیف ہونے کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ یہ مشکل حالات انسان کے لیے تجربہ (experience) بن جاتے ہیں۔ اگر انسان قوی (strong) ہوتا تو وہ پتھر کی مانند ہوتا۔اس کے ساتھ ناخوش گوار حالات پیش آتے، لیکن وہ اس کے لیے تجربہ نہ بنتے، جیسا کہ لوہے اور پتھر کے ساتھ ہوتا ہے۔
اپنے پوٹنشل کو ایکچول بنانے میں تجربات کا نہایت بنیادی رول ہے۔ کوئی بھی دوسری چیز انسان کے لیے تجربہ کا بدل نہیں بن سکتی۔ اس تجربے ساتھ جب تدبر شامل ہوجائےتو اسی کا نتیجہ معرفت ہوتا ہے۔ یہی وہ کورس ہے جس سے گزر کر وہ شخصیت بنتی ہے، جس کو عارف کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عارف انسان ہی انسان ہے- جو انسان عارف نہیں، وہ انسان بھی نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔