قرآن کی سورہ التوبہ میں یہود ونصاری کے دورِ زوال کی ایک کمزوری کا ذکر اِن الفاظ میں کیاگیاہے: اتخذوا أحبارہم ورُہبانہم أرباباً من دون اللہ(9:31) یعنی انھوں نے اللہ کے سوا، اپنے علما اور مشائخ کو اپنا رب بنا ڈالا-
عدی بن حاتم الطائی (وفات: 68ھ) عرب کے ایک عیسائی تھے- مدنی دور میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور اسلام قبول کرلیا- انھوں نے قرآن کی اِس آیت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا- آپ نے اُن کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ یہود ونصاری کا یہ حال ہوگیا کہ اُن کے احبار ورہبان نے حلال کو حرام بتایا اور حرام کو حلال بتایا اور یہود ونصاری نےاس کو مان لیا- یہی وہ چیز ہے جس کا ذکر قرآن میں اِن الفاظ میں کیاگیا ہے کہ— انھوں نے اپنے احبار ورہبان کو اپنا رب بنالیا-
یہ دراصل حاملِ کتاب امتوں کے دورِ زوال کا ایک ظاہرہ ہے- دورِ زوال میں یہ ہوتا ہے کہ خدا کی کتاب اُن کے لیے ان کے دین کا اصل ماخذ نہیں رہتی، بلکہ ان کے علما ومشائخ کے اقوال اُن کے دین کا ماخذ بن جاتے ہیں- دورِ زوال سے پہلے افرادِ امت کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کہتے ہیں: إیتونی شیئاً من کتاب اللہ حتى أقول- لیکن جب دورِ زوال آتا ہے تو وہ کہتے ہیں: إیتونی شیئا من أقوال العلماء حتى أقول- اِس طرح گویا دورِ زوال کا مطلب ہے — دین میں مرجع اور ماخذ کا بدل جانا(change in source of reference) -
موجودہ زمانے میں مسلم ملت کا جو حال ہے، اُس پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ مسلم ملت موجودہ زمانے میں عین اِسی حالت پر پہنچ چکی ہے- مسلمانوں کی تقریر وتحریر کو دیکھئے ، اُن کے اداروں میں جو کلچر رائج ہے، اس پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان حقیقتاً قرآن وسنت پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں، بلکہ عملاً وہ اپنے اکابر کے دین پر کھڑے ہوئے ہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔