دنیا میں کوئی شخص صحیح راستے پر چلتا ہے، اور کوئی شخص صحیح راستے سے بھٹک جاتا ہے۔ اس فرق کا راز کیا ہے۔یہ حقیقت قرآن کی ایک آیت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے- وہ آیت یہ ہے: وَلَوْ عَلِمَ اللّٰہُ فِیْہِمْ خَیْرًا لَّاَسْمَعَہُمْ ۭوَلَوْ اَسْمَعَہُمْ لَتَوَلَّوْا وَّہُمْ مُّعْرِضُوْنَ ( 8:23) یعنی اگر ان میں کسی بھلائی کا علم اللہ کو ہوتا تو وہ ضرور انھیں سننے کی توفیق دیتا اور اگر اب وہ انھیں سنوادے تو وہ ضرور روگردانی کریں گے بےرخی کرتے ہوئے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کا پانا اللہ کی مدد سے ہوتا ہے۔ اللہ جس انسان کے اندر خیر دیکھتا ہے، وہ اس کو ہدایت کی توفیق دیتا ہے۔ یعنی اس کی زندگی کو اس طرح مینیج (manage) کرتا ہے کہ وہ صحیح راستے کو پالے، اورفکر و عمل کے اعتبار سے وہ اس راستے پرقائم ہوجائے۔
خیر (virtue) سے کیا مراد ہے، اس کا جواب ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں: من تواضع للہ درجة رفعہ اللہ درجة، حتى یجعلہ فی علیین، ومن تکبر على اللہ درجة، وضعہ اللہ درجة، حتى یجعلہ فی أسفل السافلین (مسند احمد: 11724) یعنی جو شخص اللہ کے لیے ایک درجہ تواضع کرتا ہے، اللہ اس کو ایک درجہ بلند کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کو علیین میں شامل کر دیتا ہے، اور جو شخص اللہ پر ایک درجہ تکبر کرتا ہے، اللہ اس کو ایک درجہ پست کر دیتا ہے، یہاں تک کہ اس کو اسفل السافلین میں پہنچادیتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کی ہدایت اس کو ملتی ہے جس کے اندرتواضع (modesty) کی صفت موجود ہو۔ اور وہ شخص اللہ کی ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے، جس کے اندر کبر (arrogance) کا مزاج پایا جائے۔یہی ہدایت اور گمراہی کا خلاصہ ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی خود اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ اس کے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے۔ اللہ اپنے علمِ کامل کے ذریعے اس حقیقت کو جان لیتا ہے۔ پھر وہ تواضع کی صفت والے انسان کو مینیج کرتے ہوئے ہدایت کی منزل تک پہنچادیتا ہے، اور جس شخص کے اندر کِبر موجود ہو، اللہ اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ بھٹک کر منزل سے دور ہوجاتا ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔