پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک روایت، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے- اِس کے مطابق، پیغمبر اسلام نے فرمایا: لقد کان فیما قبلکم من الأمم ناس محدَّثون، فإن یک فی أمتی أحد فإنہ عمر (صحیح البخاری، کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب عمر بن الخطّاب، رقم الحدیث: 3689) یعنی تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، اُن میں محدَّث افراد ہوتے تھے- اگر میری امت میں ایسا کوئی شخص ہوگا تو وہ عمر ہیں-
شارحین حدیث نے محدَّث کی شرح مُکلَّم اور مُلہَم کے الفاظ میں کی ہے، یعنی وہ شخص جس سے فرشتے بات کریں، یا جس پر الہام کیا جائے- انگریزی میں اِس کو انسپائرڈ شخص (inspired person) کہاجاسکتا ہے- شارحین نے اِس کو پُراسرار کرامت کے معنی میں لیا ہے اور محدثین نے اس کو مناقبِ صحابہ یا فضائل صحابہ کے عنوان کے تحت نقل کیا ہے- مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک سنتِ الہی ہے، یعنی انسانی ہدایت کا خدائی انتظام، نہ کہ محض ایک شخصی کرامت-
اصل یہ ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے اللہ نے دو قسم کا انتظام کیا ہے — ایک، پیغمبر کے ذریعے، اور دوسرا، ملہَم انسان (inspired person) کے ذریعے- پیغمبرپر اللہ کی ہدایت ملفوظ وحی کے ذریعے آتی ہے جس کو علما وحیِ متلو کہتے ہیں- اِسی نوعیت کا معاملہ محدث یا ملہم انسان کے ساتھ پیش آتا ہے- اس کو فرشتوں کے ذریعے مسلسل طورپر خدائی رہنمائی ملتی رہتی ہے- اِس کی وجہ سے وہ اِس قابل ہوجاتاہے کہ وہ لوگوں کو ہر صورتِ حال میں صحیح رہنمائی دے سکے- پیغمبر ایک صاحبِ وحی رہنما ہوتاہے، اور محدث انسان ایک صاحبِ الہام رہنما- یہ معاملہ اللہ کی خصوصی رحمت کی بنا پر ہوتا ہے- پیغمبر کے بعد اللہ اگر محدث یا ملہم افراد پیدا نہ کرے تو بدلے ہوئے حالات میں لوگوں کے لیے خدا کی رہنمائی کو جاننا ناممکن ہوجائے- حقیقت یہ ہے کہ صحیح رہنمائی صرف خدائی مدد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے، پیغمبر کے زمانے میں بھی اور محدث انسان کے زمانے میں بھی-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔