خواہش (desire) ہر انسان کی ایک فطری صفت ہے- کوئی عورت یا مرد خواہش کی نفسیات سے خالی نہیں- تاہم خواہش کوئی برائی (evil) نہیں، یعنی خواہش اپنے آپ میں برائی نہیں ہے، بلکہ خواہش کا غلط استعمال اس کو برا بنا دیتا ہے-انسان کے اندر سب سے بڑی صفت محرک (incentive) ہے- ہر عمل کی جڑمیں ایک محرک ہوتا ہے- اگر کسی انسان کے اندر محرک نہ پایا جائے تو وہ کوئی کام نہیں کرسکتا- یہ محرک تمام تر خواہش کی پیداوار ہے- یہ خواہش ہے جو انسان کے اندر محرک پیداکرتی ہے- خواہش نہیں تو محرک نہیں اور محرک نہیں تو کوئی عمل نہیں-اِس معاملے میں انسان کا اصل کام یہ ہے کہ وہ اپنی خواہش کو کنٹرول کرے- وہ اپنی خواہش کو غلط رخ کی طرف جانے سے روکے- مثلاً کھانے میں وہ سادہ کھانا کھائے اور لذیذ کھانے سے پرہیز کرے- کوئی عمل کرے تو خدمت کے جذبے سے کرے، نہ کہ شہرت (fame) حاصل کرنے کے لیے- کپڑا پہنے تو ستر پوشی کے لیے پہنے، نہ کہ خوش نمائی کے لیے- پیسہ کمائے تو صرف ضرورت پوری کرنے کے لیے، نہ کہ دولت کا ڈھیر اکھٹا کرنے کے لیے- گھر بنائے تو رہائشی ضرورت کے لیے، نہ کہ شان وشوکت کے اظہار کے لیے-یہی خواہش پر کنٹرول ہے-
خواہش پر کنٹرول کا مقصد اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچانا ہے- جب آدمی اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچاتا ہے تو اس کے بعد اُس کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ ذہنی اور روحانی ترقی میں مشغول ہوسکے، وہ اپنی شخصیت کے ارتقا کے اعلی تر مقصد کو حاصل کرسکے-خواہش پر کنٹرول صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو مطالعہ اور غوروفکر کے ذریعے اپنے مقصد ِ تخلیق کو دریافت کرے- اِس دریافت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی عارضی دنیا کی وقتی لذتوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے، وہ اپنے آپ کو اُس ربانی شخصیت کی تشکیل میں لگا دیتا ہے جو دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلے اور آخرت میں اللہ کی ابدی جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے — —خواہش پر کنٹرول آدمی کو اعلی انسان بناتا ہے- اِس کے برعکس، خواہش کی پیروی کرنے والا آدمی حیوانیت کی سطح پر پہنچ جاتا ہے- — —
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔