قدیم مدینہ میں ایک مشہور عالم ربیعہ بن فرّوخ التیمی (ربیعة الرأى) تھے- اُن کی وفات 136ہجری میں ہوئی- اُن کا ایک قول یہ ہے: لا ینبغی لأحد عندہ شیئ من العلم أن یضیّع نفسہ (فتح الباری بشرح صحیح البخاری، کتاب العلم، باب رفع العلم) یعنی کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ اس کے پاس علم کا کوئی حصہ ہو اور وہ اپنے آپ کو ضائع کردے-
ہر آدمی کے اندر پیدائشی طورپر کوئی خاص صلاحیت ہوتی ہے-یہی صلاحیت اس کو دوسرے لوگوں سے ممتاز بناتی ہے- آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی اِس خداداد صلاحیت کو پہچانےاور اس کو بھر پور طورپر استعمال کرے- اِسی میں انسان کی کامیابی کا راز بھی ہے اور اِسی میں انسان کی ناکامی کا راز بھی-
اِس معاملے میں انسان کی ناکامی کا سبب کیا ہوتا ہے - اس کا سبب یہ ہے کہ اپنے حالات کے اعتبار سے، ہر آدمی کے اندر کسی چیز سے جذباتی لگاؤ(emotional attachment) پیدا ہوجاتا ہے- دھیرے دھیرے وہ اُس @چیز سے اتنا زیادہ وابستہ ہوجاتا ہے کہ وہی آدمی کی طبیعتِ ثانیہ بن جاتاہے— کسی آدمی کو تفریحی باتوں سے دلچسپی پیدا ہوجاتی ہے، کسی آدمی کو لذیذ کھانوں کا شوق ہوجاتا ہے، کوئی آدمی شہرت (fame)کا گرویدہ بن جاتاہے، کوئی آدمی دولت کی حرص میں جینے لگتا ہے، کسی آدمی کو یہ بات مرغوب ہوجاتی ہے کہ اس کے ارد گرد لوگوں کی بھیڑ دکھائی دے، کسی آدمی کی پسند یہ بن جاتی ہے کہ لوگ اس کی تعریف کرتے رہیں، کسی آدمی کے اوپر اس کی عادتیں غالب آجاتی ہیں اور وہ اُن عادتوںسے باہر نہیں آپاتا، وغیرہ-
یہ سب غیر فطری جذبات ہیں- اِن میں سے کوئی بھی جذبہ اگر آدمی کے اوپر چھا جائے تو وہ اپنی خاص صلاحیت کو دریافت نہیں کرپائے گا- اور بالفرض اگر اُس کو اپنی خاص صلاحیت کا علم ہوجائے، تب بھی وہ ایسا نہیں کرپاتا کہ مضبوط ارادے کے تحت وہ اپنی عادتوں کو چھوڑ دے اور اپنے آپ کو اُس مقصد کے لیے استعمال کرے جس مقصد کے لیے خالق نے اس کو پیدا کیا ہے-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔