ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رأس الحکمة مخافة اللہ (الجامع الصغیر للسیوطی، رقم الحدیث: 4361) یعنی اللہ کا خوف حکمت کا سرا ہے-
یہ حدیثِ رسول انسانی فطرت کی ایک حقیقت کو بتاتی ہے- وہ حقیقت یہ ہے کہ حکمت (wisdom) کسی کے اندر صرف کتابوں کے مطالعے کے ذریعے نہیں آتی، حکمت کے لیے ایک اور چیز لازمی طورپر ضروری ہے اور وہ اللہ کا خوف ہے- خوفِ خدا کے بغیر آدمی صاحبِ علم تو بن سکتا ہے، لیکن وہ صاحبِ حکمت نہیں بن سکتا- اِس کا سبب یہ ہے کہ حکمت کے لیے معلومات کے علاوہ، ایک اور چیز ضروری ہے اور وہ کامل حقیقت پسندی (realistic approach) ہے- کامل حقیقت پسندی کے لیے ضروری ہے کہ آدمی تواضع (modesty) کی اُس آخری حد پر پہنچ چکا ہو جس کو کٹ ٹو سائز (cut to size) کہاجاتا ہےاور کٹ ٹو سائز انسان (man cut to size) کو وجود میں لانے کا راز صرف ایک ہے اور وہ کامل معنوں میں اللہ کا خوف ہے-
کوئی انسان جب دوسرے انسانوں کے درمیان ہوتا ہے تو ہر انسان اُس کو اپنے ہی جیسا ایک انسان دکھائی دیتا ہے- اِس بنا پر کسی انسان کے اندر یہ طاقت نہیں کہ وہ دوسرے انسان کو کٹ ٹو سائز انسان بنا سکے- یہ واقعہ صرف قادرِ مطلق خدا پر کامل ایمان کے ذریعے حاصل ہوتا ہے- انسان کی اِس فطرت کی بنا پر اِس معاملے میں صحیح فارمولا یہ ہے کہ — قادرِ مطلق خدا پر یقین سے انسان کا کٹ ٹو سائز ہونا، کٹ ٹو سائز انسان کے اندر کامل درجے میں حقیقت پسندی کا آنا اور کامل حقیقت کی بنا پر چیزوں کو ویسا ہی دیکھنا جیسا کہ وہ فی الواقع ہیں- یہی وہ حقیقت پسندانہ سوچ ہے جس کے نتیجے کا نام حکمت (wisdom) ہے- کسی انسان کے اندر یہ صفت ہمیشہ خدا کی نسبت سے پیدا ہوتی ہے، لیکن انسان چوں کہ سماج کے اندر رہتا ہے، اِس لیے اِس صفت کا عملی ظہور انسانی کی نسبت سے ہوتا ہے- انسان کی نسبت سے اِس صفت کے ظہور ہی کا دوسرا نام حکمت ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔