← Al-Risala May 2013Al-Risala May 2013
خدا اور پیغمبر
Urdu · 16 min read
پاکستان کے قدرت اللہ شہاب (وفات: 1986) نے اپنی ضخیم کتاب ’’شہاب نامہ‘‘ میں اپنے زمانہ طالب علمی کا ایک تجربہ بیان کیاہے- وہ لکھتےہیں کہ:
’’آبادی سے دور ایک مخبوط الحواس، مجنون صفت، مجذوب نما شخص ویرانے میں بیٹھا رہتا تھا- اور ہمہ وقت اِلاّ اللہ، اِلاّ اللہ کی ضربیں لگاتا رہتا تھا- میں اور میرا ایک ہم عمر ہندو دوست اکثر اس کے پاس جاکر اس کا منھ چِڑایا کرتے اور اس کے ذکر کی نقلیں اتارا کرتے تھے- میرا ہندو دوست اِلاّ اللہ کے وزن پر مہمل، مضحکہ خیز اور کبھی کبھی فحش قافیے جوڑ کر مذاق بھی اڑایا کرتا تھا- مجذوب نے ہمیں بار بار ڈانٹا کہ ہم اللہ کے نام کی بے حرمتی نہ کریں، لیکن ہم باز نہ آئے- ایک روز ہم دونوں اِسی مشغلے میں مصروف تھے کہ ایک شخص اُدھر سے چند نعتیہ اشعار الاپتاہوا گزرا، جس کا ایک مصرعہ یہ تھا:
unverifiedAttribution could not be verified automatically
محمدؐ نہ ہوتے، تو دنیا نہ ہوتی
یہ مصرع سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا- اور اس نے اسمِ محمدؐ کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں- میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اٹھایا، اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زور سے دے مارا کہ اس کا سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا-
لاشعور کی وہ کون سی لہر تھی جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی، لیکن رسول اللہ کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آگئی تھی؟ کوئی شخص رسول خدا کے متعلق بدزبانی کرےتو اکثر لوگ آپے سے باہر ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھتے ہیں- اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں، بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموسِ رسول پر اپنی جانِ عزیز کو قربان کردیا، ظاہری طورپر نہ تو وہ علم وفضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد وتقوی میں ممتاز تھے- ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت کے حق میں مضطرب ہوتاہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے- خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے‘‘- (شہاب نامہ،لاہور، 1988، صفحہ 17-16)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قدرت اللہ شہاب نے جو بات کہی ہے، وہ بلاشبہہ ایک واقعہ ہے- یہ ایک حقیقت ہےکہ تمام مسلمان، غالباً کسی استثنا کے بغیر، اِسی نفسیات کا شکار ہیں- خدا کی بے حرمتی ہو تو مسلمانوں کے جذبات نہیں بھڑکـتے، لیکن رسول کی بے حرمتی ہو تو تمام مسلمان شدید طورپر بھڑک اٹھتے ہیں- فتوے اور بیانات سے لے کر عوامی مظاہرے تک وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں- اِس معاملے میں ان کی جذباتیت کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ تشدد اور توڑ پھوڑ تک کو اپنے لیے جائز سمجھ لیتے ہیں- اِس معاملے کی مثالیں بار بار میڈیا میں آتی رہتی ہیں- اِس کی ایک مثال وہ ہے جو ماہ نامہ الرسالہ (دسمبر 2012، صفحہ 25) میں دیکھی جاسکتی ہے-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خدا اور رسول کے درمیان اِس فرق کا سبب کیا ہے- اِس کے سبب کی تحقیق کیجئے تو اِس کے پیچھے مسلمانوں کی ایک ایسی کمزوری کی دریافت ہوتی ہے جو صرف ایک کمزوری نہیں، بلکہ وہ یقینی طورپر ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے-
خدا کا عقیدہ
خدا کے خلاف لکھنے اور بولنے والے پہلے بھی دنیا میں پائے جاتے تھے، لیکن موجودہ زمانے میں ایسے لوگوں کی تعداد ہزاروں گنا زیادہ بڑھ گئی ہے- فریڈرک نٹشے (Friedrich Nietzsche) مشہور جرمن فلسفی ہے- 56 سال کی عمر میں 1900 میں اس کی وفات ہوئی- جدید فلسفے میں اس کا بہت بڑا درجہ مانا جاتاہے- نٹشے نے کھلے طورپر کہاتھا کہ — خدا مر چکا ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
God is dead. (EB. 13/79)
البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) دورِ جدید کا مشہور ترین جرمن سائنس داں ہے- 76 سال کی عمر میں 1955 میں اس کی وفات ہوئی- خدا کے بارے میں آئن سٹائن کے خیالات کیا تھے، اس کا اظہار آئن سٹائن کے ایک مطبوعہ خط سے ہوتاہے- یہ خط اس نے 3 جنوری 1954 کو اپنی ہینڈ رائٹنگ میں جرمن زبان میں ایک یہودی فلاسفر ایرک بی گٹ کائنڈ (Eric B. Gutkind) کے نام لکھا تھا- اِس خط میں اس نے لکھا تھا کہ — خدا کا لفظ میرے نزدیک اِس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کا ایک اظہار ہے:
unverifiedAttribution could not be verified automatically
The word God is for me nothing more than the expression of human weaknesses.
موجودہ زمانے میں خدا کے عقیدے کے خلاف جو کتابیں لکھی گئی ہیں اور جو مقالات شائع ہوئے ہیں، ان کی تعداد ہزاروں سے بھی زیادہ ہے- اِس نوعیت کی چندکتابوں کے نام یہ ہیں:
God: The Failed Hypothesis, by Victor Stenger, 2007
Society without God, by Phil Zuckerman, 2008
God is not Great, by Christopher Hitchens, 2009
انٹرنیٹ پر اِس نوعیت کی کئی مستقل ویب سائٹس ہیں- مثلاً:
God is Imaginary, God Does not Exist
اِس سے بڑھ کر یہ کہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا علمی موضوع سائنس ہے-سائنس کو موجودہ زمانے کا سب سے زیادہ طاقت ور علمی موضوع سمجھا جاتا ہے- مگر حال یہ ہے کہ سائنس کے تمام شعبوں سے خدا کو مکمل طورپر خارج کردیاگیاہے- سائنس بظاہر تخلیق (creation) کےمطالعے کا نام ہے، مگر سائنس کی تمام شاخوں میں خالق (Creator) کو پوری طرح حذف کردیاگیا ہے- اِس کی آخری حد یہ ہے کہ خود سائنس کے مطالعے سے موجودہ زمانے میں یہ معلوم ہوا ہے کہ کائنات میں واضح طورپر ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) پایا جاتاہے- یہ دریافت اپنے آپ میں ثابت کرتی ہے کہ یقینی طورپر کائنات کے پیچھے ایک ذہین ڈیزائنر موجود ہے- اِس کے باوجود سائنٹفک کمیونٹی (scientific community) خدا کے وجود کو ماننے کے لیے تیار نہیں-
خدا اور مسلمان
یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ علم اور کلچر دونوں اعتبار سے، ایک خدا ناشناس زمانہ ہے- موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ طبقے کا کیس صرف یہ نہیں ہے کہ وہ خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا، بلکہ وہ کھلے طورپر خدا کے عقیدے کا استہزا کرتاہے- وہ کھلے طور پر اُس مذموم روش میں مبتلا ہے جس کو بیان کرنے کے لیے ’’خداکی شان میں گستاخی‘‘ کا لفظ بھی ہلکا ہے- اس کو بیان کرنے کے لیے کوئی شدید تر لفظ وضع کرنا پڑے گا- یہ سب کچھ کسی ایک مقام پر نہیں، بلکہ ساری دنیا میں ہورہاہے- موجودہ زمانے کی لائبریریوں میں ایسی کتابیں کثرت سے موجود ہیں جو خدا کے بارے میں اُس سے بھی زیادہ قابلِ اعتراض ہیں جس کی مثال سلمان رشدی کی کتاب سیٹنک ورسیس (The Satanic Verses) میں پائی جاتی ہے-اِس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ اِس سے کم تر درجے کے کیس میں مسلمانوں کی حمیتِ رسول آخری حد تک بھڑک اٹھتی ہے، جب ;کہ خدا کے معاملے میں ان کی حمیت نہیں بھڑکتی-
unverifiedAttribution could not be verified automatically
مثال کے طور پر ستمبر -نومبر 2012 میں دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر امریکی فلم (Innocence of Muslims) کے خلاف احتجاج (protest) کیا-یہ احتجاج مصر سے لے کر آسٹریلیا تک، بہت سے شہروں میں کیا گیا- اِس میں ہرجگہ مسلمانوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی- کئی جگہ اِس احتجاج نے تشدد اور توڑ پھوڑ کی صورت اختیار کرلی- میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اِس احتجاج میں تقریباً 80 لوگ مارے گئے اور ایک سو سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے- اِس درمیان پراپرٹی کا جو نقصان ہوا، وہ اس کے علاوہ ہے-
نفسیاتی تجزیہ
یہ کوئی سادہ معاملہ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ اِس کے پیچھے مسلمانوں کی ایک مجرمانہ نفسیات پائی جاتی ہے- یہ وہی نفسیات ہے جو مشرکین کے بارے میں قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کی گئی ہے: وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِہِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَاۗىِٕنَا ۚ فَمَا کَانَ لِشُرَکَاۗىِٕہِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰہِ ۚ وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَہُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَاۗىِٕہِمْ ۭسَاۗءَ مَا یَحْکُمُوْنَ (6:136) یعنی خدا نے جو کھیتی اور چوپائے پیداکیے ہیں، اُس میں سے اُنھوں نے خدا کا کچھ حصہ مقرر کیا ہے- پس، اپنے گمان کے مطابق، وہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کا ہے اور یہ حصہ ہمارے شریکوں کا- پھر جو حصہ اُن کے شریکوں کا ہوتا ہے، وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو حصہ اللہ کے لیے ہے، وہ اُن کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے- کیسا برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
لوگ اللہ اور اپنے شرکا کے درمیان جو تفریق کرتے تھے، وہ کوئی سادہ بات نہ تھی- اِس کا سبب دراصل اُن کے غلط مفروضات تھے- انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ بنا رکھا تھا کہ اُن کو دنیا میں جو کچھ ملتا ہے، وہ ان کے شرکا کی برکت سے ملتاہے- اِس خود ساختہ عقیدے کی بنا پر وہ سمجھتے تھے کہ اصل مسئلہ شرکا کو خوش رکھنے کا ہے- اگر شرکا خوش رہیں گے تو ان کے سارے معاملات درست رہیں گے- اِس عقیدے کی بنا پر وہ شرکا کے حصے کو تو پورا کردیتے تھے اور خدا کا حصہ کم کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے-
ٹھیک یہی معاملہ مسلمانوں کا ایک اور اعتبار سے ہے- صحابہ اور تابعین کے بعد مسلمانوں میں جو ذہن بنا، اُس ذہن کے تحت مسلمانوں نے خود ساختہ طورپر یہ کیا کہ انھوں نے اپنے پیغمبر کو سب سے بڑا درجہ دے دیا- انھوں نے اپنے پیغمبر کا درجہ اتنا بڑھایا کہ خدا اُن کے لیے عملاً صرف ایک رسمی عقیدہ بن کررہ گیا- اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ دورِ تصنیف میں مسلمانوں کے لکھنے والوں نے پیغمبر کی عظمت پر ہزاروں کتابیں لکھیں، لیکن وہ اللہ کی عظمت پر کوئی قابلِ ذکر کتاب نہ لکھ سکے-
بعد کے زمانے میں یہ ہواکہ مسلمانوں کے پاس جتنے بڑے بڑے القاب تھے، وہ سب انھوں نے اپنے پیغمبر کو دے دیے- مثلاً سرورِ عالم، شہنشاہِ کونین، تاج دارِ دو عالم، سید الکونین، وغیرہ- اِس قسم کے بڑے بڑے القاب جب پیغمبر کو دے دئے جائیں تو اس کے بعد انسانی الفاظ میں، اللہ کو دینے کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا- اِس بنا پر ایساہوا کہ اللہ کا تصور ایک باعظمت تصور کی حیثیت سے شعوری طورپر مسلمانوں کے ذہن میں باقی نہیں رہا-یہی وہ ذہن ہے جس کی نمائندگی ایک مسلم شاعر نے اِن الفاظ میں کی ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اللہ کے پلّے میں وحدت کے سوا کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہے، لے لیں گے محمد سے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اسلام کی تاریخ
اپنے پیغمبر کے بارے میں بعد کے زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، اس کا ایک سیاسی پس منظر تھا- اصل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ استثنائی طورپر یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک عظیم تاریخ آپ کے نام کے ساتھ وابستہ ہوگئی- آپ کے زمانے میں اور آپ کے اصحاب کے زمانے میں ایک بڑا سیاسی انقلاب پیش آیا- اِس سے پہلے کسی پیغمبر کے زمانے میں اِس قسم کا سیاسی انقلاب پیش نہیں آیا تھا-پیغمبر اسلام نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا موحدانہ مشن شروع کیا، جب کہ اُس وقت آپ ایک فردِ واحدکی حیثیت رکھتے تھے، مگر 23 سال کے بعد جب 632 عیسوی میں آپ کی وفات ہوئی تو پورا عرب آپ کے دین کا پیرو بن چکا تھا- اُس کے بعد آپ کے اصحاب نے آپ کے مشن کو جاری رکھا، یہاں تک کہ اگلے 25 سال کے دوران عرب کے اطراف کے بیش تر ممالک میں آپ کے پیروؤں کا اقتدار قائم ہوگیا- ساسانی ایمپائر اور بازنتینی ایمپائر کا خاتمہ ہوگیا- آپ کی بعثت کے 100 سال کے اندر یہ ہوا کہ آپ کے ماننے والوں نے ایک عظیم مسلم ایمپائر قائم کرلیا، جس کا دبدبہ کم وبیش ہزار سال تک باقی رہا-
یہ سیاسی انقلاب اتنا زیادہ واضح تھا کہ سیکولر مورخین نے بھی کھلے طورپر اس کا اعتراف کیا ہے- مثال کے طورپر ایک امریکی مصنف جان ڈرنک واٹر (وفات: 1937) نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ — وہ عالمی تاریخ میں ایک انتہائی ممتاز انسان کی حیثیت رکھتے ہیں:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
One of the most remarkable men in history of the world. (The Outline of Literature by John Drinkwater, 1923)
other sourceWords of another person or source
انڈیا کے ایک مشہور اسکالر ایم این رائے (وفات: 1954) نے پیغمبر اسلام اور آپ کے بعد بننے والی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ — محمد کا اِس حیثیت سے اعتراف کرنا چاہیے کہ وہ تمام پیغمبروں میں سب سے بڑے پیغمبر تھے- اسلام کی توسیع تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے:
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Muhammad must be recognised as by far the greatest of all prophets. The expansion of Islam is the most miraculous of all miracles. (The Historical Role of Islam, by M. N. Roy, 1939, p. 4)
other sourceWords of another person or source
امریکی مصنف ڈاکٹر مائکل ہارٹ نے ایک کتاب شائع کی ہے- اس میں انھوںنے انسانی تاریخ کے ایک سو ایسے افراد کا ذکر کیا ہے جنھوں نے تاریخ میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل کی-اِس فہرست میں انھوں نے پیغمبر اسلام کو نمبر ایک پر رکھاہے- وہ لکھتے ہیں کہ — آپ تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے- مذہبی سطح پر بھی اور سیکولر سطح پر بھی:
other sourceWords of another person or source
Mohammad was the only man in history who was supremely successful on the religious and secular levels. (Dr. Michael H. Hart, The 100, 1978)
other sourceWords of another person or source
اِسی طرح، ایک امریکی اسکالر چارلس اساوی (وفات: 2000) نے اپنی ایک کتاب میں پیغمبر اسلام کا اعتراف اِن الفاظ میں کیا ہے — یہ کہنا مبالغہ نہیں ہے کہ اگر کوئی ایک شخص ایسا ہے جس نے تاریخ کے دھارے کو بدل دیا، تو وہ شخص محمد تھے:
other sourceWords of another person or source
It does not seem too much to say that if any one man changed the course of history, that man was Muhammad. (Muhammad’s Historical Role, by Charles Issawi, 1950, p. 95)
other sourceWords of another person or source
اِس طرح کے بہت سے سیکولر مصنفین اور غیر مسلم محققین ہیں جنھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ نہایت شان دار الفاظ میں کیا ہے- پیغمبر اسلام کے مشن کے ذریعے تاریخ میں جو انقلابی دور آیا، وہ اتنا عظیم تھا کہ تمام اہلِ علم نے اس کا اعتراف کیا، خواہ وہ سیکولر اہلِ علم ہوں یا مذہبی اہلِ علم- انھوں نے کثرت سے اِس موضوع پر کتابیں لکھیں اور مقالات شائع کیے- مذکورہ چند اقتباسات اِس معاملے کی وضاحت کے لیے کافی ہیں-
خدا کاحصہ پیغمبر کو دینا
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تحت جو عظیم تاریخ بنی، وہ تمام تر منصوبہ الہی کے تحت بنی- پیغمبر اسلام سے پہلے ہزاروں سال کے درمیان خدا کی طرف سے بہت سے پیغمبر آئے- اِن پیغمبروں کے زمانے میں توحید کا اعلان توہوا، لیکن توحید کی بنیاد پر کوئی اجتماعی انقلاب نہ آسکا، جب کہ اللہ تعالی کو مطلوب تھا کہ پیغمبر کے ذریعے ایک ایسا موحدانہ انقلاب برپا ہو جو شرک کے دور کو ختم کرے اور توحید کا دور دنیا میں لے کر آئے- آخر کار اللہ تعالی کی یہ منشا ہوئی کہ وہ تاریخ میں مداخلت کرے اور خصوصی نصرت کے ذریعے وہ انقلاب برپا کرے جو کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے تحت ضروری تھا- اللہ تعالی کے عام منصوبے کے مطابق، اِس منصوبے کی تکمیل اسباب کی صورت میں کی گئی- خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم اِس انقلاب کی بنیادی کڑی تھے-
اللہ تعالی کے اِس خصوصی منصوبے کا آغاز چار ہزار سال پہلے حضرت ہاجرہ، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ہوا- اِس منصوبے کے تحت لمبی مدت کے دوران ایک خصوصی نسل تیار کی گئی جس کو بنو اسماعیل کہاجاتاہے- اِس نسل کی اعلی خصوصیات کی بنا پر ایک مستشرق نے اس کو ہیروؤں کی ایک قوم (a nation of heroes) کا لقب دیا ہے- اِسی خصوصی نسل میں پیغمبراسلام اور آپ کے اصحاب پیداہوئے- اِس کے بعد اللہ کی برتر تدبیر کے تحت بہت سے موافق حالات ظہور میں آئے- یہ اپنے آغاز سے انجام تک، ایک انتہائی اعلی نوعیت کا خدائی منصوبہ تھا- پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کے ذریعے جو عظیم اسلامی تاریخ بنی، وہ در اصل اِسی منصوبہ الہی کا نتیجہ تھی-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
قرآن میں اِس حقیقت کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کے زمانے میں جو تاریخی انقلاب آیا، وہ کسی فرد کا شخصی کارنامہ نہ تھا، بلکہ وہ براہِ راست طورپر اللہ کے ایک برتر منصوبے کا نتیجہ تھا- اِس سلسلے میں قرآن کی دو آیتیں یہ ہیں: یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ ۭ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ -ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰى وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ ۙ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ (61:8-9) یعنی یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں، حالاں کہ اللہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا، خواہ یہ منکروں کو کتنا ہی ناگوار ہو-وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا، تاکہ اللہ اس کو سب دینوں پر غالب کردے، خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار ہو-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اِس حقیقت کو بار بار نہایت واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے- اِس کی ایک مثال یہ ہے کہ آپ کے مشن کے آغاز کے تقریباً 20 سال بعد مکہ فتح ہوا، جو کہ اُس وقت پورے عرب میں ہر اعتبار سے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا- روایات میں آتا ہے کہ فتح مکہ کے وقت جب آپ فاتحانہ حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو احساسِ تواضع کے باعث آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی، حتی کہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ کی داڑھی کجاوے کی لکڑی کو چھورہی ہے- اُس وقت کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر آپ نے جوخطبہ دیا، اُس میں یہ الفاظ تھے:لا إلہ إلا اللہ وحدہ، صدق وعدہ، ونصر عبدہ، وہزم الأحزاب وحدہ ( سنن أبی داؤد، رقم الحدیث: 4547 ) یعنی ایک اللہ کے سوا کوئی اللہ نہیں- اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا- اللہ نے اپنے بندے (محمد) کی نصرت کی اور اللہ نے دشمن کی جماعتوں کو تنہا شکست دے دی-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
حبِ شدید کا تعلق
قرآن میں بتایا گیاہے کہ اہلِ ایمان کو حب شدید (2:165) کا تعلق صرف اللہ سے ہوتا ہے، کسی اور سے نہیں- حُبّ کا مطلب ہے: اسٹرانگ افکشن (strong affection)، یعنی شدید قلبی تعلق- بعد کے دور کے مسلمانوں کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا کہ جذباتی طورپر اُن کے لیے حب شدید کا مرکز اللہ کے بجائے پیغمبر بن گیا- اِس طرح اُن کے جذبات کا مرجع بدل گیا- یہی وجہ ہے کہ وہ اللہ کی اہانت پر مشتعل نہیں ہوتے، لیکن وہ اپنے پیغمبر کی اہانت پر سخت مشتعل ہوجاتے ہیں- بہ الفاظِ دیگر، انھوں نے مشرکین کے طریقےکو اختیار کرتےہوئے یہ کیا کہ اللہ کے کارنامے کو اپنے پیغمبر کا کارنامہ سمجھ لیا، جو کچھ اللہ کے لیے تھا، اس کو انھوں نے اپنے پیغمبر کے حصے میں ڈال دیا-
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
سیرت اور تاریخ کی کتابیں
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیرت ا ور تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ فخر کی نفسیات کے تحت لکھی گئیں- سیرتِ رسول کے موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں کا عنوان غزواتِ رسول (مغازی) بن گیا، اور تاریخ اسلام پر لکھی جانے والی کتابوں کا عنوان شاہ نامہ اسلام اور فتوح البلدان قرار پایا-اِس بنا پر ایسا ہوا کہ سیرتِ رسول اور تاریخ اسلام کی کتابوں میں خدا کا عامل (divine factor) حذف ہوگیا- اسلام کی تاریخ عام طرز کی انسانی تاریخ بن گئی، وہ خدائی تاریخ نہ بن سکی- جب کہ اصل حقیقت کے اعتبار سے، سیرتِ رسول اور اسلامی تاریخ دونوں میں اللہ کا خصوصی منصوبہ کارفرما تھا-
سیرت نگاری اور تاریخ نگاری کا یہی غیر واقعی طریقہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں میں رائج ہوگیا- اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر جو ذہن بنا، وہ شعوری یا غیر شعوری طورپر یہ تھاکہ انھوں نے تاریخ کی تمام عظمتوں کو اپنے پیغمبر کے خانے میں ڈال دیا، جو چیز اصلاً خدا کا حصہ تھی، وہ پیغمبر کا حصہ قرار پائی- اِس کے بعد مسلمانوں کے اندر جو نفسیات بنی، وہ فطری طورپر یہ تھی کہ اُن کو تمام بڑائی اپنے پیغمبر کی طرف دکھائی دینے لگی، مسلمانوں کے اپنے ذہن کے مطابق،اللہ کے حصے میں کچھ بھی باقی نہ رہا- (10 نومبر2013)