Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Al-Risala may 2015
Al-Risala may 2015

قرآن، سنت ، اجتہاد

Urdu · 7 min read

پیغمبر ِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے دور آخر کی ایک حدیث ہے۔ آپ نے اپنے معاصر اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے اپنی امت کو ایک آخری سبق دیا۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ترکت فیکم أمرین، لن تضلوا ما تمسکتم بہما: کتاب اللہ وسنة نبیہِ (مؤطا امام مالک: 1874) یعنی میں نے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑی ہیں، تم ہر گز گمراہ نہ ہوگے جب تک تم اس کو پکڑے رہوگے، وہ ہیں اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول کی سنت۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ حدیث دین میں قرآن و سنت کی اہمیت کو بتاتی ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امت صرف قرآن و سنت کے لفظی مفہوم کو پکڑے رہے، اور وہ گمراہی سے بچ جائے گی۔فطرت کے قانون کے مطابق احوال و ظروف ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں، اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ بدلے ہوئے حالات میں قرآن و سنت کی عصری تطبیق (contemporary application)کو دریافت کیا جائے، اور قرآن و سنت کی اسپرٹ کے مطابق نئے حالات میںاپنی اسلامی زندگی کی تشکیل کی جائے۔

اس دینی تقاضے کو ایک حدیث میں اجتہاد کہا گیا ہے۔اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: إن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم لما أراد أن یبعث معاذا إلى الیمن قال: کیف تقضی إذا عرض لک قضاء؟، قال: أقضی بکتاب اللہ، قال: فإن لم تجد فی کتاب اللہ؟، قال: فبسنة رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، قال: فإن لم تجد فی سنة رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم، ولا فی کتاب اللہ؟ قال: أجتہد رأیی، ولا آلو فضرب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم صدرہ، وقال: الحمد للہ الذی وفق رسول، رسول اللہ لما یُرْضِی رسولَ اللہ (ابو داؤد : 3592) یعنی رسول اللہ ﷺ نے جب ارادہ کیا کہ معاذ بن جبل کو(بحیثیت عامل ) یمن بھیجیںتو آپ نے ان سے فرمایا: تمہارے سامنے جب کوئی معاملہ آئے گا تو اس کا فیصلہ کس طرح کروگے؟ انھوں نے کہا کہ میں اللہ کی کتاب سے اس کا فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی کتاب میں اس کا حکم نہ پاؤ؟ انھوں نے کہا تو میں اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق اس کا فیصلہ کروں گا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اللہ کے رسول کی سنت میں اس کا حکم نہ پاؤ، اور نہ اللہ کی کتاب میں؟ انھوں نے جواب دیا کہ میں اپنی رائے سے اجتہادکروں گا، اورمیں اس میں کمی نہیں کروں گا۔تو رسول اللہ نے ان کے سینےپر ہاتھ مارا، اور فرمایاکہ اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے فرستادہ کو اس چیز کی توفیق دی جس چیز سے اللہ کا رسول راضی ہے۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

امت کے تمام علماء نے ہر دور میں دین میں اجتہاد کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے، مگر عملاً پچھلے ادوار میں یہ ہوا کہ علماء نے اجتہاد کے اصول کو صرف جزئیاتی مسائل تک محدود رکھا ، کلیاتی مسائل میں وہ اجتہاد کے اصول کا انطباق نہ کر سکے۔

مثلا قرأت فاتحہ خلف الامام پر فقہی بحثیں، آمین بالسر اور آمین بالجہر پر فقہی بحثیں، رمضان میں تراویح کی رکعت پر فقہی بحثیں، وغیرہ۔ اس قسم کی تمام بحثیں، جزئیاتی بحثیں ہیں۔ مگر علماء نے ان جزئیاتی بحثوںکو اتنی زیادہ اہمیت دی، گویا کہ یہی اجتہاد کے اصل موضوعات ہیں۔

اسلام کے ظہور کے بعدعملا تقریبا ہزار سال تک وہی روایتی دور (traditional period)قائم تھا جس دور میں کہ اسلام آیا تھا۔ اس لیے اس ہزار سالہ دور میںعلما کے اس موقف سے مسلم سماج میں کوئی بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوا۔ لوگوں کی دینی زندگی بدستور چلتی رہی۔

لیکن انیسویں صدی عیسوی میں انسانی تاریخ میں ایک بڑا ظاہرہ پیدا ہوا، جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔یہ ظاہرہ اکیسویں صدی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔جدید تہذیب نے ہر اعتبار سے زندگی کے نقشے کو بدل دیا ہے۔ اب ضرورت تھی کہ کلیاتی مسائل کی سبت سے اجتہاد کے اصول کو استعمال کیا جائے، اور نئے حالات میں اسلام کی تطبیقِ نو (reapplication)کو تلاش کیا جائے۔مگر علماء اس اجتہاد میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ وہ دین کے جزئیاتی مسائل میں اجتہاد کے اصول کی تطبیق جانتے تھے، مگر دین کے کلیاتی مسائل میں اجتہاد کی تطبیق سے وہ کامل طور پر بے خبر تھے۔اجتہاد کے معاملے میں علماء کی اس ناکامی نے امتِ مسلمہ کو عملاً ایک ڈائریکشن لیس (directionless) امت بنادیا ہے۔

اس معاملے میں کوتاہی کی سب سے بڑی مثال وہ ہے جو جدید تہذیب کی نوعیت کو دریافت کرنے میں ہوئی۔انیسویں صدی اور بیسویں صدی کا زمانہ جدید تہذیب کے ظہور کا زمانہ ہے۔ جدید تہذیب کے بعد زندگی کے معاملات میںجو تبدیلیاں ہوئیں، وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے جزئیاتی نہیں تھیں، بلکہ کلیاتی تھیں۔اس نوعیت کی تبدیلی کو سمجھنے کے لیے علماء ذہنی اعتبار سے تیار نہ تھے۔ چنانچہ ساری دنیا کے علماء نے ردعمل (reaction) کے تحت منفی موقف اختیار کر لیا۔ تمام دنیا کے علماء نے متفقہ طور پر یہ اعلان کردیا کہ جدید تہذیب اسلام دشمن تہذیب ہے۔ اس کے مقابلے میں ہمارا موقف نفرت اور تشدد کا ہونا چاہئے، نہ کہ امن اور مصالحت (compromise)کا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

امت کی تاریخ میں یہ بلاشبہ سب سے بڑی اجتہادی غلطی تھی۔اس غلطی کے نتائج امت کے لیے ہلاکت خیز ثابت ہوئے۔ اس کی بنا پر یہ ہوا کہ جدید تہذیب کے مقابلے میں امت اپنا مثبت موقف (positive stand)دریافت نہ کر سکی۔وہ صرف رد عمل کی نفسیات کے تحت مغربی تہذیب اور مغربی اقوام کے خلاف منفی سرگرمیوں میں مبتلا رہی۔ اس منفی موقف کا نقصان جدید تہذیب کو تو نہیں پہنچا، البتہ امت جدید دور میں ایک پس ماندہ امت (backward community) بن کر رہ گئی۔

اب امت اپنے اس موقف کے آخری دور میں ہے۔ یہ دور مایوسی (frustration) کا دور ہے۔ چنانچہ مایوسانہ نفسیات کی بنا پر پوری امت یا تو شکایت اور احتجاج میں مبتلا ہے، یابے نتیجہ قسم کے گن کلچر اورخود کش بمباری (suicide bombing) میں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ جدید تہذیب اسلام کے لیے دشمن تہذیب نہیں تھی، بلکہ وہ ایک مؤید تہذیب (supporting civilization)تھی۔ اسلام میں کوئی نقصان کئے بغیر وہ اسلام کے لیے نئے وسیع تر مواقع کھول رہی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید تہذیب کا ظہور اس پیغمبرانہ پیشن گوئی کی تصدیق تھی جو کہ صحیح البخاری اور دوسری کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اللہ اس دین کی تائید فاجر (secular)لوگوں کے ذریعہ بھی کرے گا (صحیح البخاری : 3062)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسلام کی ابتدائی تاریخ میں 6ہجری میں حدیبیہ کا معاہدہ پیش آیا۔ اس کے بعد یہ آیت اتری: إِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُبِینًا ؀ لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَأَخَّرَ وَیُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُسْتَقِیمًا ؀ وَیَنْصُرَکَ اللَّہُ نَصْرًا عَزِیزًا ؀ (48:1-3)یعنی بے شک ہم نے تم کو کھلی فتح دے دی، تاکہ اللہ تمہاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کردے، اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کردے، اور تم کو سیدھا راستہ دکھائے، اور تم کو زبردست مدد عطا کرے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اس آیت میں فتح مبین (clear victory)اور نصر عزیز (mighty help) وقتی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ ابدی معنی میں ہے۔ اسلام کے حق میں اللہ کی اس نصرت خاص کا ظہور فوری طور پر یہ ہوا کہ اس معاہدہ کے جلد ہی بعد مکہ فتح ہوگیا، اور پھر اسلام سارے عرب میں پھیل گیا۔ یہ گویا موعود فتح مبین کا پہلا مرحلہ (first phase) تھا۔

اس فتح کا دوسرا مرحلہ (second phase)ایک عمل (process) کی صورت میں تاریخ میں جاری ہوا۔ اس عمل نے تاریخ انسانی میں پہلی بار فتح کو مقامی معاملے کےبجائے ایک عالمی واقعہ بنادیا۔ اللہ کی یہی وہ نصرت خاص ہے، جو جدید تہذیب کی صورت میں اسلام کے حق میں ظاہر ہوئی۔ اس تہذیب کے لیڈر چونکہ سیکولر لوگ تھے، اس لیے علمائے اسلام اس کی حقیقت کو سمجھ نہ سکے۔ حالانکہ حدیثِ رسول میں پیشگی طور پرامت کو اس سے باخبر کردیا گیا تھا۔

اس دور کے مسلم علما قرآن و سنت پر زور دیتے رہے، بطور خود انھوں نے سمجھا کہ وہ صراطِ مستقیم پر ہیں، حالانکہ اجتہاد کو عملاً حذف کرنے کی بنا پروہ صراطِ مستقیم سے ہٹ چکے تھے۔ اس معاملے کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ موجودہ زمانے کے علماء ایک غلط آبسیشن (obsession) کا شکار ہو گئے۔ وہ ایک نئے قسم کی ڈائکاٹمس تھنکنگ (dichotomous thinking)کے ٹریپ (trap) میں مبتلا ہوگئے۔وہ تیسرے آپشن (third option)کو استعمال کرنے سے قاصر رہے۔ یہی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام مسائل کا اصل سبب ہے۔ ان مسائل کا حل تیسرے آپشن کو استعمال کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content