Maulana Wahiduddin Khan
13 min left
0:00

← Al-Risala May 2014
Al-Risala May 2014

احیاءِ امت

Urdu · 13 min read

قرآن میں بتایا گیاہے کہ طولِ امد کے نتیجے میں امتوں کے اندر قساوت (57:16) پیدا ہوجاتی ہے، یعنی ہر امت کی بعد کی نسلوں میں زوال آتا ہے-امت میں زوال کے بعد احیا (57:17) کے لیے کیا کرنا چاہیے، قرآن میں اس کا ایک ماڈل حضرت موسی کی مثال کی صورت میں بتایا گیاہے- قرآن کے مطابق، جس طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایک مستند ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے، اِسی طرح حضرت موسی اور دوسرے پیغمبروں کی زندگی بھی اہلِ ایمان کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل ہے (6:90)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت موسی ایک اسرائیلی پیغمبر تھے- وہ قدیم مصر میں پیدا ہوئے- اُن کا زمانہ تقریباً ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے- ان کے حالات تفصیل کے ساتھ قرآن، اور بائبل میں موجود ہیں- اِس کے مطالعے سے جہاں دوسری باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہیںیہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ ایک زوال یافتہ امت کو زوال کی حالت سے نکالنے کے لیے عملی طورپر کیا کرنا چاہئے-

اللہ کی طرف سے حضرت موسی کو دو کام سپرد ہوا تھا — ایک طرف، فرعون کے سامنے اللہ کا پیغام پہنچانا اور دوسری طرف، بنی اسرائیل کو زوال کی حالت سے نکالنے کی تدبیر کرنا- انھوں نے یہ دونوں کام پوری طرح انجام دیا- انھوں نے ایک طرف، فرعون اور اس کی قوم کے سامنے اللہ کی حجت تمام کی اور دوسری طرف، بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے- اِس کا مقصد زوال یافتہ قوم کی اصلاح کرنا تھا-

فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسی کے پیغام کو ماننے سے انکار کردیا- اتمامِ حجت کے بعد اللہ نے اُن کے ساتھ اُسی انجام کا فیصلہ کیا جو اِس طرح کی دوسری قوموں کے ساتھ اللہ کی طرف سے کیا جاتا رہا ہے، یعنی اُن کی کامل ہلاکت- چناں چہ فرعون، اس کی فوجی طاقت، اس کے درباری سب کے سب بیک وقت سمندر میں غرق کردئے گئے-

ایک تخمینے کے مطابق، اُس وقت مصر کی کُل آبادی تین ملین سے کچھ زیادہ تھی- اِس آبادی میں بنی اسرائیل کی تعداد تقریباً ایک چوتھائی حصے پر مشتمل تھی- اگر حضرت موسی کے نزدیک بنی اسرائیل کے احیاءِ نو کا طریقہ یہ ہوتا کہ اُن کو حکومت دلائی جائے یا ملک میں اُن کے سیاسی ادارے قائم کیے جائیں، تو فرعون کی غرقابی کے بعد اِس منصوبے کو عمل میں لانے کا وقت اس کے لیے بہترین وقت تھا-غرقابی کا واقعہ پیش آنے کے بعد فرعون کی سیاسی اور فوجی طاقت ختم ہوچکی تھی- جادوگروں کا طبقہ حضرت موسی کے دین کو اختیار کرچکا تھا-

اِس طرح کے واقعات کے نتیجے میں پورے مصر میں حضرت موسی اور ان کی قوم کا دبدبہ قائم ہوچکا تھا- اِس طرح حالات پوری طرح تیار ہوچکے تھے کہ حضرت موسی مصر کی حکومت پر قبضہ کرلیں اور سیاسی اقتدار کے ذریعے بنی اسرائیل کے احیاءِ نو کا کام کریں-

مگر حضرت موسی نے ایسا نہیں کیا- اِس کے برعکس، حضرت موسی نے جو کچھ کیا، وہ یہ تھاکہ انھوں نے مصر کو چھوڑ دیااور بنی اسرائیل کی پوری جمعیت کو لے کر صحرائے سینا میں چلے گئے، جہاں مشقت کی زندگی کے سوا بنی اسرائیل کے لیے کچھ اور نہ تھا- اِس واقعے کا حوالہ قرآن کی سورہ المائدہ کی آیت نمبر 26 میں دیاگیا ہے-اِس صحرائی ماحول میں بنی اسرائیل چالیس سال (1400-1440 قبل مسیح) تک سخت مشقت کی زندگی گزارتے رہے، یہاں تک کہ ایسا ہوا کہ اُن میں جو زیادہ عمر کے لوگ تھے، وہ سب مر گئے اور جو نوجوان تھے، وہ صحرا کے پُرمشقت ماحول میں تربیت پاکر ایک نئی زندہ قوم کی صورت میں ابھرے- بنی اسرائیل کی یہی تربیت یافتہ نسل تھی جس نے بعد کے دور میں تاریخی کارنامے انجام دئے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بنی اسرائیل کے ساتھ جو طریقہ اختیار کیا گیا، اُس کو صحرائی طریقِ علاج (desert therapy) کہا جاسکتا ہے- صحرائی علاج کا یہ طریقہ اِس سے پہلے بنو اسماعیل کے ساتھ اختیار کیا گیا تھا- وہ عرب کے صحرا میں تربیت پاکر تیار ہوئے اور پھر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر ایک طاقت ور ٹیم کی صورت میں انھوں نے بڑے بڑے کارنامے انجام دئے-

امت مسلمہ کا کیس

قانونِ فطرت کے مطابق، امت مسلمہ کی بعد کی نسلوں میں وہی زوال آنا مقدر تھا جو اِس سے پہلے بنی اسرائیل پر آیا- زوال کی یہ حالت اپنی آخری صورت میں انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں کھل کر سامنے آگئی-

اب امت کے رہنماؤں کو وہی کرنا تھا جو اِس سے پہلے حضرت موسی نے اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، یعنی زمانے کے اعتبار سے امت کو ایک تربیتی کورس سے گزارنا ، تاکہ اُن پر قرآن کی یہ آیت صادق آجائے: لِیَہْلِکَ مَنْ ہَلَکَ عَنْ بَیِّنَةٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ(8:42)- اِس کا مطلب یہ ہےکہ امت کے جو ناقابلِ اصلاح افراد ہیں، وہ ختم ہوجائیں اور جو قابلِ اصلاح افراد ہیں، وہ بیدار ہو کر مطلوب رول ادا کرنے کے قابل ہوسکیں-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ موجودہ زمانے میں اِس طریقِ علاج کا بہترین میدان وہ تھا جس کو سیکولر تعلیم کا نظام کہاجاتا ہے- یہی تعلیمی نظام مکمل طورپر مسابقت (competition)کے اصول پر قائم تھا- یہاں دوسری قوموں کی طرف سے چیلنج کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا تھا- یہاں کا فارمولا یہ تھا کہ — مقابلہ کرکے زندہ رہو یا مرجاؤ:

Compete or perish

اِس اعتبار سے، موجودہ زمانے کا سیکولر تعلیمی نظام گویا تعلیمی طریقِ علاج (educational therapy)کا میدان بن گیا تھا- ضرورت تھی کہ قوم کے تمام نوجوانوں کو اِس طریقِ علاج کے پراسس سے گزارا جائے- لیکن مسلمانوں کے علما اور رہنماؤں نے اِس حکمت کو نہیں سمجھا- انھوں نے اِس معاملے کی حکمت سے بے خبر رہتے ہوئے یہ اعلان کردیا کہ یہ تعلیمی نظام تمام تر اینٹی مسلم نظام ہے- چناں چہ کسی نے اِس نظام کو ’قتل گاہ‘ قرار دیا- اور کسی نے اس کو ’ذہنی ارتداد‘ کا کارخانہ قرار دیا، وغیرہ-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ سیکولر تعلیمی نظام میں چیلنج اور مسابقت کا مطلوب ماحول پوری طرح موجود تھا- لیکن اس میں ایک چیز مفقود تھی، وہ تھی مسلم نوجوانوں کی دینی تعلیم وتربیت- اِس مسئلے کا حل قرآن میں، بنی اسرائیل کے حوالے سے اِن الفاظ میں موجود تھا: وَاجْعَلُوْا بُیُوْتَکُمْ قِبْلَةً (10:86) یعنی اپنے گھروں کو مذہبی تعلیم وتربیت کا مرکز بنا دو-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو یہی کرنا تھا- وہ یہ کہ مدرسے کی تعلیم کے علاوہ، مسلم نوجوانوں کی باقاعدہ تعلیم (formal education)وہ سیکولر تعلیم گاہوں میں دلوائیں اور اِسی کے ساتھ وہ اپنے گھروں کو انفارمل ایجوکیشن (informal education) کا مرکز بنادیں- تاکہ دونوں تقاضے بحسن وخوبی پورے ہوسکیں-

مگر مسلم رہنماؤں نے اِس کے برعکس، یہ کیا کہ انھوں نے قومی بنیاد پر مسلمانوں کے الگ تعلیمی ادارے قائم کیے- یہ تعلیمی ادارے، جہاں صرف مسلمانوں کے لیے تعلیم کا انتظام تھا، وہ فطری طور پر مسابقت اور چیلنج سے خالی تھے- نتیجہ یہ ہوا کہ بہت جلد یہ ادارے مسلم گھیٹو (Muslim ghetto) بن کر رہ گئے-

موجودہ زمانے کے مسلمان اپنے زوال کی بنا پر اِس قابل نہیں رہے تھے کہ وہ خود اپنے الگ قومی ادارے چلائیں- اِس طرح کے ادارے قائم کرنے کا مطلب یہ تھاکہ زوال یافتہ افراد کو حقیقی لیاقت کے بغیر، بڑی بڑی پوزیشن دے دی جائے- چناں چہ اِن اداروں میں اسلام تو نہیں آیا، البتہ ایک زوال یافتہ قوم کا قومی کلچر فروغ پانے لگا- یہی حال اُن ملکوں کا ہوا جو اسلام کے نام پر بنائے گئے تھے- اِن ملکوں میں زوال یافتہ افراد کو اچانک بڑے بڑے عہدے مل گئے اور انھوں نے پورے ملک کو زوال یافتہ کلچر کا جنگل بنادیا-

زوال کی آخری مثال

دورِ زوال کے بارے میں حدیث میں بہت سے انتباہات آئے ہیں- اُن میں سے ایک انتباہ وہ ہے جو اِس حدیثِ رسول میں ملتاہے: لا ترجعوا بعدی کفاراً، یضرب بعضکم رقاب بعض (صحیح البخاری، رقم الحدیث: 1739) یعنی میرے بعد تم کافر نہ ہوجانا کہ ایک شخص دوسرے شخص کی گردنیں مارنے لگے- اِس حدیث میں ’’کفار‘‘ کا لفظ فقہی معنی میں نہیں ہے، یہ دراصل تہدیدی زبان (language of hammering) ہے- یہاں شدت کے انداز میں بتایا گیاہےکہ زوال جب اپنی آخری حد تک پہنچتا ہے تو امت کا حال کیا ہوتا ہے- اُس وقت لوگوں کے اندر خوفِ خدا کا خاتمہ ہوجاتا ہے- اِسی بے خوف نفسیات کی بنا پر وہ ایسا فعل کرنے کے لیے جری ہوجاتے ہیں جو قرآن کی صراحت کے مطابق، مبینہ طور پر ایک جہنمی فعل (4:93) ہے، یعنی ایک مومن کا دوسرے مومن کو ناحق قتل کرنا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جدید تعلیم کی اہمیت

جدید تعلیمی نظام کو سیکولر نظامِ تعلیم کہاجاتا ہے، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ جدید تعلیم نئے دور کا نظامِ تعلیم تھا- وہ نئے دور کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وجود میں آیا تھا- اس کا سیکولر پہلو اس کا اضافی (relative) پہلو ہے، نہ کہ حقیقی (real) پہلو-اصل یہ ہےکہ موجودہ زمانے میں جو نئی دریافتیں ہوئیں، اُس نے زندگی کے ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کردیں- اِن تبدیلیوں کا تعلق براہِ راست طورپر انسان کی عملی زندگی سے تھا- دورِ جدید میں زندگی کے تمام شعبے مکمل طورپر بدل گئے- اِن شعبوں کو چلانے کے لیے نئے ماہرین اور نئے تربیت یافتہ افراد درکار تھے- جدید تعلیمی نظام گویا اِنھیں جدید قسم کے افراد کو تیار کرنے کا کارخانہ تھا- کسی قوم کے لیے اِس تعلیمی نظام سے علاحدگی کا مطلب یہ تھاکہ اُس قوم کے پاس موجودہ دور کے اِس جدید نقشۂ حیات کو چلانے کے لیے افرادِ کار موجود نہ ہوں-

موجودہ زمانے میں امتِ مسلمہ کا کیس یہی ہے- اپنے قائدین کی رہنمائی میں امت نے یہ غلطی کی کہ وہ جدید تعلیمی اداروں کی عصری اہمیت کو سمجھ نہ سکے- انھوں نے اپنے نوجوانوں کو اِس تعلیمی نظام سے دور رکھا- نتیجہ یہ ہوا کہ پوری امت دورِ جدید میں بے جگہ (displaced) ہو کر رہ گئی— موجودہ زمانے میں مسلمانوں کی مبینہ پس ماندگی کا اصل سبب یہی ہے-

افراد، نہ کہ مجموعہ

موجودہ زمانے میں مسلم علما اور رہنماؤں نے بہت سی تحریکیں چلائیں، لیکن ہر تحریک اپنے مطلوب نشانے کو حاصل کرنے میں ناکام رہی- اِس ناکامی کا بنیادی سبب یہ تھا کہ ہر ایک نے غلط مفروضے سے اپنے کام کا آغاز کیا- انھوںنے موجودہ مسلمانوں کو ’’خیر ِ امت‘‘ فرض کرلیا اور اِسی مفروضے پر وہ اپنی منصوبہ بندی کرنے لگے، حالاں کہ موجودہ مسلمان صرف ایک زوال یافتہ گروہ بن چکے تھے-

یہ ایک مشترک غلطی تھی جس میں یہ تمام حضرات مبتلا رہے- اِس بنا پر اُن کا حال اُس معمار جیسا ہوگیا جو کچی اینٹوں کو پختہ اینٹ سمجھ کر قلعے کی تعمیر شروع کردے- ایسے معمار کا یقینی انجام صرف یہ ہے کہ اس کا قلعہ کبھی تعمیر نہ ہوسکے-

یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے- وہ یہ کہ کوئی زوال یافتہ قوم دوبارہ اس طرح اصلاح قبول نہیں کرتی کہ پوری قوم بطور مجموعہ اصلاح یافتہ ہوجائے(21:95)- ایسا نہ ماضی میں کبھی ہوا اور آئندہ کبھی ہوسکتا ہے- اِس بنا پر اصلاح کے کام میں خواہ پورے مجموعے کو خطاب کیا گیا ہو، لیکن ہمیشہ کچھ افراد ہی اُس سے اصلاح قبول کرتے ہیں- اِس لیے تحریک کی کامیابی کا معیار ہمیشہ افرادِ قوم ہوتے ہیں، نہ کہ مجموعۂ قوم-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انگریزی تعلیم

ٹی بی میکالے (Thomas Babington Macaulay)ایک انگریز مورخ اور سیاست داں تھا- وہ 1800 میں پیدا ہوا، اور 1859 میں اس کا انتقال ہوا- وہ 1835 میں انڈیا آیا- اُس وقت کی برٹش حکومت میں اس کو ایک بڑا عہدے دار بنایا گیا- اس نے ایک تعلیمی نظریہ وضع کیا جس کو میکال ازم (Macaulayism) کہاجاتا ہے- اس کا مقصد تھا ملک میں اینگلی سائزڈ انڈین (anglicised Indians) کا ایک نیا طبقہ پیدا کرنا-

لارڈ میکالے سے پہلے انڈیا کی آفیشیل زبان فارسی تھی- لارڈمیکالے کی کوششوں سے ایسا ہوا کہ 1938 میں انگریزی زبان کو سرکاری زبان کا درجہ دے دیاگیا- اِس کے بعد ملک کے اسکولوں میں انگریزی زبان ذریعہ تعلیم قرار پائی-

لارڈ میکالے کا کہنا تھاکہ — اس سے ایک نئی نسل پیدا ہوگی جو کہ پیدائش کے اعتبار سے ہندستانی اور اپنے ذہن کے اعتبار سے انگریز ہوگی:

opposing viewA view stated in order to be argued against

So that a generation may arise which is Indian in birth and English in thought.

لارڈ میکالے نے جب یہ کہا تو اس کے خلاف سخت ہنگامہ کیاگیا، خاص طور پر مسلم رہنما انگریزی تعلیم کے شدید مخالف ہوگئے، حتی کہ انھوںنے کہا کہ انگریزی تعلیم گاہیں مسلمانوں کے لیے قتل گاہ کی حیثیت رکھتی ہیں-مگر یہ سب غیر ضروری اندیشے تھے- عملاً جو کچھ ہونے والا تھا، وہ صرف یہ کہ اِن درس گاہوں میں تعلیم پانے کی وجہ سے کٹر پن ختم ہوجائے اور لوگوں کے اندرکھلا پن آجائے- اپنے نتیجے کے اعتبار سے دیکھئے تو لارڈ میکالے کا قول ایک لفظی تبدیلی کے ساتھ دراصل یہ تھا:

So that a generation may arise which is Indian in birth and liberal in thought.

چناںچہ تجربہ بتاتا ہے کہ اِن انگریزی اداروں میں تعلیم پائے ہوئے مسلم نوجوانوں میں سے بہت سے ایسے تھے جو بعد کو بہترین مسلمان بنے- مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو انھیں انگریزی اداروں سے بہترین افراد حاصل ہوئے، وغیرہ-اِس معاملے میں اصل قابلِ لحاظ بات یہ نہیں ہے کہ لارڈ میکالے یا برٹش حکمرانوں نے بطور خود کس نظریے کے تحت انگریزی تعلیم گاہیں بنائیں، بلکہ اصل قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ باعتبار نتیجہ ان کا انجام کیا ہوا، اوریہ کہ یہاں سے کس قسم کے لوگ تعلیم پاکر نکلے-

انگریزی تعلیم حقیقتاً برٹش تعلیم نہ تھی، بلکہ وہ جدید علم (modern learning) کے حصول کا ذریعہ تھی- ماڈرن ایجوکیشن اپنی حیثیت کے اعتبار سے نہ پروبرٹش (pro-British)تھی اور نہ اینٹی مسلم، وہ صرف جدید علوم تک پہنچنے کا ایک ذریعہ تھی- ’’انگریزی تعلیم‘‘ کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کے اندر ذہنی جمود ٹوٹا، ان کے اندر کھلا پن آیا، ان کے اندر متعصبانہ طرز فکر (biased thinking) کا خاتمہ ہوا، وہ چیزوں کو موضوعی انداز (objective way) میں دیکھنے لگے، ان کے اندر کٹر پن ختم ہوگیا، ان کے اندر چیزوں کو عقل (reason)کے معیار پر جانچنے کا مزاج پیداہوگیا، وغیرہ-

یہ تمام چیزیں عین دینِ حق کے موافق تھیں، کیوں کہ دین حق انسانی فطرت کےعین مطابق ہے، وہ عقل کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے- دین حق کے راستے میں اگر کوئی چیز ر کاوٹ ہے تو وہ صرف متعصبانہ طرز فکر ہے- کسی بھی طریقے سے اگر متعصبانہ طرز فکر کو ختم کردیا جائے تو دینِ حق اور انسان کے درمیان حائل فکر ی دیوار اپنے آپ منہدم ہوجائے گی- اس کے بعد انسان اِس قابل ہوجائے گا کہ وہ حقیقت کو اس کی بے آمیز صورت میں دیکھ سکے-

انگریزی تعلیم یا سیکولر تعلیم کے ذریعے یہی واقعہ پیش آیا- اِس تعلیم کے ذریعے بہت سے نوجوان اِس قابل ہوگئے کہ وہ حقیقت کو دریافت کرکے اس کو قبول کرلیں- موجودہ زمانے میں اِس طرح کی مثالیں ہر مقام پر دیکھی جاسکتی ہیں— قدیم زمانہ قیاسی استدلال کا زمانہ تھا- موجودہ زمانہ سائنسی استدلال کا زمانہ ہے- آج کے انسان کے مائنڈ کو ایڈریس کرنے کے لیے سائنسی استدلال کی ضرورت ہے- انگریزی تعلیم نے اِسی دروازے کو کھولا تھا-

صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی نئی صورتِ حال پیش آئے تو اگر چہ وہ بظاہر عُسر دکھائی دیتی ہو تب بھی آپ اس کے اندر یُسر تلاش کریں- ہر نئی صورتِ حال ہمیشہ نئے مواقع کو لاتی ہے- ایسی حالت میں اصل کام صرف یہ ہے کہ مواقع کو دریافت کرکےان کو اپنے حق میں استعمال کیا جائے-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content