Maulana Wahiduddin Khan
22 min left
0:00

← Al-Risala May 2014
Al-Risala May 2014

جنت کی نرسری

Urdu · 22 min read

کسی انسان کے لیے اِس دنیا میں سب سے پہلی جاننے کی چیز یہ ہے کہ وہ یہ دریافت کرے کہ جس ہستی نے انسان کو اور اس دنیا کو بنایا ہے، اس کی اسکیم آف تھنگس (scheme of things)کیا ہے- قرآن خداکی کتاب ہے- قرآن کے مطالعے سے جو چیز معلوم ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ خدا نے سب سے پہلے ایک وسیع اور معیاری دنیا بنائی جس کا نام جنت (Paradise)ہے- پھر اس نے انسان کو پیدا کیا اور انسان کو اس جنت میں بسایا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان کو خدا نے مکمل آزادی (freedom of choice) عطا کی- انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ خالق کا اعتراف کرے، وہ خود اپنے اختیار سے سلف ڈسپلنڈ (self disciplined) زندگی گزارے- لیکن انسان اِس امتحان میں پورا نہیں اترا- اُس نے آزاد ی کا غلط استعمال کیا- اس کے بعد خدا نے انسان کے بارے میں دوسرا اصول مقرر کیا- پہلے انسان کو عمومی بنیاد (general basis) پر جنت میں بسایا گیا تھا، لیکن جب انسان مقرر کردہ معیار پر پورا نہیں اترا تو اس کے بعد خدا نے یہ طے کیا کہ انسان کے لیے جنت کا فیصلہ انتخابی بنیاد (selective basis) پر کیا جائے، یعنی صرف اُن افراد کو جنت میں آباد کیا جائے جو سلف ڈسپلن (self discipline) کے مطلوب معیار پر پورے اتریں-اس مقصد کے لئے خدا نے ابدی جنت کے سوا ایک اور عارضی دنیا بنائی-

یہ عارضی دنیا ہمارا موجودہ سیارۂ ارض (planet earth) ہے- سیارۂ ارض گویاابدی جنت کو فیڈ (feed) کرنے کے لئے عارضی قسم کی ایک زندہ نرسری (living nursery) ہے- اس سیارۂ ارض پر انسان گویا پودے (plants) کی مانند اگائے جاتے ہیں- اُن کو یہاں کے مختلف حالات میں محدود مدت کے لئے زندگی گزارنے کا موقع دیا جاتا ہے- اِس مدت میں انسان فرشتوں کے سپروژن (supervision) میں ہوتا ہے- فرشتے مسلسل واچ (watch)کرتے ہیں کہ کوئی انسان مختلف حالات میں کس قسم کا رسپانس (response)دے رہا ہے اور اپنے اندر کس قسم کی پرسنالٹی کی تشکیل کررہا ہے- پھر جو فرد (individual)اپنے قول وعمل سے یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ مطلوب معیار کے مطابق ہے، اس کو عارضی نرسری سے نکال کر جنت کی ابدی باغ میں نصب کردیا جاتا ہے، تاکہ وہ وہاں جنت کے ماحول میں فروغ پائے اور ابدی طورپر ترقی کا سفر طے کرتا رہے- موت وہ دن ہے جب کہ کسی فرد کو سیارۂ ارض سے ٹرانسفر کرکے ابدی جنت میں پہنچا دیا جائے-

قرآن کی سورہ الذاریات میں تخلیق کا ایک اصول اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمِنْ کُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ (51:49) یعنی ہم نے ہر چیز کو جوڑے جوڑے پیدا کیا ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

فطرت کا یہ نظام ہے کہ یہاں تمام چیزیں جوڑے جوڑے کی صورت میں پیدا کی گئی ہیں- اِسی طرح موجودہ دنیا بھی دو دنیا (pair world)کی صورت میں بنائی گئی ہے- سیارۂ ارض (planet earth) اس کا ایک جوڑا ہے- اس کا دوسرا جوڑا آخرت کی دنیا ہے، جہاں جنت (Paradise) واقع ہے- جنت موجودہ دنیا کا تکمیلی حصہ (complementary part) ہے- جنت کے بغیر موجودہ دنیا ناقابلِ فہم ہے، لیکن جنت کے ساتھ وہ پوری طرح قابلِ فہم بن جاتی ہے-

جنت کی نرسری

خالق نے ایک عظیم دنیا بنائی- یہ دنیا ہر لحاظ سے آئڈیل اور پرفکٹ تھی- اِس دنیا کا نام جنت ہے- قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت آدم کی تخلیق سے پہلے بنائی گئی(2:35)- اس کے بعد خالق نے چاہا کہ وہ اُن عورتوں اور مردوں کا انتخاب کرے جو اِس جنتی دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں- اِس مقصد کے لیے خالق نے سیارہ ارض بنایا - یہ سیارہ ارض گویا جنتی دنیا کی نرسری (nursery) ہے- نرسری اُس مقام کو کہا جاتا ہے جہاں پودے اگائے جائیں اور پھر منتخب پودوں کو وہاں سے نکال کر اُن کو باغ میں نصب کیا جائے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Nursery: A place where plants are reared for transplantation.

موجودہ زمین اِسی قسم کی ایک نرسری ہے- یہاں مسلسل طورپر انسان پیدا کیے جارہے ہیں- زمین پر وہ تمام حالات رکھے گئے ہیں جو نرسری کی حیثیت سے اس کے تقاضے پورے کرنے والے ہیں- ہر عورت اور مرد اپنے عمل سے اپنے اندر مثبت شخصیت یا منفی شخصیت کی تعمیر کررہے ہیں- موت وہ وقت ہے جب کہ ایک ’’پودا‘‘ اپنی مدت پوری کرنے پر نرسری سے اکھاڑ دیاجائے، پھر اگر وہ نا مطلوب شخصیت بنا ہے تو اس کو رد کردیا جائے اور اگر اس نے اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کی ہے تو اس کو وہاں سے نکال کر جنت میں بسا دیا جائے — موجودہ دنیا اِس لیے ہے، تاکہ یہاں ایک فرد اپنے آپ کو اسپریچول شخصیت کی حیثیت سے تیار (develop) کرے اور پھر جنت میں وہ اسپریچول تہذیب کا ابدی حصہ بن جائے-

جنت کی دنیا انسان کی اصل منزل ہے- موجودہ عارضی دنیا نرسری (nursery) کی مانند ہے- یہاں پیدا ہونے والے عورت اور مرد کی حیثیت گویا نرسری کے پودے کی ہے- اِس محدود مدت میں جو ’’پودے‘‘ صحت مندی کا ثبوت نہ دیں، ان کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا اور جو ’’پودے‘‘ اپنی نشوو نما کے دوران صحت مند ثابت ہوں، اُن کو باعزت طورپر موجودہ عارضی دنیا سے منتقل کرکے آخرت کی ابدی دنیا میں پہنچا دیا جائے گا، یعنی جنت کی دنیا میں-اِس حقیقت کو ایک اور آیت میں اِن الفاظ میں بیان کیاگیا ہے: الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ (67:2) یعنی اللہ، جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا، تاکہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا عمل کرتا ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پر بے شمار عورت اور مرد پیدا ہوتے ہیں- وہ محدود مدت تک زندگی گزار کر مرجاتے ہیں، یہ ساری بھیڑ خالق کا مطلوب نہیں- خالق کا مطلوب صرف وہ فرد ہے جو اِس امتحانی دورِ حیات میں یہ ثابت کرے کہ وہ پورے معنوں میں احسن العمل (best in deeds) ہے- زمین کی حیثیت نرسری کی ہے، اِس لیے یہاں ہر قسم کے پودے اگتےہیں- لیکن جنت کی حیثیت مطلوب منزل کی ہے، اِس لیے وہاں صرف وہی استثنائی افراد بسائے جائیں گے جن کو اُن کے ریکارڈ کی بنیاد پر منتخب کیا جائے-

موجودہ دنیا میں جو انسان پیدا ہوتا ہے، وہ گویا نرسری کا ایک پودا ہے-ایک محدود مدت تک وہ اِس ابتدائی دنیا میں رہتا ہے- اِس دوران اُس کے ساتھ مختلف قسم کے حالات گزرتےہیں- یہ حالات گویا اُس کے لیے تربیتی کورس (training course) ہیں- یہ حالات اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرے- موت اِس تربیتی کورس کے خاتمے کا اعلان ہے- جو انسان اِس ملی ہوئی مدت کے دوران اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرلے، اس کو نرسری سے نکال کر دوسری دنیا میں ابدی طورپر بسا دیا جاتا ہے- اور جو لوگ مطلوب انداز میں اپنی تعمیر نہ کرسکیں، اُن کو نرسری سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے گا-

اِس دنیا کے لیے خالق کا نشانہ اجتماعی نہیں ہے، بلکہ انفرادی ہے- اِس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ موجودہ دنیا تعمیر نظام کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ تعمیر شخصیت کے لیے ہے- یہاں صرف تعمیرِ شخصیت ممکن ہے، آئڈیل معنوں میں تعمیرِ نظام یہاں سرے سے ممکن ہی نہیں-انسانی زندگی کی یہی تعبیر صحیح تعبیر ہے- اِس کے صحیح ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس کو ماننے کی صورت میں زندگی کے تمام سوالات کا قابلِ فہم جواب مل جاتا ہے:

With this description of human life, everything falls into place.

تخلیق کا یہ منصوبہ قرآن وحدیث میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے- ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کےساتھ آئی ہے- اِس سلسلے کی دو روایتیں یہ ہیں:

1- عن ابن مسعود قال: قال رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم: لقیتُ إبراہیم لیلة أسرى بی- فقال یا محمد، أقرئ أمتک منی السلام، وأخبرہم أن الجنة طیبة التربة، عذبة الماء، وأنہا قیعان، وأن غراسہا: سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إلہ إلا اللہ، واللہ أکبر- (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 105)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کی رات میں میری ملاقات حضرت ابراہیم سے ہوئی- انھوں نے کہا کہ اے محمد، اپنی امت کو میرا سلام پہنچا دو- اور اُن کو بتاؤ کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ مٹی ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے اور وہ ایک ہموار میدان ہے - اس کا پودا سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إلہ إلا اللہ، واللہ أکبر ہے-

hadithQuotes a hadith

2- عن أبی أیوب الأنصاری أن رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم لیلة أسری بہ مرّ على إبراہیم، فقال من معک یا جبریل، قال: ہذا محمد- فقال لہ إبراہیم: مُر أمتک فلیکثروا من غراس الجنة، فإن تربتہا طیبة وأرضہا واسعة- قال: وما غراس الجنة، قال: لا حول ولا قوة إلا باللہ- (مسند أحمد، رقم الحدیث:7966 )

unverifiedAttribution could not be verified automatically

حضرت ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں حضرت ابراہیم کے پاس سے گزرے- انھوں نے کہا کہ اے جبریل، یہ تمھارے ساتھ کون ہیں- جبریل نے کہا کہ یہ محمد ہیں- حضرت ابراہیم نے آپ سے کہا کہ اپنی امت کو بتاؤ کہ وہ جنت میں کثرت سے پودے لگائیں، کیوں کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ ہے اور اس کی زمین بہت وسیع ہے- آپ نے پوچھا کہ جنت کا پودا کیا ہے؟ حضرت ابراہیم نے کہا کہ: لاحول ولا قوة إلا باللہ-

hadithQuotes a hadith

مذکورہ روایات میںجنت کے لیے دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں— قیعان اور ارضِ واسعہ- دونوں کا مفہوم ایک ہے، یعنی وسیع اور ہموار زمین- یہ تمثیل کی زبان میں جنت کی اصل حقیقت کا بیان ہے- اِس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے یہ چاہا کہ وہ ایک اعلی مخلوق پیدا کرے اور پھر اِس مخلوق کو وہ اپنی اعلی ترین نعمت سے نوازے- اِس منصوبے کے تحت، اللہ نے ایک معیاری دنیا بنائی- یہ دنیا اپنی وسعت کے اعتبار سے، اپنے آپ میں ایک مکمل کائنات تھی- اِس میں ہر قسم کے اعلی امکانات رکھے گئے تھے- اِس میں نہ صرف ہر قسم کی نعمتیں تھیں، بلکہ اس میں اعلی ترقی کے ابدی مواقع موجود تھے-

اس کے بعد اللہ نے انسان کو پیداکیا اور اس کو مکمل آزادی عطا کی- جنت اِسی انسان کے فطری ہیبی ٹیٹ (natural habitat) کے طورپر بنائی گئی ہے- اِس جنت میں انسان کا داخلہ انتخاب (selection) کی بنیاد پر مقرر کیا گیا- موجودہ سیارہ ارض اِس مقصد کے لیے سلیکشن گراؤنڈ یا نرسری کی حیثیت رکھتاہے- انسان کو پیدا کرکے اس کو مکمل آزادی دے دی گئی ہے- آزادی کے اِس ماحول میں جو عورت یا مرد اپنے آپ کو جنت کی دنیا میں بسائے جانے کا مستحق ثابت کریں، اُن کو منتخب کرکے یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ جنت میں آباد ہو کر مزید ترقی کی منزلیں طے کریں- اِس کے برعکس، جو افراد زمینی زندگی کے امتحان میں ناکام ہوجائیں، اُن کو رد کرکے کائناتی کوڑے خانے میں پھینک دیا جائے-

مذکورہ حدیثِ رسول میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ جنت کا معاملہ کیا ہے- اِس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اللہ کے سچے بندوں کے رہنے کی بہترین جگہ ہے- وہ ایک عالی شان رہائش گاہ ہے، مگر اپنی ابتدائی صورت میں وہ ایک غیر آباد جگہ ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس ابدی جنت کی آبادکاری کے لیے اللہ تعالی نے یہ انتظام کیا کہ موجود سیارہ ارض کو ایک نرسری یا سلیکشن گراؤنڈ کے طورپر بنایا- موجودہ زمین پر جو عورت اور مرد پیدا ہوتے ہیں، وہ گویا نرسری میں لگائے جانے والے پودے ہیں- ان پودوں میں جو پودا یہ ثابت کرے گا کہ وہ صحت مند پودا (healthy plant) ہے، اس کو دنیا کی نرسری سے نکال کر جنت کے زیادہ بہتر اور ابدی مقام پر نصب کردیا جائے گا، تاکہ وہ وہاں کے بہتر ماحول میں پرورش پاکر مزید ترقی کرے اور ابدی طورپر جنت کے شاداب باغ کا حصہ بن جائے-

اِس حدیث میں جن کلمات (سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إلہ إلا اللہ، واللہ أکبر، ولا حول ولا قوة إلا باللہ) کا ذکر ہے، وہ بہ اعتبار لفظ مرادنہیں ہیں، بلکہ وہ باعتبارِ معنی مراد ہیں، یعنی اِن الفاظ میں جس آئڈیالوجی کا ذکر ہے، یہ الفاظ جس معرفت کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ جس طرزِ فکر (way of thinking) کو بتاتے ہیں، اُس کے مطابق، اپنی سوچ کو بنانا، اس کے مطابق، اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا، اِن کلمات کی اسپرٹ کو پنے دل ودماغ میں اتارنا، یہاں تک کہ آدمی ربانی صفات والا انسان بن جائے- جو آدمی قبل از موت دورِ حیات میں اِن کلمات کے تقاضے کے مطابق، اپنے آپ کو ڈھالے گا، وہ بعد از موت دورِ حیات میں خدا کے اُس باغ میں بسنے کا مستحق قرار پائے گا جس کو جنت (Paradise)کہاجاتا ہے-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن میں جنت کا ذکر تفصیل کے ساتھ آیا ہے- قرآن ایک اعتبار سے، جنت کا تعارف ہے- یہ تعارف اتنے موثر انداز میں ہے کہ اس کو پڑھنے والا آدمی گویا جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگتا ہے- اگر آپ اِس اعتبار سے، قرآن کا تتبع کریں اور جنت کی آیتوں کو یکجا کرکےاس کا مطالعہ کریں تو آپ کے اندر شدید طورپر یہ جذبہ ابھرے گا کہ آپ جنت کو اپنی منزل بنالیں، آپ کی تمام سرگرمیوں کا رخ جنت کی طرف ہوجائے گا- جیسا کہ قرآن میںارشاد ہوا ہے: لِمِثْلِ ہَذَا فَلِیَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (37:61)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ابدی عمر، ابدی صحت، ابدی امن

قرآن اور حدیث میں جنت اور اہلِ جنت کا تذکرہ نہایت تفصیل کے ساتھ آیا ہے- اِس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں ابدی طورپر ہر قسم کی نعمتیں کمال درجے میں موجود ہوں گی- وہاں انسان کی ہر اشتہا (desire) کی تکمیل کا سامان ہوگا- وہاں انسان کو کامل معنوں میں فل فِل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا- جنت میں انسان کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ مسلسل طورپر وہاں کی نعمتوں کو انجوائے کرے اور کبھی بورڈم کا شکار نہ ہو- جنت ہر اعتبار سے اہلِ جنت کے لیے آئڈیل اور پرفکٹ دنیا ہوگی-

مگر اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے موجودہ وجود کے ساتھ جنت کی نعمتوں سے حقیقی معنوں میں محظوظ نہیں ہوسکتا- اِس لیے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو جو وجود ملا ہے، وہ ہر اعتبار سے، ایک محدود وجود ہے— اِس وجود پر بڑھاپا آتا ہے،یہ وجود بیماری اور حادثات سے دوچار ہوتا ہے، یہ وجود زوال (de-generation) کا شکار ہوتا ہے، اِس وجود پر موت طاری ہوتی ہے، اِس وجود کے آرگن (organs) کمز ور وناکارہ ہوتے رہتے ہیں، اِس وجود پر نیند اور تھکاوٹ طاری ہوتی ہے، اِس وجود کے حواس (senses) معطل ہوتے رہتے ہیں، وغیرہ-

ایسی حالت میں انسان کو اگر جنت اِس طرح ملے کہ جنت میں ہر قسم کا سامانِ عیش تو کامل طورپر موجود ہو، لیکن انسان کا وجود یہی موجودہ دنیا والا وجود ہو، جو کہ ہر قسم کی کمزوریوں (weaknesses)کا شکار ہوتا ہے، اس کو ہر قسم کی محدودیت (limitations) لاحق ہوتی ہے، اس کو بدستور جسمانی زوال (physical degeneration) پیش آتا رہے، جیساکہ وہ اِس دنیا میں پیش آتاتھا- اگر ایسا ہو تو انسان کے لیے جنت اینٹ پتھر کا ایک ڈھیر بن جائے گی، وہ اس کے لیے لذت اور خوشی کی جگہ ثابت نہ ہوگی- جنت انسان کے لیے صرف اُس وقت جنت ہے جب کہ وہ خود جنت سے انجوائے کرنے کی طاقت رکھتا ہو-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

اگر انسان کے اپنے اندر جنت سے انجوائے کرنے کی طاقت نہ ہو تو جنت اس کے لیے بلاشبہہ ایک مصیبت خانہ ہوگی، نہ کہ کوئی عیش خانہ- جنت اسی طرح اس کے لیے ایک دار الکبد ہوگی ، جیسا کہ موجودہ دنیا اس کے لیے دار الکبدتھی- اِس کا تقاضا ہے کہ اہلِ جنت کو آخرت میں جنت کے ساتھ ایک نیا وجود بھی عطا کیا جائے، ایسا وجود جو ابدی عمر رکھتا ہو، اس کو ایسی صحت ملے جو بھر پور صحت (health in full swing) کی حامل ہو-

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص موجودہ دنیا کی زندگی میں اپنے آپ کو ر وحانی اعتبار سے، مطہَّر شخصیت (spiritually purified personality) کی حیثیت سے ڈیولپ (develop) کرے، اس کو آخرت میں اللہ کے خصوصی عطیہ کے طو رپر جسمانی اعتبار سے، مطہَّر شخصیت (physically purified personality) حاصل ہوگی- ایسی شخصیت اپنی اعلی صلاحیتوں کے اعتبار سے، کامل صفات کی حامل ہوگی- وہ اِس قابل ہوگی کہ جنت کی نعمتوں سے بھر پور طور پر حظ (enjoyment) حاصل کرے، وہ کسی بھی پہلو سے محدودیت (limitation) اور ڈس ایڈوانٹج (disadvantage) میں مبتلا نہ ہو، وہ ابدی طورپر کامل فل فل مینٹ (fulfilment) کے احساس میں جیتا رہے-

چناں چہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جنتی انسان ہمیشہ جوانی کی عمر (youth age) میں رہیں گے، جیسے کہ وہ صرف 30 سال کی عمر کے ہوں- وہ ہر اُس جسمانی کمزوری (physical weakness) سے مکمل طورپر پاک ہوں گے جو دنیا کی زندگی میں اُن کے جسم کا لازمی حصہ تھی-

hadithQuotes a hadith

اِسی طرح جنت کےباشندے ہر قسم کی جسمانی کمی سے پاک ہوں گے- مثلاً وہ کبھی بیمار نہیں ہوں گے-اُن کو بول وبر از کی حاجت نہ ہوگی- اہلِ جنت کو جو جسم ملے گا، وہ ایسا جسم ہوگا جو ابدی طورپر شباب کی حالت میں رہے گا- اس پر نیند اور تھکاوٹ اور بڑھاپا طاری نہیں ہوگا- جنت میں اہلِ جنت کو خطاب کرکے یہ اعلان کیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ صحت مند رہوگے، کبھی بیمار نہ ہوگے- اب تم ہمیشہ زندہ رہوں گے، کبھی تم پر موت نہ آئے گی- اب تم ہمیشہ جوان رہوگے، کبھی تم بوڑھے نہ ہوگے- اب تم ہمیشہ خوش حال رہوگے، کبھی تنگی میں مبتلا نہ ہوگے، وغیرہ- (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مشکاة المصابیح: جلد 3، کتاب أحوال القیامة وبدء الخلق، باب صفة الجنة وأہلہا)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حقیقت یہ ہے کہ جنت اور انسان دونوں ایک دوسرے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں- جنت مکمل طورپر انسان کے مطابقِ حال ہے اور انسان مکمل طورپر جنت کے مطابقِ حال- جنت انسان کا ہیبی ٹیٹ (habitat) ہے اور انسان جنت کا مطلوب باشندہ (citizen)- انسان کے بغیر جنت کا وجود ادھورا ہے اور جنت کے بغیر انسان کا وجود ادھورا- دونوں ایک دوسرے کے لیے طالب اور مطلوب کی حیثیت رکھتے ہیں- جنت کے بغیر انسان کی زندگی بے معنی ہے اور انسان کے بغیر جنت کے وجود کی کوئی معنویت نہیں- یہ طالب اور مطلوب دونوں آخرت میں اکھٹا کیے جائیں گے اور اس کے بعد ابدی طورپر ایک دورِ کمال شروع ہوگا، جس کی خوشیاں کبھی ختم نہ ہوں گی، اور نہ اس کی رونق پر کبھی زوال آئے گا- یہ جنت انسان کا انتظار کررہی ہے، لیکن اِس جنت میں داخلہ صرف اُس انسان کو ملے گا جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کرے-

کلماتِ ذکر کی حقیقت

مذکورہ روایات میں پانچ کلمات کا ذکر ہے- وہ کلمات یہ ہیں — سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا إلہ إلا اللہ، واللہ أکبر، ولا حول ولا قوة إلا باللہ- اِن کلمات کے جو الفاظ ہیں، وہ محض الفاظ نہیں ہیں، بلکہ وہ گہرے معانی کو بتارہے ہیں اور یہ الفاظ اپنے اِنھیں گہرے معانی کے اعتبار سے مطلوب ہیں، نہ کہ محض الفاظ کے اعتبار سے، یعنی اُن کا فائدہ محض اُن کی لفظی تکرار میں نہیں ہے، بلکہ ان کی اسپرٹ یا ان کی معنویت کو اپنانے میں ہے-

لا حول ولا قوة کیا ہے- وہ اِس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تمام طاقتوں کا مالک (all-powerful) ہے-’سبحان اللہ‘ کیا ہے سبحان اللہ اِس حقیقت کی دریافت ہے کہ خدا ہر قسم کے عیب اور نقص سے کامل طورپر پاک ہے- الحمد للہ کیا ہے- الحمد للہ دراصل یہ ہے کہ ایک صاحبِ معرفت آدمی اللہ کے کمالات کو دریافت کرکے اس کا شعوری اعتراف کرے- لا إلہ إلا اللہ کیا ہے- لا إلہ إلا اللہ دراصل تمام معبودوں کو رد کرکے اللہ کو معبود ِ حقیقی کے طورپر دریافت کرنے کا دوسرا نام ہے- اللہ أکبرکیا ہے- یہ وہ عارفانہ کلمہ ہے جو ایک شخص کی زبان سے اُس وقت بے تابانہ طور پر نکل پڑتا ہے، جب کہ وہ تدبر کے نتیجے میں اللہ کے مقامِ عظمت کو دریافت کرے-

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ کلمات دراصل ذکر ِ الہی کے کلمات ہیں- ذکر کی حقیقت معرفت ہے اور معرفتِ الہی بلا شبہہ سب سے بڑی نیکی (virtue) ہے- لیکن معرفت کوئی سادہ چیز نہیں- معرفت سے پہلے دریافت ہے- دریافت سے پہلے تدبر ہے، تدبر سے پہلے یکسوئی (concentration) ہے، یکسوئی سے پہلے سنجیدگی ہے- آدمی سب سے پہلے سنجیدگی کا ثبوت دیتاہے، پھر وہ اپنے ذہن کو غیر متعلق چیزوں سے یکسو کرتاہے، اس کے بعد وہ غور وفکر کرتاہے، جس کو تدبر کہا جاتا ہے- تدبر اس کو دریافت تک پہنچاتا ہے اور دریافت معرفت تک-سنجیدہ تفکر کے ان مراحل سے گزر نے کے بعد جب کسی انسان کو اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک فکری بھونچال آتا ہے، اس کے اندر حقیقت شناسی کا ایک سیلاب امنڈپڑتا ہے- یہ ربانی کیفیت جب ایک انسان کی زبان سے بے تابانہ طورپر ظاہر ہوتی ہے تو اسی کا نام ذکر الہی ہے-

یہ کلمات دراصل اُس شعوری عمل (intellectual process) کو بتاتے ہیں جو ایک صاحب ِ ایمان کے اندر موجودہ دنیا میں جاری ہوتاہے- موجودہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ایک صاحبِ ایمان پر مختلف احوال اور تجربات گزرتے ہیں- اگر اس کے اندر ایمانی شعور زندہ ہو تو یہ تمام احوال وتجربات اس کے لیے رزقِ رب کا ذریعہ بنتے رہیں گے- آخر کار وہ اُس مطلوب انسان کا درجہ حاصل کر لے گا جو آخرت کی جنت میں داخلے کے لیے ایک مستحق امیدوار (deserving candidate) کی حیثیت رکھتا ہے-

قرآن کا موضوع

قرآن خالقِ کائنات کی کتاب ہے- قرآن کا موضوع (subject) یہ ہے کہ انسان کے بارے میں اللہ کے تخلیقی منصوبہ سے اس کو آگاہ کیا جائے- قرآن کے تمام بیانات براہِ راست یا بالواسطہ طورپر اِسی معاملے کی وضاحت ہیں- مثلاً قرآن کی سورہ ابراہیم میں بتایا گیاہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں— ایک انسان وہ ہے جو اپنی زندگی کی تعمیر ’کلمۂ طیبہ‘ (14:24) کی بنیاد پر کرے اور دوسرا انسان وہ ہے جو ’کلمہ خبیثہ‘ (14:26) کی بنیاد پر اپنے آپ کو کھڑا کرے- قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو انسان اپنی زندگی کی تعمیر ’کلمۂ طیبہ‘ کی بنیاد پر کرے، وہ موجودہ دنیا میں بھی اپنا رزق پائے گا اور موت کے بعد کی زندگی میںاس کو اعلی مقامات حاصل ہوں گے- اِس کے برعکس، جو آدمی ’کلمۂ خبیثہ‘ کو اپنی زندگی کی بنیاد بنائے، اس کو استحکام حاصل نہیں ہوگا، اس کو غیر صحت مند پودے کی طرح اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا، وہ جنت میں داخلے کے لیے نا اہل قرار پائے گا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاریخ کا یہ عجیب المیہ ہے کہ انسانوں کی بڑی اکثریت نے اِس تخلیقی حکمت کو نظر انداز کیا ، انھوں نے اپنے آپ کو آخرت کے اعتبار سے نہیں بنایا، وہ موجودہ دنیا کی ظاہری چیزوں میں پھنس کر رہ گئے- اِسی حقیقت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إن ہؤلاء یحبون العاجلة ویذرون وراءہم یوما ثقیلا (76:27)-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

تاریخ کا تجربہ

تاریخ کے ہر دور میں تمام سوچنے والے انسان ایک ہی آبسیشن (obsession) میں مبتلا رہے ہیں — موجودہ دنیا کو کس طرح بہتر دنیا بنایا جائے- ہر دور کے انسانوں کا یہ ایک مشترک خواب رہا ہے- مذہبی لوگ اپنے اِس خواب کے لیے صالح نظام کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور سیکولر لوگ اس کو آئڈیل سسٹم کا نام دیتے ہیں- تاریخ میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، خواہ وہ فکشن ہو یا نان فکشن ، تقریباً ان سب کا خلاصہ یہی ہے- کوئی کتاب براہِ راست طورپر اِس موضوع پر لکھی گئی ہے اور کوئی کتاب بالواسطہ طورپر اِس موضوع سے متعلق ہے-

یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ تاریخ کی تمام سرگرمیوں کا نشانہ (goal) عملاً یہی ایک تھا- مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ اِس سلسلے کی تمام انسانی سرگرمیاں نتیجے کے اعتبار سے، ناکام ہوکر رہ گئیں، کوئی بھی کوشش اپنے مطلوب نشانے تک نہیں پہنچی، نہ سیکولر لوگ اپنا مفروضہ آئڈیل سسٹم بنا سکے اور نہ مذہبی لوگ اپنا مذکورہ صالح نظام بنانے میں کامیاب ہوئے- یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سوا ل ہے- اِس سوال کا جواب معلوم کرنا خود انسان کے وجود کی معنویت کو معلوم کرنا ہے اور بلا شبہہ اِس سے بڑی کوئی دریافت (discovery) نہیں ہوسکتی کہ انسانی وجود کی معنویت کو حقیقی طورپر دریافت کیا جائے-سیکولر مفکرین اور مذہبی مصلحین کی اِس عمومی ناکامی کا سبب یہ ہے کہ ان کا منصوبہ خالق کے منصوبہ تخلیق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، اور جو منصوبہ خالق کے تخلیقی نقشےکے مطابق نہ ہو، اس کے لیے اِس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں-خالق کے منصوبے کے مطابق، یہ دنیا ایک جوڑا دنیا (pair world) کی صورت میں بنائی گئی ہے- ایک دنیا دوسری دنیا کا تکملہ (complement) ہے- اِس تخلیقی منصوبے کے مطابق، کرۂ ارض (planet earth) کی حیثیت ایک وقتی نرسری (nursery) کی ہے، اور دوسری دنیا کی حیثیت ایک ابدی باغ (eternal garden) کی ، جس کو معروف طورپر جنت (Paradise) کہاجاتا ہے-

خلاصۂ کلام

قرآن میں جنت کی تخلیق کے لیے ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے- مثلاً : أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْن (3:133) یعنی جنت اہلِ تقوی کے لیے تیار کی گئی ہے- اور فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ (32:17) یعنی کسی کو نہیں معلوم کہ اُن کے لیے اُن کے اعمال کے صلے میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی ہے، وغیرہ-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق نے اپنے منصوبے کے مطابق، پہلے جنت کی دنیا بنائی- اس کے بعد اہلِ جنت کا انتخاب کرنے کے لیے موجودہ سیارۂ ارض کو بنایا، جو کہ دراصل جنت کی ابدی دنیا کے لیے ایک عارضی نرسری کی حیثیت رکھتا تھا- اِس عارضی نرسری میں عورت اورمرد محدود مدت کے لیے پیدا کیے جاتے ہیں- منصوبہ تخلیق کے مطابق، جب انسانوں کی تعداد پوری ہوجائے گی، اُس وقت سیارہ ارض پر قیامت کا زلزلہ آئے گا اور اس کی موجودہ حیثیت کا خاتمہ ہوجائے گا-

انسان کو موجودہ دنیا میں بسنے کے لیے صرف محدود قت ملتا ہے- موجودہ دنیا میں انسان کی عمر کا اوسط تقریباً 70 سال ہے- اِس مدت میں جو افراد اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں، اُن کو موت کے بعد لے جاکر جنت کی دنیا میں آباد کردیا جاتا ہے اور جو عورت یا مرد اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر میں ناکام رہتے ہیں، اُن کو ’’خبیث پودے‘‘ کی مانند اکھاڑ کر پھینک دیاجاتا ہے- زمین کی صورت میں جو نرسری بنائی گئی ہے، وہ صرف عارضی مدت کے لیے ہے، اور جنت کی صورت میں جو معیاری دنیا بنائی گئی ہے، وہ ابدی ہے، وہ کبھی ختم ہونے والی نہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itExplained aloudRamadan and Roza August 5, 2012 · from 24:44 · 10 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itExplained aloudViolence- The Second Forbidden Tree June 14, 2009 · from 1:23 · 36 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itExplained aloudThe Divine Purpose Behind Human Creation October 6, 2024 · from 2:12 · 43 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside ithadithQuotes a hadithunverifiedAttribution could not be verified automaticallyhadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyExplained aloudIslam in Daily Life May 26, 2013 · from 40:07 · 11 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyhadithQuotes a hadithoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itunverifiedAttribution could not be verified automaticallyExplained aloudMumin is Like A Tree April 11, 2007 · from 1:03 · 10 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itExplained aloudThe Concept of Jihad In Islam May 25, 2008 · from 71:50 · 7 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside itExplained aloudPurpose of Human Life December 2, 2012 · from 28:10 · 10 moreoriginal + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it