قرآن کی سورہ العلق میں ایک انسانی کردار کو اِن الفاظ میں بتایا گیا ہے: کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓى اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰى(96:6-7) یعنی ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتاہے- اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے:
Yet man behaves arrogantly, because he thinks himself self-sufficient.
قرآن کی اِس آیت میں ایک انسانی نفسیات کو بتایا گیاہے- یہی نفسیات اکثر لوگوں کی سرکشی کا باعث بن جاتی ہے- یہ نفسیات، بے نیازی کی نفسیات ہے- بے نیازی کی نفسیات جب ترقی کرتی ہے تو وہ خودرائی، سرکشی اور گھمنڈ جیسی برائیوں کا سبب بن جاتی ہے-
ایک شخص کے پاس اتنا مال آجائے کہ وہ کسی کا محتاج نہ رہے- ایک شخص جسمانی اعتبار سے اتنا طاقت ور ہو کہ وہ کسی کی مدد کے بغیر خود اپنا ہر کام کرلے- ایک شخص کے اندر اتنی زیادہ ذہنی صلاحیت ہو کہ وہ کسی کے مشورے کے بغیر خود اپنی عقل سے باتوں کو سمجھ لے اور اپنے عمل کا کامیاب منصوبہ بناسکے- جس شخص کے اندر اِس قسم کی اضافی خصوصیت پائی جائے، وہ اپنے آپ کو دوسروں سے بے نیاز سمجھ لیتاہے- شعوری یا غیر شعوری طورپر اُس کا یہ ذہن بن جاتا ہے کہ مجھے کسی کے اوپر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں، میں خود اپنے ہر کام کو انجام دے سکتاہوں-
بے نیازی کی یہ نفسیات انسان کے ذہنی اور روحانی ارتقا کے لیے قاتل ہے- ایسے آدمی کا ذہنی ارتقا (intellectual development) رک جائے گا اور اپنی بے نیازانہ نفسیات کی بنا پر ا س کو یہ محسوس بھی نہ ہوگا کہ میرے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رک گیاہے-
بے نیازی بظاہر کوئی برائی نہیں، لیکن اپنے نتیجے کے اعتبار سے، وہ ایک سنگین برائی کی حیثیت رکھتی ہے- بے نیازی آخر کار آدمی کو کبر (arrogance)تک پہنچاتی ہے اور بلا شبہہ کبر سے زیادہ تباہ کن کوئی اور چیز انسان کے لیے نہیں-
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔