مومن کی ایک صفت قرآن میں سیاحت (9:112) بتائی گئی ہے۔ قرآن کے مطابق سیاحت کی یہ صفت مومن مردوں میں بھی ہوتی ہے، اور مومن عورتوں میں بھی (66:5)۔ سیاحت کا لغوی مطلب ہے چلنا پھرنا (to travel)۔ سیاحت کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔تاجر تجارتی مقصد کے لیے سفر کرتا ہے، سیاح گھومنے پھرنے کے لیے سفر کرتا ہے، طالب علم حصولِ علم کے لیے سفرکرتا ہے، وغیرہ۔
مومن کا سفر، دعوت کے لیے ہوتا ہے۔ یعنی سفر کرکے مدعو کے پاس جانا، اور اس کو اللہ کا پیغام پہنچانا۔ مومن کا ایک فریضہ یہ ہے کہ اس نے جس سچائی کو جانا ہے، اس سچائی سےوہ دوسرے انسانوںکو باخبر کرے۔ اسی عمل کا نام دعوت الی اللہ ہے۔ یہ ایک فطری تقاضا ہے کہ ایک شخص جس دین کو نجات کی حیثیت سے اختیار کرے ، اس کو وہ دوسرے انسانوں تک پہنچانے کا حریص ہو۔ وہ چاہے کہ جس صراطِ مستقیم کو اس نے دریافت کیا ہے، اس میں وہ دوسرے انسانوں کو شریک کرے۔ ایمان کا یہی وہ تقاضا ہے جس کو دعوت کہا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک مومن جو سفرکرے، وہ دعوتی سیاحت ہے۔
الرسالہ مشن ایک دعوتی مشن ہے۔ الرسالہ مشن سے وابستہ مردوں اور عورتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ دوسری ذمے داریوں کی طرح دعوتی سیاحت کو اپنی زندگی میں شامل کریں۔ ہرریاست کے لوگ مختلف شہروں اور قصبوں میں جائیں، وہاں لوگوں سے ملیں، وہ ان کو بتائیں کہ دعوت کے کام کو کس طرح منظم انداز میں کرنا چاہئے۔ وہ ہر جگہ ہفتہ وار اجتماع یا ماہانہ اجتماع کا نظام بنائیں۔ وہ ہرجگہ لائبریری قائم کرنے کی کوشش کریں۔ وہ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ دعوتی لٹریچر کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔ وہ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ قرآن مشن میں زیادہ سے زیادہ اپنا تعاون پیش کریں۔دعوتی سفر کو نہایت سادہ ہونا چاہئے، سیاسی باتوں اور کمیونل باتوں سے اس کو مکمل طور پر خالی ہونا چاہئے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔