Maulana Wahiduddin Khan
10 min left
0:00

← Al-Risala May 2014
Al-Risala May 2014

اسلام اور دورِ جدید

Urdu · 10 min read

تاریخ کے بارے میں اللہ کا ایک منصوبہ قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیاہے: وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَةٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ (8:39) -

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اِس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے موجودہ کرۂ ارض کو بنایا اور یہ مقدر کردیا کہ اس کی نعمتیں (blessings) یکساں طور پر تمام انسانوں کو حاصل ہوں (55:10)- تاریخ انسانی کی ابتدا میں ایک عرصے تک یہ صورتِ حال قائم رہی- اس کے بعد دھیرے دھیرے دنیا میں شخصی حکمرانی کا نظام آگیا- یہ سیاسی کلچر طاقت کے زور پر قائم ہوا اور پھر پوری انسانی تاریخ میں پھیل گیا-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ سیاسی اجارہ داری (political monopoly) اللہ کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے خلاف تھی- اِس نظام نے انسانی آزادی کو بہت زیادہ محدود کردیا، جب کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ انسان پوری طرح آزاد رہے- اِس نظام کے تحت یہ ہوا کہ ایک طبقے کو ہر اعتبار سے مراعاتی طبقہ (privileged class) کا درجہ مل گیا، جب کہ بیش تر لوگ اُس سے محروم رہے- اِس نظام نے اپنے تحفظ کے لیے مختلف قسم کی پابندیاں لوگوں پر عائد کردیں- انھیں میں سے ایک چیز وہ بھی تھی جس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے-

اِس سیاسی نظام کا مطلب یہ تھا کہ اللہ کے پیدا کردہ تمام مواقع پر ایک محدود طبقے کی اجارہ داری قائم ہو اور بیش تر لوگ اِس سے محروم ہوجائیں کہ وہ آزادانہ طور پر وہ کام کرسکیں جو نظامِ تخلیق کے مطابق، اُن سے مطلوب ہے-ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا- اُس وقت تک سیاسی اجارہ داری کا یہ نظام لوگوں کے اوپر اپنی گرفت(grip) پوری طرح مضبوط کرچکا تھا- یہ صورتِ حال اللہ کے تخلیقی منصوبہ کے سراسر خلاف تھی- اِس نظام کے تحت یہ ممکن نہیں رہا تھا کہ انسانی شخصیت کے فطری امکانات (potentials)انفولڈ (unfold) ہوں، زمین کے فطری امکانات دریافت ہوں اور وہ چیز وجود میں آئے جس کو تہذیب (civilization) کہاجاتا ہے-

اُس وقت رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیاگیا کہ وہ اِس غیر فطری نظام کا خاتمہ کردیں، تاکہ انسان کے اوپر اللہ کی تمام امکانی سعادتوں کے دروازے کھل سکیں- اُس وقت عرب کے پڑوس میں دوبڑی سلطنتیں قائم تھیں — ایک، ساسانی ایمپائر (Sassanid Empire)اور دوسری، بازنتینی ایمپائر (Byzantine Empire)- پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اِن سلطنتوں کے سربراہوں کے نام خطوط روانہ کیے- اس کا مطلب یہ تھا کہ پہلے مرحلے میں یہ کوشش کی گئی کہ یہ حکمراں پُرامن فہمائش کے ذریعے اپنی اصلاح کرلیں- جب اِن حکمرانوں کے اوپرپُر امن فہمائش کارگر نہیں ہوئی تو اس کے بعد یہ حکم دیاگیا کہ اِن حکمرانوں کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے- یہ فوجی کارروائی گویا انسانوں کے ذریعے ایک خدائی آپریشن (divine operation) تھا جو اللہ کی خصوصی مدد کے ذریعے کامل طور پر انجام پایا-یہ خدائی آپریشن کسی وقتی مقصد کے لیے نہ تھا- اُس کانشانہ یہ تھا کہ ایک تاریخی نظام کاخاتمہ کرکے دنیا میں دوسرے تاریخی نظام کو وجود میں لایا جائے- اِس قسم کا منصوبہ صرف ایک لمبے عمل (long-term process) کے ذریعے بروئے کار لایا جاسکتا تھا، چناں چہ ایسا ہی ہوا-

سب سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ ہوا کہ ملکِ عرب میں قبائلی حکمرانی کو ختم کیا گیا- اِس کے بعد خلافتِ راشدہ کے زمانے میں ایشیاا فریقہ کے درمیان قائم شدہ دو بڑی سلطنتوں — ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر — کا خاتمہ کیا گیا- یہ دونوں واقعات غیر معمولی قربانیوں کے ذریعے پیش آئے-یہ تاریخ بشری کا ایک عظیم سیاسی انقلاب تھا جس کا ذکر بائبل میں اِن الفاظ میں آیا ہے — اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں- ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہوگئے- قدیم ٹیلے جھک گئے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk 3:6)

other sourceWords of another person or source

تاہم اللہ تعالی کو تاریخ میں جو نیا دور لانا تھا، اس کے لیے اتنا ہی کافی نہ تھا- اِس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ سیاسی اجارہ داری کے نظام کو عالمی سطح پر ختم کردیا جائے- منصوبۂ الہی کا یہ دوسرا مرحلہ مسلم مجاہدین کے ذریعے انجام پایا- جیساکہ معلوم ہے، اس کے بعد بنو امیہ کے دور اور بنو عباس کے دور اور دوسری مسلم سلطنتوں کے دور میں یہ ہوا کہ دنیا کے تقریباً پورے آباد حصے میں مسلم مجاہدین نے قدیم طرز کے سیاسی نظام کو توڑ ڈالا-اِس عمل کی تکمیل انیسویں صدی عیسوی میں یورپ میں ہوئی- اِس زمانے میں بڑے بڑے سیاسی مفکرین (political thinkers) پیدا ہوئے- مثلاً روسو، وغیرہ- اِن لوگوں نے قدیم زمانے کے جابر حکمرانوں (despotic kings)کے خلاف طاقت ور کتابیں لکھیں- یہ کتابیں چھپ کر پورے یورپ میں پھیل گئیں- اِس کے بعد عملی انقلاب کے لیے بڑی بڑی سیاسی تحریکیں اٹھیں- اِس کی تکمیل 1879 میں ہوئی، جب کہ وہ تاریخی واقعہ پیش آیا جس کو فر نچ انقلاب (French Revolution)کہاجاتا ہے- اِس کے بعد قدیم طرز کا بادشاہی نظام عملاً ختم ہوگیا اور دنیا میں بڑے پیمانے پر جمہوری نظام قائم ہوگیا-

سائنس کا دور

قدیم بادشاہی نظام میں آزادانہ سوچ کا ماحول موجود نہ تھا- بادشاہ ہر نئی فکر کو کچل دیتے تھے- مثال کے طورپر رومن ایمپائر تقریباً دو ہزار سال تک قائم رہا- مگر اِس طویل مدت میں کوئی سائنسی دریافت نہ ہوسکی- موجودہ زمانے میں جمہوریت کا دور آیا تو انسان کو مکمل معنوں میں فکری آزادی حاصل ہوگئی- اب فطرت (nature) میں آزادانہ تحقیق کا عمل شروع ہوگیا- اِس کے نتیجے میں فطرت میں چھپے ہوئے قوانین دریافت ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ دور پیدا ہوگیا جس کو جدید سائنسی دور کہا جاتا ہے-

جدید سائنس کے دو پہلو ہیں — نظری سائنس (theoretical science)اور انطباقی سائنس (applied science)- نظری سائنس میں تحقیقات کے ذریعے عالم فطرت کے اُن مخفی قوانین کا ایک حصہ دریافت ہوا جس کو قرآن میں آیات اللہ (signs of God) کہا گیا ہے- اِن قوانین کی دریافت کا یہ عظیم فائدہ ہوا کہ دینِ خداوندی کے معتقدات مسلّمہ انسانی علم کی بنیاد پر ثابت شدہ بن گئے- (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مذہب اور جدید چیلنج)

سیکولر زم کا نظریہ

قدیم سیاسی نظام میں بادشاہ کو مطلق اختیار حاصل ہوتا تھا- جدید جمہوریت میں اِس کی گنجائش باقی نہ رہی- اس کے بعد حالات کے تحت ایک نیا نظریہ پیدا ہوا جس کو سیکولرزم کہاجاتا ہے- سیکولرازم کا مطلب لادینیت نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ملکی انتظام کے سوا دوسرے امور میں اسٹیٹ کا رویہ عدم مداخلت (non-interference)کا ہوگا-

یہ ایک دوررس انقلابی واقعہ تھا جو تاریخ میں پہلی بار پیش آیا- اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زندگی کے تمام غیر سیاسی شعبے مثلاً مذہب، تعلیم، اقتصادیات، وغیرہ حکومت کی گرفت سے آزاد ہوگئے- اب لوگوں کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اِن غیر سیاسی شعبوں میں آزادانہ طورپر اپنے منصوبے کی تکمیل کرسکیں-اسلام کے نقطۂ نظر سے بلاشبہہ یہ ایک عظیم واقعہ تھا- یہ گویا سنتِ حدیبیہ کا عالمی احیا تھا-

ساتویں صدی عیسوی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فائدہ اِس طرح حاصل ہوا تھا کہ آپ کو فریقِ ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طورپر ماننا پڑا تھا- موجودہ زمانے میں حدیبیہ جیسے فائدے مزید اضافے کے ساتھ غیر مشروط طورپر حاصل ہوگئےہیں- اب اگر کوئی شرط ہے تو وہ صرف یہ کہ اہلِ ایمان کسی کے خلاف تشدد (violence)نہ کریں- مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ کوئی شرط نہیں، کیوں کہ اہلِ ایمان اپنے عقیدے کے تحت پہلے ہی سے تشدد کو قابلِ ترک قرار دئے ہوئے ہیں-

جدید ٹکنالوجی

انطباقی سائنس کے ذریعے موجودہ زمانے میں انسان کو ایک عظیم نعمت حاصل ہوئی ہے، یعنی جدید ٹکنالوجی - جدید ٹکنالوجی کے بے شمار فائدے ہیں- یہ فائدے عملاً تمام انسانوں کے لیے عام ہیں، لیکن اہلِ ایمان کے لیے وہ ہزاروں گنا زیادہ بڑے فائدے کی حیثیت رکھتے ہیں- کیوں کہ اہلِ ایمان اِس ٹکنالوجی کی مدد سے اپنی دنیا کی بھی پر امن تعمیر کرسکتے ہیں، اسی کے ساتھ وہ تعلیم دین اور دعوت الی اللہ کے کام میں اِس ٹکنالوجی کو استعمال کرسکتے ہیں اور اِس طرح وہ اُس ربانی کام کو انجام دے سکتے ہیں جو اُن کے لیے آخرت کی ابدی سعادتوں کا دروازہ کھولنے والا ہے-

اقوامِ متحدہ

قدیم زمانے میں انسانی آبادی مختلف الگ الگ حصوں میں بٹی ہوئی تھی- اُس وقت وہ وسائل موجود نہ تھے جس کے ذریعے یہ ممکن ہو کہ دنیا کے تمام انسانوں کی عالمی تنظیم قائم کی جاسکے- موجودہ زمانے میں نئے حالات نے ساری دنیا کو ایک گلوبل ولیج (global village) کی حیثیت دے دی ہے- اب زمین کے ایک کونے میں بسنے والا انسان زمین کے دوسرے کونے میں بسنے والے انسان سے کامل طور پر مربوط ہے- حالات کے اِس نئے تقاضے کے تحت 1920 میں ایک عالمی تنظیم قائم ہوئی جس کا نام لیگ آف نیشنس(League of Nations)تھا- اِس کے بعد 1945 میں زیادہ بڑے پیمانے پر ایک اور عالمی تنظیم قائم ہوئی جس کا نام اقوامِ متحدہ ہے- اقوامِ متحدہ اپنے مختلف اداروں کے ساتھ اب ایک مستحکم عالمی تنظیم بن چکی ہے اور اس میں دنیا کے تمام ممالک شامل ہیں جن کی تعداد تقریباً دوسو ہے-

اقوامِ متحدہ موجودہ زمانے میں ایک بین اقوامی نعمت (international blessing) کی حیثیت رکھتی ہیں- اس کے بہت سے اجتماعی فائدے ہیں- مثلاً موجودہ زمانے میں اقوامِ متحدہ کے عالمی پلیٹ فارم کی بنا پر تاریخ میں پہلی بار یہ ممکن ہوا ہے کہ دنیا کے تمام ملکوں نے باقاعدہ طورپر اور سرکاری طور پر یہ تسلیم کرلیا کہ ان کے شہریوں کو مکمل معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہوگی- آزادی کے اِس حق کے ذریعے موجودہ زمانے میں کام کے ایسے مواقع (opportunities)کے دروازے کھل گئے ہیں جو اِس سے پہلے پوری تاریخ میں انسان کے اوپر یکسر بند پڑے ہوئے تھے-اقوامِ متحدہ کے ذریعے حاصل ہونے والے انسانی حقوق بلاشبہہ ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتے ہیں- اِس نعمت سے بے خبر صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اپنی قومی خواہشوں میں جیتے ہوں اور اُس کو خود ساختہ طور پر معیار کا درجہ دئے ہوئے ہوں-

موجودہ زمانے میں دنیا کے نظام میں جو دور رس تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں، وہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے لائے جانے والے انقلاب کا منتہا (culmination) ہیں- ساتویں صدی عیسوی میں رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے عرب اور اطراف عرب میں جو انقلاب آیا، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک تاریخی انفجار (historical explosion) کے ہم معنی تھا-

یہ اللہ کا ایک منصوبہ تھا جس کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) شروع ہوا- یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے بیسویں صدی عیسوی میں اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا- اِس انقلاب کا مقصد دنیا میں کوئی معیاری نظام (ideal system) قائم کرنا نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، انسان کی آزادی کو پوری طرح برقرار رکھتے ہوئے دنیا میں ایسا ماحول قائم کیا جائے جس میں اللہ کی پیدا کی ہوئی ہر چیز ہر انسان کے لیے ہوجائے-

اِسی کے ساتھ دینی نقطۂ نظر سے یہ مطلوب تھا کہ اہلِ ایمان کے لیے ایک طرف یہ ممکن ہوجائے کہ وہ کھلے طورپر اعلی معرفت کے درجات طے کرسکیں اور اِسی کے ساتھ اُن کو اِس بات کی کامل آزادی حاصل ہو کہ وہ دعوت الی اللہ کے پر امن کام کو آخری حد تک انجام دے سکیں-

یہ تمام مطلوب فائدے موجودہ زمانے میں کامل طورپر حاصل ہوگئے ہیں- اب انسان کے اوپر حصولِ معرفت کے بھی تمام دروازے کھل چکےہیں اوردعوتی عمل کے تمام مواقع بھی- یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر ہوا ہے کہ یہ کہنا کسی مبالغے کے بغیر درست ہے کہ — دورِ جدید اسلام کا دور ہے- اکیسویں صدی میں قرآن کی وہ پیشین گوئی آخری حد تک پوری ہو چکی ہے جو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کی گئی تھی: ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۭ وَکَفٰى بِاللّٰہِ شَہِیْدًا (48:28) یعنی اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ وہ اُس کو تمام دینوں پر غالب کردے، اور اللہ کافی گواہ ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

قرآن کی اِس آیت میں وقتی اعتبار سے کسی سیاسی واقعے کا ذکر نہیں ہے، اِس میں اللہ کے ایک تاریخی منصوبے کا ذکر ہے جس کو ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہونا تھا اور پھر لمبے عمل کے بعد اپنی تکمیل تک پہنچنا تھا- بیسویں صدی عیسوی میں یہ خدائی منصوبہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا- اب اہلِ ایمان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اِن عالمی مواقع کو جانیں اور ان کو بھر پور طورپر استعمال کریں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content