Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Al-Risala May 2013
Al-Risala May 2013

بے نیازی کی نفسیات

Urdu · 2 min read

قرآن کی سورہ العلق میں ایک انسانی کردار کو اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے: کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓى ۝ اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰى(96:6-7) یعنی ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتاہے- اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے:

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

Yet man behaves arrogantly, because he thinks himself self-sufficient.

قرآن کی اِس آیت میں ایک انسانی نفسیات کو بتایا گیاہے- یہی نفسیات اکثر لوگوں کی سرکشی کا باعث بن جاتی ہے- یہ نفسیات، بے نیازی کی نفسیات ہے- بے نیازی کی نفسیات جب ترقی کرتی ہے تو وہ خودرائی، سرکشی اور گھمنڈ جیسی برائیوں کا سبب بن جاتی ہے-

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک شخص کے پاس اتنا مال آجائے کہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے- ایک شخص جسمانی اعتبار سے اتنا طاقت ور ہو کہ وہ کسی کی مدد کے بغیر خود اپنا ہر کام کرلے- ایک شخص کے اندر اتنی زیادہ ذہنی صلاحیت ہو کہ وہ کسی کے مشورے کے بغیر خود اپنی عقل سے باتوں کو سمجھ لے اور اپنے عمل کا کامیاب منصوبہ بناسکے- جس شخص کے اندر اِس قسم کی اضافی خصوصیت پائی جائے، وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بے نیاز سمجھ لیتاہے- شعوری یا غیر شعوری طورپر اُس کا یہ ذہن بن جاتا ہے کہ مجھے کسی کے اوپر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں، میں خود اپنے ہر کام کو انجام دے سکتاہوں-

بے نیازی کی یہ نفسیات انسان کے ذہنی اور روحانی ارتقا کے لیے قاتل ہے- ایسے آدمی کا ذہنی ارتقا (intellectual development) رک جائے گا اور اپنی بے نیازانہ نفسیات کی بنا پر ا س کو یہ محسوس بھی نہ ہوگا کہ میرے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رک گیاہے-

بے نیازی بظاہر کوئی برائی نہیں، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے، وہ ایک سنگین برائی کی حیثیت رکھتی ہے- بے نیازی آخر کار آدمی کو کبر (arrogance)تک پہنچاتی ہے اور بلا شبہہ کبر سے زیادہ تباہ کن کوئی اور چیز انسان کے لیے نہیں-

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content