ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں اِس طرح آئی ہے: عن أنس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إذا مررتم بریاض الجنّۃ فارتعوا۔ قالوا: وما ریاض الجنۃ۔ قال: حِلَق الذّکر (سنن الترمذی، رقم الحدیث: 3431 ) یعنی حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو چرنے کی کوشش کرو۔ سوال کیا گیا کہ جنت کے باغات کیا ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ذکر کے حلقے۔
اِس حدیث میں ’حِلَقُ الذکر‘ کا لفظ علامتی معنی (symbolic sense) میں ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہر جگہ تمھارے لیے جنتی تجربے کے مواقع موجود ہیں۔ اِن مواقع کو پہچانو اور اُن کو استعمال کرو۔ اِس طرح دنیا میں تمھاری پوری زندگی جنت کا تجربہ بن جائے گی:
Make your living in this world like living in Paradise.
قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا کو جنت کے متشابہ(similar) بنایا گیا ہے(2:25) ، یعنی موجودہ دنیا میں وہ تمام اجزا محدود طورپر موجود ہیں جو جنت میں لامحدود طورپر موجود ہوں گے۔ موجودہ دنیا جنت کا امپرفیکٹ ورژن (imperfect version) ہے، اور جنت موجودہ دنیا کا پرفیکٹ ورژن (perfect version)۔ جس انسان کو موجودہ دنیا کی اِس متشابہ ِ جنت حیثیت کی دریافت ہوجائے، وہ موجودہ دنیا میں جنت کا تجربہ کرنے لگے گا۔ اُس انسان کے لیے موجودہ دنیا گویا کہ جنت کی چراگاہ بن جائے گی، اُس کو موجودہ دنیا کے ہر تجربے میں جنت کی غذا ملنے لگے گی۔
یہ سارا معاملہ ایمانی شعور کی بیداری کا معاملہ ہے۔ جس آدمی کے اندر ایمانی شعور پوری طرح بیدار ہوجائے، اُس کا یہ حال ہوجائے گا جیسے کہ وہ جنت کے باغوں میں واک (walk) کررہا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے موت کا مطلب یہ ہوگا جیسے کہ کوئی شخص اپنے گھر کے ایک کمرے سے نکل کر اس کے دوسرے کمرے میں داخل ہوجائے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔