ایک مسلم نوجوان نے کہا کہ میرے بہت سے مسائل ہیں- میں اُن مسائل کے لیے اللہ سے بہت دعا کرتا ہوں، لیکن میری دعا قبول نہیں ہوتی- اِس طرح دعا کرتے ہوئے مجھے کئی سال گزر گئے، مگر میراکوئی مسئلہ حل نہ ہوا- میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اب میں کیا کروں-
یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مادی مسائل کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہیں، پھر جب وہ دیکھتے ہیں کہ اُن کا مسئلہ ان کی خواہش کے مطابق حل نہیں ہوا تو وہ مایوسی میں مبتلا ہوجاتے ہیں- دعا بلاشبہہ ایک اعلی عبادت ہے، مگر جہاں تک دعا کی قبولیت کا سوال ہے، اس کا انحصار اللہ کی مرضی پر ہے، نہ کہ بندے کی خواہش پر-
اصل یہ ہے کہ دنیا کی جو مادی چیزیں ہیں، وہ سب کی سب امتحان کے پرچے (test papers) ہیں- کسی انسان کو کن امتحانی پرچوں کے ساتھ آزماناہے، اس کا فیصلہ اللہ کی طرف سے کیا جاتا ہے، نہ کہ انسان کی خواہش کی بنیاد پر- کوئی طالب علم اگر یہ چاہے کہ اس کے امتحان کا پرچہ اس کی مرضی کے مطابق اس کو دیا جائے تو ایسا ہونا ممکن نہیں، کیوں کہ امتحانی پرچے کے معاملے میں سارا فیصلہ تعلیمی ادارے کے ذمے داروں کی طرف سے کیا جاتا ہے، طالب علم کی خواہش کی بنیاد پر اس کا فیصلہ نہیں ہوتا-
ایسی حالت میں دعا کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی دعائیں تو خوب کرے، لیکن دعا کی قبولیت کے معاملے کو وہ تمام تر اللہ کے اوپر ڈال دے- اگر کسی آدمی کی دعا بظاہر قبول نہیں ہورہی ہے تو اس کو یقین کرنا چاہیے کہ یہی اللہ کی مرضی ہے- اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کسی بندے کے لیے خیر کیا ہے- انسان صرف اپنی خواہشوں کو جانتا ہے، نہ یہ کہ اس کا خیر کس چیز میں ہے-
آدمی کو چاہیے کہ وہ ملے ہوئے پر راضی رہے اور نہ ملے ہوئے کے بارے میں وہ یہ دعا کرے کہ خدایا، تو میرے لیے خیر کا فیصلہ فرما (اللہم خرلی واختر لی)-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔