دنیا کی زندگی میں ایک انسان کو جو کچھ حاصل ہوتا ہے وہ بظاہر اس کی اپنی کوششوں سے حاصل ہوتا ہے۔ مگر یہ صرف اس کا ظاہری پہلو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی ہر ملی ہوئی چیز خدا کا یک طرفہ عطیہ ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے ہے تاکہ خدا کا ایک بندہ شعوری طور پر اس حقیقت کو دریافت کرے اور پھر دل کی گہرائیوں کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ — خدایا، تونے دنیا کی نعمتوں کو مجھے یک طرفہ عنایت کے طور پر دے دیا، اسی طرح تو آخرت کی نعمتوں کو بھی مجھے یک طرفہ عنایت کے طور پر دے دے۔ اس معاملہ میں مَیں نے تیرے ساتھ یہی گمان کیا ہے، اور میں امید رکھتا ہوں کہ تو میرے اس گمان کو آخرت میں پورا فرمائے گا، جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں آیا ہے: أنا عند ظن عبدی بی، فلیظن بی ما شاء (مسند احمد: 16016)۔
انسان کو اس کے خالق نے احسنِ تقویم (95:4) اور صورتِ احسن (40:64)کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ واقعہ انسان کے لیے ایک دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس ہے۔ وہ اگر اپنی اس تخلیقی نوعیت کو دریافت کرے تو وہ پکار اٹھےگا کہ خدایا، تو نے مجھے اپنی بہترین آرٹ(finest art) کے طور پر پیدا کیا، کو ئی آرٹسٹ اپنے بہترین آرٹ کو آگ میں نہیں ڈال سکتا، کیا تو اس کو گوارا کرے گا کہ تیرا پیدا کیا ہوابہترین آرٹ آگ میں ڈال دیا جائے۔
اگر آدمی اپنی تخلیق کو دریافت کرے، اور اپنی تخلیق کے حوالے سے وہ خالق کو یاد کرے تو اس کی زبان سے دعا کے ایسے الفاظ نکلنے لگیں گے، جو خالق کی رحمت کو انووک (invoke) کرنے والے ہوں۔یہی وہ دعا ہے جس کو حدیث میں اسم اعظم کے ساتھ دعا کرنا بتایا گیا ہے- اور جو دعا اسم اعظم کے ساتھ کی جائے، اس کے متعلق رسولِ خدا نے یہ خبر دی ہے کہ وہ ضرور مقبول ہوتی ہے (ابن ماجہ: 1494-1495)۔ اسم اعظم کے ساتھ دعا، دراصل کیفیت اعظم کے ساتھ دعا کا نام ہے، اور جو دعا کیفیت اعظم کے ساتھ کی جائے اس کی قبولیت میں کوئی شبہہ نہیں۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔